Maarif-ul-Quran - Al-Anbiyaa : 37
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ
خُلِقَ : پیدا کیا گیا الْاِنْسَانُ : انسان مِنْ : سے عَجَلٍ : جلدی (جلد باز) سَاُورِيْكُمْ : عنقریب میں دکھاتا ہوں تمہیں اٰيٰتِيْ : اپنی نشانیاں فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ : تم جلدی نہ کرو
بنا ہے آدمی جلدی کا اب دکھلاتا ہوں تم کو اپنی نشانیاں سو مجھ سے جلدی مت کرو
جلد بازی مذموم
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر تکثیر خیرات و حسنات کی کوشش ہے واللہ اعلم
اور خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں جس طرح کچھ دوسری کمزوریاں رکھ دی گئی ہیں ان میں سے ایک کمزوری عجلت کی بھی ہے اور جو چیز طبیعت اور جبلت میں داخل ہوتی ہے عرب اس کو اسی عنوان سے تعبیر کرتے ہیں کہ یہ شخص اس چیز سے پیدا کیا گیا جیسے کسی کے مزاج میں غصہ غالب ہوگا تو کہا جائے گا کہ یہ غصہ کا بنا ہوا آدمی ہے۔
سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ ، اس میں آیات سے مراد وہ معجزات اور حالات ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے صدق و حقانیت پر شہادت دیتے ہیں (قرطبی) جیسے غزوہ بدر وغیرہ میں یہ نشانیاں کھلے طور پر ظاہر ہوئیں اور انجام کار ان مسلمانوں کا غلبہ سب کی آنکھوں نے دیکھ لیا جن کو سب سے زیادہ ضعیف و ذلیل سمجھا جاتا تھا۔
Top