Ahsan-ul-Bayan - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان بخشش کردیا اور وہ اچھا بندہ تھا بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا
1:۔ ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان عطا فرمایا تو داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے میرے بیٹے ! سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ عرض کیا : اللہ کا سکینہ اور ایمان۔ پھر پوچھا : کون سی چیز سب سے زیادہ بری ہے ؟ عرض کیا : ایمان کے بعد کفر) اختیار کرنا) پھر پوچھا : سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ کی رحمت اس کے بندوں کے درمیان پھر پوچھا کونسی چیز زیادہ ٹھنڈی ہے (یعنی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟ ) فرمایا : لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو نبی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ساتھ سوالات : 2:۔ حکیم ترمذی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میں تیرے بیٹے سے سات باتوں کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں اگر اس نے تجھ کو بتادیا تو اس کو علم اور نبوت کا وارث بنادوں گا۔ داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں تجھ سے سات چیزوں کے بارے میں سوال کروں، اگر تو نے مجھے بتادیا تو میں تجھ کو علم اور نبوت کا وارث بنادوں گا۔ عرض کیا : مجھ سے سوال کرو جو چاہو۔ پوچھا : مجھے بتاؤ شہد سے کونسی چیز (زیادہ) میٹھی ہے ؟ اور کون سے چیز برف سے زیادہ ٹھنڈی ہے ؟ اور کونسی چیز ریشم سے زیادہ نرم ہے ؟ اور کونسی چیز ہے جس کا اثرپانی میں نہیں دیکھا جاسکتا ؟ اور کونسی چیز ہے جس کا اثر صفاء (یعنی ملائم پتھر) میں نہیں دیکھا جاسکتا ؟ اور کونسی چیز ہے جس کا اثر آسمان میں نہیں دیکھا جاسکتا ؟ او جو چیز موٹا کرے سرسبز اور خشک سالی میں ؟ سلیمان (علیہ السلام) نے (جواب دیتے ہوئے) فرمایا : وہ چیز جو شہد سے زیادہ میٹھی ہے وہ اللہ کی رحمت ہے ان دو آدمیوں کے لئے جو آپس میں اللہ کے لئے محبت رکھتے ہیں، وہ چیز جو برف سے زیادہ ٹھنڈی ہے وہ اللہ کا کلام ہے جب وہ کھٹکھٹائے اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے دلوں کو وہ چیز جو ریشم سے زیادہ نرم ہے وہ اللہ کی حکمت ہے جب اولیاء آپس میں اس کا ذکر کریں وہ چیز جس کا اثر پانی میں نہیں دیکھا جاسکتا وہ کشتی ہے جو گذر جاتی ہے تو اس کا اثر نہیں دیکھا جاسکتا وہ چیز جس کا اثر چٹان پر دکھائی نہیں دیتا وہ چیونٹی ہے جو پتھر پر چلتی ہے اور اس کا اثر دکھائی نہیں دیتا وہ چیز جس کا اثر آسمان میں دکھائی نہیں دیتا وہ پرندے ہے جو اڑتا ہے اور اس کا اثر آسمان میں دکھائی نہیں دیتا اور وہ دچیز جو موٹی ہوتی ہے خشک سالی اور سرسبزی میں تو وہ مؤمن ہے جب اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرماتے ہیں تو وہ شکر کرتا ہے اور جب مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو صبر کرتا ہے اس کا دل آلودگی سے پاک اور چمکدار ہے۔ فرمایا اپنے بیٹے کی طرف دیکھ اور اس سے چودہ چیزوں کے بارے میں سوال کر اگر وہ تجھ کو بتادے تو اس کو علم اور نبوت کا وارث بنا دے اس سے سوال کیا تو انہوں نے عرض کیا مجھے پڑھانے والا کوئی نہیں داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : مجھے بتاؤ اے میرے بیٹے ! تیری عقل کہاں ہے ؟ کہا : دماغ میں۔ پوچھا حیا کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں آنکھیں۔ پوچھا باطل کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں کان۔ پوچھا : تیری غلطیوں کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : زبان۔ پوچھا : تیرا راستہ کہاں ہے ؟ کہا دونوں نتھنے۔ پوچھا ادب اور بیان کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں گردے۔ پوچھا تیری بدخلقی اور سخت کلامی کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا جگر۔ پوچھا : تیری ہوا کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : پھیپڑا۔ پوچھا : تیری خوشی کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : تلی۔ پوچھا : تیری کمائی کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں ہاتھ۔ پوچھا : تیرے کھڑے ہونے کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں ٹانگیں۔ پوچھا شہوت کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : شرم گاہ۔ پوچھا : تیری اولاد کا دروزاہ کہاں ہے ؟ کہا : ریڑھ کی ہڈی۔ پوچھا : علم اور فہم اور حکمت کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : دل، جب دل بھٹک جائے تو سب اعضاء ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ اور جب دل بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن، نعم العبد، انہ اواب “ (اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا فرمایا وہ بہت اچھا بندہ تھا اور بہت رجوع کرنے والا تھا یعنی اللہ کی اطاعت کرنے والا اور نماز کثرت سے پڑھنے والا (آیت ) ” اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد “ (جب پچھلے دن میں اس کے سامنے اصل اور عمدہ گھوڑے لائے گئے) یعنی گھوڑے۔ صفونھا، یعنی ان کا کھڑا ہونا اور اپنی ٹانگوں کو کشادہ کرنا۔” فقال انی احببت حب الخیر (پھر اس نے کہا : افسوس میں نے اس مال کی محبت میں لگ گیا) یعنی مال کی محبت میں (آیت ) ” عن ذکر ربی “ (اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا) یعنی عصر کی نماز سے (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “ (یہاں تک کہ آفتاب پردہ میں چھپ گیا) 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) ابوہریرۃ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصفنت الجیاد “ (یعنی اصیل اور عمدہ گھوڑے) یعنی وہ گھوڑا جو پیدا کیا گیا (اس طرح پر جیسے اللہ تعالیٰ نے چاہا) 5:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصفنت “ سے مراد صفون القرس یعنی اپنی ٹانگوں میں سے ایک کو کھڑا کرنا یہاں تک کہ گھر کے کونے پر سہارا لینا اور (آیت ) ” الجیاد “ سے مراد ہے تیز دوڑنے والا۔ 6:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) حسن (رح) و قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصفنت الجیاد “ سے مراد ہے گھوڑے اور (آیت ) ” الصفنت “ سے مراد ہے ان کا کھڑا ہونا پاؤں کا سیدھا کرنا ہے تو ان کی گردنیں اور پنڈلیاں اٹھی ہوتی ہے (آیت ) ” احببت حب الخیرعن ذکر ربی “ (اس مال کی محبت میں لگ کر اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا) یعنی خیر سے مراد ہے مال اور گھوڑے اسی میں سے ہیں اور یہ کہنا کہ ان کو غافل کردیا نماز سے فرمایا نہیں اللہ کی قسم ! مجھ کو اللہ کی عبادت سے غافل نہیں کرسکتا گھوڑوں کا گزرنا ان کی پنڈلیوں کو کھول دیا اور ان کی گردنوں کو اڑا دیا۔ 7:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے عوف (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے وہ گھوڑے جس کے پاؤں سلیمان (علیہ السلام) نے کاٹے تھے وہ پروں والے گھوڑے تھے ان کو سمندر سے نکالا گیا، نہ آپ سے پہلے ایسے گھوڑے تھے اور نہ ہی اس کے بعد ایسے گھوڑے تھے۔ 8:۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حب الخیر “ سے مراد ہے (آیت ) ” مال ردوھا علی “ (یعنی گھوڑوں کو مجھ پر واپس لاؤ) یعنی گھوڑوں کو (آیت) ” فطفق مسحا “ (گھوڑوں کا کاٹنا شروع کیا) یعنی تلوار کے ساتھ کاٹنا مراد ہے۔ 9:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ نماز جو سلیمان (علیہ السلام) سے رہ گئی تھی وہ عصر کی نماز تھی۔ 10:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “ (یہاں تک کہ سورج پر دہ کے پیچھے چھپ گیا) یعنی وہ پردہ سبز یاقوت کا ہے جس نے ساری مخلوق کو گھیرے رکھا ہے۔ اس میں سے آسمان کی سبزی ہے۔ اس لئے اس کو سبز آسمان کہا جاتا ہے۔ اور سمندر آسمان کی وجہ سے سبز ہوتا ہے اس وجہ سے سبز سمندر کہا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کے پر : 11:۔ ابو داؤد نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عزوۂ تبوک یا خیبر سے واپس تشریف لائے میں آئی اور میں نے گڑیوں سے پردہ ہٹایا آپ نے پوچھا عائشہ کیا ہے ؟ عرض کیا یہ میری گڑیاں ہیں اور ان کے درمیان ایک گھوڑا دیکھا کپڑے کے ٹکڑوں سے جس کے پر بنائے گئے تھے پھر پوچھا یہ کیا ہے جو میں ان کے درمیان دیکھ رہا ہوں عائشہ ؓ نے فرمایا یہ گھوڑا ہے جس کے دو پر ہیں پوچھا وہ کیا ہے جو اس کے اوپر ہے ؟ میں نے کہا : دو پر ہیں۔ فرمایا : گھوڑا اور اس کے پر (عجیب بات ہے ) ۔ عائشہ ؓ نے فرمایا : کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑے کے دو پر تھے۔ (یہ سن کر) آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں۔ 12:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد “ یعنی بیس ہزار گھوڑے تھے پروں والے جن کی ٹانگیں آپ نے کاٹ دیں۔ 13:۔ ابن اسحاق (رح) وابن جریر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “ فرمایا کہ وہ ایک بستی کے پیچھے چھپ گیا اور آسمان کی سرسبزی اسی سے ہے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) سے کوئی کلام نہیں کیا جاتا تھا ان کی تعظیم کرتے ہوئے ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ ان سے بات کریں۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عن ذکرربی “ میرے رب کی یاد سے (غافل کردیا) (آیت ) ” فطفق مسحا “ (ان کو تلوار سے مارنا شروع کیا) یعنی گھوڑوں کی گردنوں پر بالوں اور ان کی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ 16:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں، اسماعیل نے اپنی معجم میں اور ابن مردویہ (رح) نے (حسن سند کے ساتھ) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے (آیت) فطفق مسحا بالسوق والاعناق “ کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو تلوار کے ساتھ کاٹنے لگے۔
Top