Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
والذین استجابوا لربھم واقاموا الصلوۃ وامرھم شوری بینھم اور (ان لوگوں کیلئے) جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی اور ان کا (ہر) کام (جس میں کوئی خاص نص نہ ہو) آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا اس کا عطف بھی یَجْتَنِببُوْنَ پر ہے ‘ اور ھُمْ یَغْفِرُوْنَ میں لفظ ھُم سے یہ بتانا ہے کہ وہی غصہ کے وقت (بھی) معاف کردینے کے اہل ہیں۔ وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا اور انہوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا ‘ یعنی رب کے حکم پر چلے۔ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی ‘ شورٰی مصدر ہے جیسا فتینا۔ شورٰی کا معنی ہے باہم مشورہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ان کی اپنی رائے ہوتی ہے ‘ اس پر عمل کرنے میں جلدی نہیں کرتے ‘ بلکہ دوسروں سے مشورہ کرتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی مؤمن دوسرے مؤمن سے کسی معاملہ میں مشورہ کرتا ہے تو وہ وہی مشورہ دیتا ہے جس سے مشورہ لینے ولے کو دونوں جہان میں بہبودی حاصل ہو۔ اچھا کام کا حکم دیتا ہے اور برے کام سے روکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس سے مشورہ طلب کیا جائے ‘ وہ امانت دار (یعنی خیرخواہ) ہو (خیانت کار یعنی بدخواہ نہ ہو) رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ والترمذی عن ام سلمۃ وابن ماجۃ عن ابن مسعود۔ طبرانی نے اولاوسط میں حضرت علی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے ‘ وہ امین ہو۔ وہی مشورہ دے جو اپنے لئے اختیار کرنے والا ہو۔ یعنی جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہو ‘ ویسا ہی مشورہ وہ طلب کرنے والے کو دے۔ مطلب یہ ہے کہ خیرخواہ ہو ‘ ایسا نہ ہو کہ اپنے لئے تو ایک بات پسند کرتا ہو اور دوسروں کو اس کے خلاف مشورہ دے۔ طبرانی نے الکبیر میں حضرت سمرۃ بن جندب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے ‘ اس کو امانتدار ہونا چاہئے ‘ خواہ مشورہ دے یا نہ دے۔
Top