Tafseer-e-Baghwi - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا
46، انا اخلصناھم، ہم نے آپ کو ان کے لیے چنا۔ ، بخالصۃ ذکری الدار، قراء اہل مدینہ نے ، بخالصۃ، اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات اس کو اضافت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں وہ اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے آخرت کے گھر کو خالص کردیا کہ اسی کے لیے ہم خالص کریں۔ وذکری بمعنی ذکر کے ہے۔ مالک بن دینا کا قول ہے کہ ہم نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور یا دنکال دی اور آخرت کی یاد محبت کے لیے ان کر مخصوص کردیا۔ قتادہ نے ان کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ وہ آخرت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف تبلیغ دیتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ آخرت کا ڈررکھنے کے لیے ان کو مخصوص کرلیا گیا تھا۔ ابن زید نے کہا کہ جس نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے یعنی ہم نے آخرت کی بہترین چیزوں کی یاد کے لیے ان کو مخصوص کرلیا تھا۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو خالص چن لیا مخلصین میں سے۔ جیسا کہ ہم نے آخرت کر ذکر کے متعلق نقل کیا ہے۔
Top