Anwar-ul-Bayan - Saad : 36
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ
فَسَخَّرْنَا : پھر ہم نے مسخر کردیا لَهُ : اس کے لیے الرِّيْحَ : ہوا تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے رُخَآءً : نرمی سے حَيْثُ : جہاں اَصَابَ : وہ پہنچنا چاہتا
پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی
(38:36) فسخرنا۔ فا سببیہ ہے (حضرت سلیمان نے دعا کی اور ہم نے وہ دعا قبول کرلی۔ اور بوجہ اس قبولیت کے) ہم نے (ہوا پر اس کو) مسخر کردیا۔ یا ہوا کو اس کے تابع کردیا۔ سخرنا فعل ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تسخیر (تفعیل) مصدر سے ہم نے تابع کردیا۔ ہم نے بس میں کردیا۔ الریح۔ ہوا۔ ریح اصل میں روح تھا۔ ماقبل کے مکسور ہونے کی بناء پر واؤ کو یاء سیبدل دیا۔ اصل میں اعتبار سے اس کی جمع ارواح اور کسرہ ماقبل کے اعتبار سے ریاح آتی ہے۔ تجعی بامرہ۔ تجری مضارع واحد مؤنث غائب جری وجریان (باب ضرب) سے وہ چلتی ہے وہ جاری ہے۔ بامرہ اس کے حکم سے۔ اس کے حکم کے مطابق۔ رخاء اسم ہے نرم رفتار والی ہوا۔ جو تند نہ ہو۔ رخاوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی نرم ہونے کے ہیں۔ اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ پہنچا۔ وہ آپڑا اس نے پالیا۔ یہاں مراد اراد۔ قصد۔ یعنی جہاں کا وہ ارادہ کریں ادھر کو ہی چلنے لگے۔
Top