Al-Quran-al-Kareem - Saad : 36
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ
فَسَخَّرْنَا : پھر ہم نے مسخر کردیا لَهُ : اس کے لیے الرِّيْحَ : ہوا تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے رُخَآءً : نرمی سے حَيْثُ : جہاں اَصَابَ : وہ پہنچنا چاہتا
تو ہم نے اس کے لیے ہوا کو تابع کردیا جو اس کے حکم سے نرم چلتی تھی، جہاں کا وہ ارادہ کرتا تھا۔
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ : یعنی ہم نے سلیمان ؑ کی دعا قبول کرلی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا ان کے تابع کردی، وہ جہاں کا ارادہ کرتے ادھر نرم ہو کر چل پڑتی۔ سورة انبیاء (81) میں اسے ”عاصفۃ“ (تند) بیان کیا ہے۔ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں کہ ہوا نہایت تند و تیز ہو، مگر ایسی ہموار کہ جسے اٹھایا ہے اسے کوئی جھٹکا تک محسوس نہ ہو، جیسا کہ آج کل ہوائی جہازوں کا حال ہے۔
Top