Anwar-ul-Bayan - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا
(38:46) اخلصنہم بخالصۃ۔ اخلصنا۔ اخلاص (افعال) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور اس کا مرجع حضرت ابراہیم و حضرت استحق و حضرت یعقوب علیہم الصلوٰۃ والتسلیم ہیں) بخالصۃ باء سببیہ ہے خالصۃ اسم فاعل واحد مؤنث اور اس کی تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ ای خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔ ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی آلائش یا ملاوٹ سے پاک خصلت۔ ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے ان کی ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک خصلت کی وجہ سے ان کو (اپنے لئے) مخصوص کرلیا۔ ای جعلنا ہم خالصین لنا بسب خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔ ذکری الدر۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ خالصۃ کا بیان ہے مضاف مضاف الیہ ہے یعنی الدر کا۔ کی یاد۔ (2) یہ ضمیر مقدر کی خبر ہے ای ہی ذکری الدار (اور یہ خصلت) الدار کی یاد ہے۔ ذکری مصدر ہے بمعنی ذکر کرنا۔ یاد کرنا۔ نصیحت کرنا۔ الدار میں الف لام عہد کا ہے بمعنی الدار الاخرۃ۔ دار آخرت ۔ ذکری الدار۔ دار آخرت کی یاد۔
Top