Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
ان سے پوچھئے کہ بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا
قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَھْلَـکَنِیَ اللّٰہُ وَمَنْ مَّعِیَ اَوْرَحِمَنَاا فَمَنْ یُّجِیْرُالْـکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الملک : 28) (ان سے پوچھئے کہ بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا۔ ) حقیقت پسندی کی دعوت نبی کریم ﷺ نے جب مکہ معظمہ میں دعوت کا آغاز فرمایا اور آہستہ آہستہ اس کے اثرات پھیلنے لگے تو قریش کے بعض گھرانوں میں بعض لوگ مسلمان ہوگئے، کہیں بیٹا مسلمان ہوگیا، کہیں بیٹی، کہیں بھائی، کہیں چچا، کہیں ماموں، کہیں کوئی کہیں کوئی۔ تو گھر گھر میں اسلام کا چرچا ہونے کے باعث، اسلام اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ مخالفت سے اس دعوت کے اثرات ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہے ہیں تو پھر انھوں نے نبی کریم ﷺ کیخلاف تعویز گنڈے اور ٹونے ٹوٹکے شروع کیے۔ آپ ﷺ کیخلاف بددعائیں ہونے لگیں حتیٰ کہ آپ ﷺ کے قتل کے منصوبے باندھے جانے لگے اور ساتھ ہی ساتھ عوام کو اسلامی اثرات سے بچانے کے لیے اشرافِ قریش نے یہ کہنا شروع کردیا کہ تم اس دعوت کے اثرات سے پریشان نہ ہو یہ عذاب وغیرہ کی دھمکی محض ایک شخص کی خطابت اور شاعری ہے۔ بہت جلد یہ شخص حوادث کی نذر ہوجائے گا۔ اس کی یہ سب باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی۔ یہ ہمیں عذاب سے ڈراتا ہے حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ اور اس کے ساتھی گردش روزگار سے بچ نہیں سکیں گے۔ قرآن کریم نے مختلف مواقع پر اس مضمون کو بیان فرمایا۔ سورة الطور میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اَمْ یَـقُوُلُوْنَ شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ۔ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ ۔ ” کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے اور ہم اس کے لیے گردش روزگار کا انتظار کررہے ہیں۔ کہہ دیجیے ! تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ “ حق و باطل کی کشمکش میں اہل حق کا کردار یعنی تم اپنے گمان کے مطابق ہمارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہو اور ہم تمہارے لیے عذاب کے منتظر ہیں۔ لیکن تقدیری معاملات میں اللہ تعالیٰ کے نبی کبھی جھگڑا نہیں کرتے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ ان سے کہئے کہ تم ہمیں بددعائیں دو یا گردش روزگار کا انتظار کرو، لیکن ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اس نے مجھے یا میرے ساتھیوں کو اگر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا تو وہ اس پر قادر ہے یا وہ ہم پر رحم فرمانا چاہتا ہے تو وہ اس کا بھی حق رکھتا ہے۔ لیکن تمہارے سوچنے کی یہ باتیں نہیں کہ ہم ہلاک ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے کہ ہماری ہلاکت سے تمہارا کوئی کام متعلق نہیں۔ تمہارے سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ تم اپنے بارے میں سوچو۔ کہ جس عذاب سے ہم تمہیں ڈرا رہے ہیں اگر وہ عذاب آگیا اور تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو عذاب ضرور آئے گا تو پھر تم بتائو کہ تمہیں اس عذاب سے یا اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے کون بچانے والا ہے۔
Top