Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 16
وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا رَبَّنَا : اے ہمارے رب عَجِّلْ : جلدی دے لَّنَا : ہمیں قِطَّنَا : ہمارا حصہ قَبْلَ : پہلے يَوْمِ الْحِسَابِ : روز حساب
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے
16۔ 17 تفسیرابو العالیہ تفسیر سدی 2 ؎ تفسیر ضحاک اور تفسیر کلبی میں جو شان نزول اس آیت کی چند روایتوں سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے۔ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے جب یہ سنا کہ قیامت کے دن دائیں اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے۔ ان کو بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی۔ تو مسخرا پن سے وہ مشرک یہ کہتے تھے۔ کہ وہ جنت کی نعمتیں دنیا میں ہی ہم آنکھوں سے دیکھ لیویں تو شاید ہم کو کچھ یقین آوے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرما دیا۔ کہ اے رسول اللہ کے ان نادانوں کی ایسی باتوں پر صبر کرنا چاہئے۔ وقت پر اپنے کئے کو خود یہ لوگ بھگت لیویں گے۔ بعضے مفسروں نے لکھا ہے۔ کہ جہاد کے حکم سے آیت کا ٹکڑا اصبر علی مایقولون منسوخ ہے مگر صحیح قول یہی ہے۔ کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اب آگے آنحضرت کا دل بہلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤود کے قصہ کا ذکر فرمایا قط کے معنی لکھے ہوئے کاغذ کے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سعید بن جبیر کے قول کے موافق آیت کا وہی مطلب ہے جس کا ذکر اوپر گزرا کہ وہ لوگ مسخرا پن سے سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال کا آجانا۔ اور اس کے ذریعہ سے جنت کی نعمتوں کو یا الٹے ہاتھ میں نامہ اعمال آن کر دوزخ کے عذاب کو دنیا میں ہی دیکھ لینا چاہتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا۔ کہ ان لوگوں کے مسخرا پن پر صبر کیا جاوے۔ صحیح سند سے ترمذی 3 ؎ ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں سفیان ؓ بن عبد اللہ ثقفی سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زبان کو انگلیوں میں پکڑ کر یہ فرمایا کہ یہ زبان بھی آدمی کے حق میں بڑے خوف کی چیز ہے۔ اس حدیث کو آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ بت پرستی کے وبال کے علاوہ مشرکین مکہ اس وبال میں بھی قیامت کے دن پکڑے جاویں گے۔ کہ مسخرا پن کے طور پر ایسی باتیں منہ سے نکالتے تھے جس کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے۔ (2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 297 ج 5۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ۔ ص 100 ج 2)
Top