Mufradat-ul-Quran - Saad : 16
وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا رَبَّنَا : اے ہمارے رب عَجِّلْ : جلدی دے لَّنَا : ہمیں قِطَّنَا : ہمارا حصہ قَبْلَ : پہلے يَوْمِ الْحِسَابِ : روز حساب
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے
وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ۝ 16 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤ نگا لہذا اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔ قط قال تعالی: وَقالُوا رَبَّنا عَجِّلْ لَنا قِطَّنا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسابِ [ ص/ 16] الْقِطُّ : الصّحيفة، وهو اسم للمکتوب والمکتوب فيه، ثم قد يسمّى المکتوب بذلک کما يسمّى الکلام کتابا وإن لم يكن مکتوبا، وأصل الْقِطِّ : الشیء المقطوع عرضا، كما أنّ القدّ هو المقطوع طولا، والْقِطُّ : النّصيب المفروز كأنّه قُطَّ ، أي : أفرز، وقد فسّر ابن عباس رضي اللہ عنه الآية به وقَطَّ السّعر أي : علا، وما رأيته قَطْ ، عبارة عن مدّة الزمان المقطوع به . وقَطْنِي : حسبي . ق ط ط ) القط حصہ حساب کا رجسٹر قرآن میں ہے : ۔ وَقالُوا رَبَّنا عَجِّلْ لَنا قِطَّنا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسابِ [ ص/ 16] اور کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے القط اصل میں صحیفہ کو کہتے ہیں پھر کو چیز یعنی حکم وغیرہ لکھا گیا ہو اور جس چیز میں لکھا گیا ہو دونوں کو قط کہنے لگے ہیں اور کبھی صرف اس ( فیصلہ وغیرہ کو قط کہا جاتا ہے جو کسی چیز پر لکھا گیا ہو جیسا کہ کلام کو کتاب کہا جاتا ہے اگر چہ وہ لکھی ہوئی نہ ہو اصل میں قط اس چیز کو کہا جاتا ہے جو عرض میں قطع کی گئی ہو جیسا کہ اس کے بالمقابل ) قد اس چیز کو کہا جاتا ہے جو طول میں قطع کی گئی ہو ۔ پھر ( محاورہ میں ) اس معین حصہ کو ( بھی ) قط کہا جاتا ہے جو کاٹ کر الگ کرلیا ہو چناچہ حضرت ابن عباس نے آیت مذکور ہ میں یہی معنی مراد لئے ہیں ۔ مارایت قط میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا تو قط سے خاص زمانہ مراد ہے ۔ قطنی ) اسم فعل ) مجھے کافی ہے ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔
Top