Tafseer-e-Haqqani - Saad : 16
وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا رَبَّنَا : اے ہمارے رب عَجِّلْ : جلدی دے لَّنَا : ہمیں قِطَّنَا : ہمارا حصہ قَبْلَ : پہلے يَوْمِ الْحِسَابِ : روز حساب
اور (تمسخر سے) کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارا حصہ ہم کو حساب کے دن سے پہلے ہی دے چک۔
ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔ تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔ وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے چند انبیائِ الو العزم کا تذکرہ کرتا ہے کہ دنیا میں غموم و ہموم و مصائب پر وہ بھی برداشت کرتے آئے ہیں اور ان کو بھی اپنی امت کے بےسمجھ اور جاہلوں سے سابقہ پڑا ہے۔ منجملہ ان کے حضرت دائود ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرماتا ہے۔ واذکر عبدنا داؤد کہ ہمارے بندے دائود کو یاد کر جس کو یہ فضیلتیں حاصل تھیں۔ (1) وہ قوت والا تھا جسمانی قوت کے سوا سلطنت کی بھی قوت دی گئی تھی اور اس پر روحانی قوت بھی تھی۔ (2) باایں ہمہ وہ خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے، ان لوگوں جیسے نہ تھے جو ذرا سی دولت و قوت میں بےہوش ہوگئے۔ (3) پہاڑ اور پرند صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح میں شریک ہوتے تھے، اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔ (4) اس کی حکومت و سلطنت کو بھی ہم نے مستحکم کیا تھا، بہت سے بادشاہ فرات سے لے کر مصر تک اس کے مطیع تھے۔ (5) اس کو حکمت عطاء ہوئی تھی، ہر ایک قسم کے علوم نظریہ و عملیہ۔ (6) اس کو گویائی بھی بڑی دی گئی تھی۔ فصل الخطاب بڑے فصیح وبلیغ اور پر گو تھے۔ اس کے بعد ان پر جو ایک عجیب و غریب واقعہ گزرا ہے۔ اس کو بطور استفہام کے شوق دلانے کے لیے بیان فرماتا ہے۔ فقال و ھل اتاک نباء الخصم یہ واقع موافق عبارت قرآنیہ کے یوں ہے کہ دو شخص دائود کے پاس محراب یعنی خلوت خانہ میں دیوار پھاند کر آئے۔ ای قال تسورت تسورًا اذا علوتہ ای اتوہ من سورة و ھو اعلاہ و المحراب المرادمنہ البیت الذی کان داؤد یدخل فیہ و یشتغل بطاعۃ بہ وسمی بالمحراب لاشتمالہ علی المحراب کما یسمی الشیء باشرف اجزایۃ (کبیر 2) ففرع منہم دائود گھبرائے۔ یہ اس لیے کہ یہ دن کسی کے آنے کا نہ تھا دروازہ پر پاسبان تھے، اس سے سمجھے کہ دشمن نہ ہوں کیونکہ ان دنوں دائود ( علیہ السلام) سے فلسطانیوں کی لڑائی جاری تھی، اس لیے انہوں نے عرض کیا کہ ہم دو شخص اہل مقدمہ ہیں، فیصلہ کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں۔ لاتخف آپ ہم کو دشمن جان کر نہ ڈریں، اس کے بعد مقدمہ شروع کیا چونکہ فرصت کا وقت جان کر خلاف قاعدہ شاہی دیوار پھاند کر آئے تھے، جس پر دائود کے دل میں خطرہ پیدا ہوا اور غصہ بھی آیا ہو، جس پر انہوں نے تسلی دی۔ تب ایک نے کہا میں اور یہ میرا دوست جھگڑتے ہوئے آئے ہیں، ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے… فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط آپ غصہ کو جانے دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے، یہ بات انہوں نے یا تو دائود کا غصہ دیکھ کر کہی یا جس طرح عام جاہل لوگ حکام سے مقدمات کے وقت اپنے خیالات کے بھروسہ پر ایسے بےباکانہ الفاظ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ظلم نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اب قضیہ بیان کرنے لگے، ان ھذا اخی الخ کہ اس بھائی کے پاس ننانویں دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک۔ پھر یہ اس کو بھی مجھ سے مانگتا ہے۔ وعزنی فی الخطاب اور سخت گوئی اور بدزبانی بھی کرتا ہے۔ دائود ( علیہ السلام) نے سن کر کہا اس نے تجھ پر اس خواہش میں ظلم کیا اور اکثر باہمی شریک ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں باہم شریک ہوں گے، اس ایک والے کا حصہ بہت کم ہوگا یا کوئی ایسی شرط ہوگی کہ جس سے بڑا حصہ دار اس کو ایک دنبی کا بھی مالک نہ خیال کرتا ہوگا، نوکر جانتا ہوگا۔ وظن داؤد انما فتناہ اور دائود سمجھ گئے کہ اس میں خدا نے میرے حلم و انصاف کا امتحان کیا ہے کہ ان دو شخصوں کے بےقاعدہ آنے اور سخت زبانی کرنے پر بھی انصاف کرتا ہوں یا شاہی زور میں غصہ کرکے ان کو نکلوا دیتا ہوں اور بادشاہوں کی عادت ہے کہ جو بےموقع اور گستاخانہ ان سے داد خواہی کے لیے آتا ہے تو گستاخی کی سزا دیتے ہیں۔ (کوئی شخص لاٹ صاحب کی بگھی تھام کر دیکھ لے) فاستغفر ربہ واناب اس پر دائود نے اپنے رب سے معافی مانگی اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ معافی اس پر مانگی کہ دل میں بےقاعدہ آنے اور بےباکانہ بات چیت کرنے پر کچھ جوش آیا ہوگا جو مقتضائے بشریت و حکومت ہے۔ فغفرنالہ ذلک ہم نے دائود کی یہ بات معاف کردی۔ وان لہ عندنا لزلفی وحسن مآب اور ان کے لیے ہمارے نزدیک مرتبہ اور عمدہ ٹھکانا ہے کہ ذرا سی بات پر بھی سجدہ میں گرپڑے اور اس کو بڑا گناہ سمجھ کر خدا سے معافی مانگی اور روئے۔ اچھے لوگ ذرا سی بات کو بھی پہاڑ سمجھا کرتے ہیں۔ اس امتحان میں پورا نکلنے کے سبب دائود ( علیہ السلام) نے ثابت کردیا کہ میں خلافت اور انصاف کی کرسی پر بیٹھنے کے لائق ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اس عہدہ کے لیے ممتاز فرمایا اور کہہ دیا یا داؤد و انا جعلناک خلیفۃ فی الارض کہ ہم نے تم کو زمین پر اپنی طرف سے خلیفہ حاکم یا نائب کیا ہے۔ فاحکم بین الناس بالحق پس آپ لوگوں کے انصاف سے فیصلے کیا کیجئے۔ ولا تتبع الہوی الخ اور اپنی خواہش پر نہ چلئے جو لازمہ سلطنت ہے، کیونکہ جو اپنی مرضی پر چلتے ہیں، قانونِ الٰہی کا اتباع نہیں کرتے، ان کو قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ یہ ہے وہ واقعہ اور قرآن مجید کے الفاظ اسی پر چسپاں ہیں اور اسی کے تمام اہل حق قائل ہیں۔ امام رازی و بیضاوی و صاحب شرح مواقف وغیرہ جمہور مفسرین اس میں آنحضرت ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ ان جاہلوں، سرکشوں کی بدزبانی اور بےہودہ گوئی کا خیال نہ کریں جو آپ کو ساحر کذاب وغیرہ کہتے ہیں۔ دائود کو دیکھو کہ باوجود سلطنت و شوکت کے ان سے جاہلوں نے کیا معاملہ کیا، جس پر انہوں نے صبر کیا، مگر دوسری کتاب صمویل کے گیارہویں باب میں یوں لکھا ہے کہ ایک روز دائود بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلتے تھے۔ انہوں نے ایک نہایت خوبصورت عورت کو نہاتے دیکھا، اس کا نام بنت سبع انعام کی بیٹی اور حنی اور یاہ کی جورو تھی، اس کو بلوایا اور اس سے صحبت کی جس سے وہ حاملہ ہوگئی اور گھر چلے گئے، اس عرصہ میں اس کا خاوند بھی جنگ سے یروشلم میں آیا اور دائود نے اس کے ہاتھ اس کے افسر یواب کے لیے خط دے کر پھر لشکر میں بھیج دیا، اس میں یواب کو لکھ دیا تھا کہ اور یاہ کو جنگ میں ایسے موقع پر آگے کرنا کہ مخالف سے بچ کر نہ آوے، چناچہ یواب نے ایسا ہی کیا اور یاہ قتل ہوگیا۔ اس کی خبر دائود کو ملی چند روز عدت کے گزر جانے کے بعد دائود نے اس عورت کو اپنے گھر میں ڈال لیا۔ پھر اس کتاب کے بارہویں باب میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ناتن نبی کو دائود کے پاس بھیجا۔ اُنہوں نے جاکر دائود سے پوچھا کہ ایک شہر میں دو شخص تھے، ایک بڑا مالدار بیشمار بھیڑ بکری رکھتا تھا، دوسرا کنگال کہ جس کے پاس بجز ایک بھیڑ کے اور کچھ نہ تھا جو اس نے پالی تھی اور اس کی گود میں سوتی تھی، اس مالدار نے اپنے مہمان کے لیے اس کی بھیڑ کو لے کر ذبح کر ڈالا، دائود نے سن کر کہا وہ شخص واجب القتل ہے، تب ناتن نے کہا، وہ شخص تو ہی تو ہے۔ خدا فرماتا ہے، میں نے تجھ کو سب کچھ دیا اور بھی دیتا مگر تو نے اور یاہ کو قتل کردیا اور اس کی جورو کو لے لیا، خدا فرماتا ہے تیرے گھر پر سے تلوار نہ اٹھے گی اور تیری جو روئوں کو تیرے سامنے کھلے میدان میں تمام بنی اسرائیل کے سامنے تیرے ہمسایوں سے خراب کر ائوں گا۔ اس کے بعد دائود اپنے گناہ کے مقر ہوئے ناتن نے کہا تیرا گناہ خدا نے بخش دیا، پھر وہ لڑکا جو زنا سے پیدا ہوا تھا مرگیا اور اس کے بعد اس سے سلیمان پیدا ہوا انتہٰی ملخصًا۔ بعض بےہودہ گو قصہ خوانوں نے اس قصہ کو حضرت دائود ( علیہ السلام) کے اس واقعہ کی تفسیر میں چسپاں کردیا کہ جو آیات مذکورہ میں تھا مگر قدمائِ اسلام اس کے سخت منکر تھے اور ہیں، چناچہ سعید بن المسیب و حارث اعور نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص دائود ( علیہ السلام) کی نسبت اس قصہ کو نقل کرے گا، میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے ماروں گا جو انبیاء پر بہتان باندھنے کی سزا ہے۔ (ابن کثیر) قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اس قصہ کا ہرگز اعتبار نہ کرنا چاہیے، کیونکہ نہ قرآن مجید میں اس کی تصریح ہے، نہ کسی صحیح حدیث میں۔ مؤرخین کی باتیں ہیں جن کو بعض مفسرین نے تفسیر میں لکھ دیا۔ انتہٰی۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ آیات میں واقعہ کے اول بھی دائود ( علیہ السلام) کی مدح ہے اور بعد میں بھی پھر کیونکر عقل میں آسکتا ہے کہ جس نے ناحق ایک دیندار کو قتل کرایا اور اس کی جورو چھین لی جس سے بڑھ کر شرک کے بعد اور کیا گناہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ اس کی مدح کرے۔ اور اس پر طرہ یہ ہے کہ جو لوگ خصمان سے مراد دو فرشتے لیتے ہیں کہ وہ آدمیوں کی صورت میں آئے تھے، وہ معاذ اللہ فرشتوں کو بھی جھوٹ بولنے کا مرتکب بناتے ہیں۔ انبیاء سے ایسی باتوں کا ظہور میں آنا خلاف عقل و نقل ہے، وہ پاک دامن اور معصوم تھے۔ رہی کتاب صموئیل جس کی تقلید بعض حمقائِ اسلام نے کی ہے، سو آج تک پورا پتا اہل کتاب کو بھی نہیں ملتا کہ اس کا کون مصنف ہے ؟ وہ ایک تاریخ کی کتاب یہود میں مروج تھی جس کو یہود و نصاریٰ نے خواہ مخواہ الہامی فرض کرلیا۔ اس کے علاوہ خود انہی کی کتابوں میں کہ جن کو وہ الہامی مانتے ہیں۔ حضرت دائود ( علیہ السلام) کی بہت مواضع میں مدح اور پاکیزگی اور باخدا ہونا اور ان پر برکت نازل ہونا وغیرہ باتیں لکھی ہیں۔ پھر نہیں معلوم کہ ایسے شخص کی مدح کس نے لکھ دی اور جو مدح ٹھیک ہے تو قطعاً یہ قصہ کسی دشمن نے لکھ دیا۔
Top