Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 5
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ
اِنَّ : بیشک الْاَبْرَارَ : نیک بندے يَشْرَبُوْنَ : پئیں گے مِنْ : سے كَاْسٍ : پیالے كَانَ مِزَاجُهَا : اس میں آمیزش ہوگی كَافُوْرًا : کافور کی
جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی
ان الابرار یشربون . ابرار۔ بَرٌّ کی جمع ہے جیسے ارباب ‘ ربٌّ کی یا بارٌّ کی جمع ہے جیسے اشھار ‘ شاھد کی۔ ابرار سے مراد ہیں وہ اہل ایمان جو اپنے ایمان میں سچے اور اپنے رب کے فرمانبردار ہیں۔ برٌّ مصدر ہے۔ برٌّ کا معنی ہے اچھا سلوک اور خیر ‘ اطاعت اور بھلائی میں وسعت (قاموس) یہ تمام اوصاف مؤمنوں کے ہیں۔ من کاس . جوہری نے صحاح میں کہا : کاس ‘ شربت (پانی وغیرہ) سے بھرے ہوئے برتن کو کہا جاتا ہے اور شربت کے خالی برتن کو بھی کاس کہتے ہیں ‘ دونوں طرح اس لفظ کا استعمال ہے۔ کاسٌ خال بھی کہا جاتا ہے اور شربت کاسًا اور شربت کاسًا طیبۃً بھی کہا جاتا ہے۔ میں نے پیالہ پیا۔ یعنی شربت سے بھرا ہوا میں نے پاکیزہ پیالہ پیا یعنی پاکیزہ شربت۔ قاموس میں ہے کاس پینے کا برتن یا پینے کا برتن بشرطیکہ اس میں پینے کی چیز موجود ہو پینے کی کوئی چیز ہو کوئی تخصیص نہیں ‘ نہ شراب کی ‘ نہ شہد کی ‘ نہ دودھ کی ‘ نہ پانی کی۔ شاید آیت میں برتن مراد ہے اور مِن ابتدائیہ ہے یعنی ابرار پینے کی چیزیں پینے کے برتن سے پئیں گے۔ شراب ‘ شہد ‘ دودھ ‘ پانی کچھ بھی ہو یہ بھی احتمال ہے کہ پینے کی چیز مراد ہو خواہ حقیقتاً یا بطور مجاز جیسے ظرف بول کر مظروف مراد ہوتا ہے۔ جری النھر میں نہر سے پانی مراد ہوتا ہے۔ اس وقت من کاسٍ میں مِنْ زائد ہوگا یا تبعیضیہ (کچھ شربت) یا بیانہ (کیا پئیں گے ‘ شربت) یہ بھی ممکن ہے کہ مشروب سے بھرا ہوا برتن مراد ہو اور من ابتدائیہ ہو۔ کان مزاجھا . مزاج ملائی جانے والی چیز ضمیر کاس کی طرف راجع ہے۔ ملائی جانے والی چیز کاس کے ساتھ حقیقتاً مخلوط ہوگی اگر کاس بمعنی مشروب ہو یا مجازاً مخلوط ہوگی اگر کاس سے برتن مراد ہو یعنی برتن کے اندر والے مشروب کے ساتھ ملی ہوئی چیز۔ جیسے اذا نزل السماء بارض قوم رعینا یعنی کسی قوم کی زمین پر جب مینہ برستا تو ہم اس کو یعنی اس سے پیدا ہونے والی گھاس کو چراتے ہیں۔ کافورا . قتادہ نے کہا : اہل جنت کے لیے کافور شربت میں ملایا جائے گا اور مشک کی مہر لگائی جائے گی۔ عکرمہ نے کہا چکھنے میں اس کی خوشبو کافور کی طرح ہوگی جیسے آیت : حتی اذا جعلہ نارًا میں کنارٍ (آگ کی طرح) مراد ہے (یعنی عکرمہ کے نزدیک کافور شربت میں آمیختہ نہ ہوگا بلکہ کافور اً منصوب بحذف حرف جر ہے یعنی کافور کی طرح پیتے وقت خوشبو ہوگی) ۔ کلبی نے کہا : جنت کے ایک چشمہ کا نام کافور ہے جیسے آیت : و مزاجہ من تسنیم آئی ہے۔ تسنیم ایک چشمہ کا نام ہے۔
Top