Mafhoom-ul-Quran - Saad : 36
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ
فَسَخَّرْنَا : پھر ہم نے مسخر کردیا لَهُ : اس کے لیے الرِّيْحَ : ہوا تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے رُخَآءً : نرمی سے حَيْثُ : جہاں اَصَابَ : وہ پہنچنا چاہتا
پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے نرم نرم چلنے لگتی ان کے حکم کے مطابق۔
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات تشریح : یہ آیات شان کریمی کی روشن دلیل ہیں۔ اللہ کو نخوت غرور نا شکری اور تکبر بےحد ناپسند ہے وہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب ضرور ملے گا۔ اس کے مقابلہ میں استغفار، شکر، عاجزی، انکساری اور فرمانبرداری اس قدر پسند ہے کہ جس کی مثال سیدنا سلیمان ہیں۔ جب انہوں نے صبر و شکر سے استغفار کیا اور دعا مانگی تو ان کی منہ مانگی دعا قبول ہوگئی واقعی آج تک کسی کو ہواؤں، جِنوں اور پھر تمام نعمتوں کو خرچ کرنے پر حساب کتاب سے آزادی نہیں ملی۔ آپ کو پورا اختیار دیا گیا تھا کہ اپنی مرضی سے ہواؤں کو چلاؤ اور جنوں کو بھی آپ کے قبضہ میں کردیا گیا تھا۔ کچھ جِن عمارتیں بناتے کچھ سمندروں سے قیمتی موتی نکال کر لاتے اور جو شیطان اور نافرمان جِن تھے ان کو قید کرنے کا اختیار اور طاقت بھی آپ کو دی گئی تھی۔ یہ طاقت واقعی آپ کے سوا کسی بادشاہ کو نہیں دی گئی اور نہ ہی دی جائے گی۔ اور پھر آخر میں فرمایا کہ ” یقینا اس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور (اچھا ٹھکانا ہے) بہتر انجام ہے۔ “ (آیت 40 )
Top