Al-Qurtubi - Al-Insaan : 19
اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا
اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ مَاْوٰىھُمْ : جن کا ٹھکانا جَهَنَّمُ : جہنم وَلَا يَجِدُوْنَ : اور وہ نہ پائیں گے عَنْھَا : اس سے مَحِيْصًا : بھاگنے کی جگہ
اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) آئیں گے جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوے موتی ہیں
ویطوف علیھم والدان۔۔۔ تا۔۔۔ مشکورا۔ ویطوف علیھم ولدان مخلدون۔ اس میں امر کی وضاحت کی کہ کون ان پر برتن لے کر گھومے گا ان کی وہ بچے خدمت کریں گے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے کیونکہ خدمت کرنا ان کے لیے آسان ہوتا ہے۔ مخلدون سے مراد ہے جس جوانی، حسن وبشاشت پر وہ ہیں اس پر باقی رہیں گے نہ وہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ہی ان میں کوئی تبدیلی ہوگی۔ وہ مرور زمانہ کے باوجود ایک ہی عمر پر رہیں گے ایک قول یہ کا گیا ہے جو ہمیشہ زندہ رہیں گے انہیں کوئی موت نہیں آئے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں کنگن اور بالیاں پہنائی جائیں گی یعنی انہیں زیورپہنایا گیا ہوگا تخلیہ کا معنی زیور پہنانا ہے یہ پہلے بھی گزرچکا ہے۔ اذا رایتھم حسبتھم لولومنثورا۔ ان کے حسن، کثرت اور ان کے رنگوں کی صفائی کی وجہ سے تو انہیں گمان کرے گا وہ مجلس میں بکھرے ہوئے موتی ہیں، موتیوں کو جب قالین پر بچھایاجائے تولڑی میں پروئے جانے کی بنسبت زیادہ خوبصورت لگتے ہیں۔ مامون سے مروی ہے کہ جس رات بوران بنت حسن بن سہیل نے اس کے ساتھ شب زفاف گزاری تو وہ ایک ایسی قالین پر تھا جس کو سونے کی تاروں سے بنا گیا تھا، خلیفہ کی گھر کی عورتوں نے موتیوں کو بکھیر دیا تھا، مامون نے قالین پر بکھرے ہوئے موتیوں کو دیکھا تو اس منظر کو بہت ہی حسین خیال کیا اور کہا، ابونواس کا بھلا ہو گویا اس نے یہ منظر دیکھا تھا جب اس نے کہا، کان صغری وکبری من فقاقعھا، حصباء در علی ارض من الذھب۔ گویا کہ چھوٹے بڑے بلبلے موتیوں کے سنگریزے ہیں جو سونے کی زمین پر پڑے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں بکھرے ہوئے موتیوں سے تشبیہ دی گئی کیونکہ وہ خدمت میں بہت تیز ہوں گے حورعین کا معاملہ مختلف ہے انہیں لولومکنون اور لولو مخزون سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ان سے خدمت نہیں لی جاتی۔
Top