Tafseer-e-Madani - Saad : 36
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ
فَسَخَّرْنَا : پھر ہم نے مسخر کردیا لَهُ : اس کے لیے الرِّيْحَ : ہوا تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے رُخَآءً : نرمی سے حَيْثُ : جہاں اَصَابَ : وہ پہنچنا چاہتا
سو ہم نے ہوا کو بھی ان کا ایسا تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم کے مطابق چلتی تھی بڑی (سہولت اور) نرمی کے ساتھ جہاں بھی ان کو پہنچنا ہوتا
51 حضرت سلیمان کے لیے تسخیر ہوا کے معجزے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کیلئے ہوا کو بھی مسخر کردیا تھا وہ ان کے حکم کے مطابق بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتی تھی جہاں ان کو پہنچنا ہوتا تھا "۔ سورة انبیاء میں اس ہوا کے لئے " عاصفۃ "، " باد تند " کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ اور یہاں اسی ہوا کے لئے ۔ { تَجْرِیْ بِاَمْرِہ رُخَائً } ۔ " وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی " فرمایا گیا ہے۔ سو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوا فی نفسہ تو " عاصفۃ " یعنی باد تندہی ہوتی تھی جو کہ بادبانی جہازوں کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ مگر وہ حضرت سلیمٰن کے ارادے کے تابع تھی۔ جدھر آپ (علیہ السلام) کو جانا ہوتا وہ آپ (علیہ السلام) کو ادھر ہی لے جاتی اور آپ کے تخت کو لیکر وہ نہایت نرمی سے چلتی ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے قدرت کی شان بندہ نوازی اور عطا و بخشش کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو مذکورہ بالا امتحان اور آزمائش کے بعد حضرت سلیمان پر قدرت کا یہ خاص فضل و کرم ہوا کہ ہوا کو بھی آپ کیلئے تابع فرمان کردیا گیا۔ اور اس پر آپ ﷺ کو ایسا تصرف بخشا گیا تھا جو آپ سے پہلے کسی کو بھی نہیں بخشا گیا تھا۔ اور ہوا پر آپکو ایسا کنٹرول حاصل ہوگیا تھا کہ آپ کے سفروں کے دوران نہ ہوا کی کمی سے کوئی خلل پڑتا اور نہ اس کی شدت اور تیزی سے۔ اور یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوا تھا۔ اور۔ { حیث اصاب } ۔ میں اصاب کا لفظ ہدف ٹھہرانے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی حضرت سلیمان جس مقام کو بھی اپنا ہدف اور منزل سفر قرار دیتے، بےروک ٹوک اور بغیر کسی موسم اور فصل کا انتظار کیے وہاں کے لیے چل پڑتے۔ اس لیے کہ ہوا آپ کے کنٹرول میں تھی۔ اپنے سفر کے لیے اس کو جب اور جیسا چاہتے سازگار بنا لیتے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Top