Siraj-ul-Bayan - Aal-i-Imraan : 200
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠   ۧ
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوا : ایمان والو اصْبِرُوْا : تم صبر کرو وَصَابِرُوْا : اور مقابلہ میں مضبوط رہو وَرَابِطُوْا : اور جنگ کی تیاری کرو وَاتَّقُوا : اور ڈرو اللّٰهَ : اللہ لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم تُفْلِحُوْنَ : مراد کو پہنچو
مومنو ! ثابت قدم رہو اور مضبوطی پکڑو اور (جہاد میں) لگے رہو اور اللہ ڈرتے رہو ۔ شاید تم اپنی مراد کو پہنچو (ف 1)
1) اس آیت میں سورة ال عمران کا اختتام ہے اور اس میں تقریبا تمام ان اوصاف کا ذکر کیا ہے جو کامیاب انسان کے لئے ضروری ہے ، صبر ‘ مصابرہ اور رباط ، یہ تین چیزیں ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے صبر کے معنی حسب ذیل ہیں :۔ 1۔ توحید ومعرفت میں غور وفکر ۔ 2۔ فرائض ومندوبات پر مدامت ۔ 3۔ مشتبہات سے احتراز ۔ کیونکہ ان ہر سہ معافی میں مشقت وکوفت ہے جس کا برداشت کرلینا صبر ہے ، وقت نظر کی مشکلات سے کون ناواقف ہے ، فرائض ومندوبات پر مداومت بھی دشوار ہے ، اور منہیات سے احتراض سے احتراز تو بہت ہی مشکل امر ہے ۔ اس کے بعد ” مصابرہ “ کا درجہ ہے ، مصابرہ کہتے ہیں ہر اس تکلیف کے برداشت کرنے کو جس کا تعلق دوسرے نفس سے ہے یعنی اعزہ و اقارب کی تکلیفیں ‘ اہل ملک وملت کی تکلیفیں اور مخالفین غیر حکومت کے مصائب ومظالم ، جو شخص ان مشکلات کو برداشت کرلے وہ مصابر ہے ۔ اس کے بعد ” رباط “ کی تلقین ہے ، رباط لغۃ گھوڑے باندھنے کو کہتے ہیں مقصد یہ ہے کہ مخالفین کے لئے ہر وقت خیل وحشم کے ساتھ تیار رہو ۔
Top