Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 38. Saad · Ayah 36

Tafseer
  1. فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ﴿36﴾

    1. فَسَخَّرْنَاپھر ہم نے مسخر کردیا
    2. لَهُاس کے لیے
    3. الرِّيْحَہوا
    4. تَجْرِيْوہ چلتی تھی
    5. بِاَمْرِهٖاس کے حکم سے
    6. رُخَآءًنرمی سے
    7. حَيْثُجہاں
    8. اَصَابَوہ پہنچنا چاہتا
Translation · Tafheem-ul-Quran
تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة صٓ 37 اس کی تشریح سورة انبیاء کی تفسیر میں گزر چکی ہے (تفہیم القرآن جلد سوم، ص 176۔ 177)۔ البتہ یہاں ایک بات وضاحت طلب ہے۔ سورة انبیاء میں جہاں حضرت سلیمان ؑ کے لیے ہوا کو مسخر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں الریح عاصفتۃً (باد تند) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور یہاں اسی ہوا کے متعلق فرمایا گیا ہے تَجْرِیْ بِاَمْرِہ رُخَآءً (وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوا بجائے خود تو باد تند تھی، جیسی کہ بادبانی جہازوں کو چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے، مگر حضرت سلیمان علی السلام کے لیے وہ اس معنی میں نرم بنادی گئی تھی کہ جدھر ان تجارتی بیڑوں کو سفر کرنے کی ضرورت ہوتی تھی اسی طرف وہ چلتی تھی۔