Aasan Quran - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ذرا یہ بتلاؤ کہ چاہے اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرما دے، (دونوں صورتوں میں) کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟ (7)
7: بہت سے کافر یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کا دین ختم ہوجائے گا، چنانچہ وہ آپ کی وفات کا انتظار کر رہے تھے، جیسا کہ سورة طور : 30 میں گذرا ہے۔ یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ چاہے اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ہلاک فرمائے، یا ان پر رحم فرما کر انہیں فتح عطا فرمائے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے) لیکن اس سے تمہارے انجام پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں صورتوں میں کافروں کو عذاب سے ضرور سابقہ پڑے گا۔
Top