Tafseer-e-Majidi - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا وہ یاد آخرت ہے،47۔
47۔ خاصان خدا اور مقبولین حق کی اصلی اور امتیازی خصوصیت ان کی ہی یاد آخرت اور اس کا استحضار ہوتا ہے۔ (آیت) ” الدار “۔ سے مراد دارالآخرت ہے کہ وہی دار حقیقی ہے۔ وتعریف الدار للعبد فیہ اشعار بانھا الدار فی الحقیقۃ وانھا الدنیا مجاز (روح) فقہاء اور متکلمین نے آیت سے مسائل ذیل کا بھی استنباط کیا ہے۔ 1۔ (آیت) ” انااخلصنھم “۔ سے ظاہر ہورہا ہے کہ فضائل نبوت وہبی ہیں، کسبی نہیں، (آیت) ” اخلصنھم بخالصۃ “۔ اس پر دلیل ہے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ معصیت کی ہلکی سی آمیزش سے بھی خلوص کامل میں نقص آجاتا ہے۔ 2۔ (آیت) ” اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “۔ سے یہ نکلتا ہے کہ انبیاء مخصوص ومامور ہدایت وحق نمائی ہی کے لئے ہوتے ہیں، دوسرے فنون کا ان سے استفادہ محض ایک ضمنی امر ہے۔
Top