Tafseer-e-Mazhari - Saad : 36
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ
فَسَخَّرْنَا : پھر ہم نے مسخر کردیا لَهُ : اس کے لیے الرِّيْحَ : ہوا تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے رُخَآءً : نرمی سے حَيْثُ : جہاں اَصَابَ : وہ پہنچنا چاہتا
پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیرفرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی
فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاء حیث اصاب سو (ہم نے اس کی دعا قبول کی اور) ہوا کو ہم نے اس کا تابع بنا دیا کہ وہ اس کے حکم سے جہاں وہ (جانا) چاہتا ‘ نرمی سے چلتی۔ سخرنا لہ الریح یعنی ہم نے ہوا کو ان کا فرمانبردار بنا دیا۔ رخائنرم رفتار والی ہوا ‘ جو تند نہ ہو یا ان کی مرضی کے خلاف نہ چلے۔ اَصَابَ کا معنی ہے اَرَادَ (جہاں کا وہ ارادہ کریں) عرب کہتے ہیں : اصاب الصواب فاخطأ الجواب اس نے صحیح جواب دینا چاہا ‘ لیکن جواب میں غلط کی۔
Top