بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Urwatul-Wusqaa - Al-Haaqqa : 1
وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
وَاَطِيْعُوا : اور اطاعت کرو اللّٰهَ : اللہ کی وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : اور اطاعت کرو رسول کی فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ : پھر اگر منہ موڑو تم فَاِنَّمَا : تو بیشک عَلٰي رَسُوْلِنَا : ہمارے رسول پر الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : پہنچانا ہے کھلم کھلا
اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اگر تم نے روگردانی کی تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف واضح طور پہنچا دینا ہے
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانو اگر پھر جائو گے تو ہمارے رسول ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے 12 ؎ دکھ ہو یا سکھ ، خوشی ہو یا غمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کو اپنے اوپر لازم رکھو اور خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ دنیا کی کسی چیز میں ثبات نہیں ہے بلکہ ہرچیز عارضی ہے یہاں تک کہ انسان کی زندگی جس کو وہ ہرچیز پر عزیز رکھتا ہے وہ بھی عارضی چیز ہے لیکن اگر تم پھرگئے اور خوشی و آرام کے دنوں میں اس کو بھلا دیا یا غم واندوہ کی تاریک راتوں میں اس کی رحمت سے مایوس ہو کر دل ہار بیٹھے اور بےراہ روی اختیار کرلی تو اس کا نقصان بھی تم ہی کو ہوگا ، کیوں ؟ اس لیے کہ جو نہی تم نے ایسا کیا راستہ سے تم ہٹ گئے اور تمہاری زندگی کی گاڑی پٹڑی سے اتر گئی تو پھر ریل کے پٹڑی سے اترنے سے جو کچھ ہوتا ہے سب لوگ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے پھر یاد رکھو کہ اگر تم نے ایسا کیا تو ہمارے رسول ﷺ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اس کی ذمہ داری صرف بات کو پہنچانے کی تھی ۔
Top