Ruh-ul-Quran - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
اور ہم نے انھیں امتیاز دیا ایک چنی ہوئی بات کا، اور وہ دارآخرت کی یاد تھی
اِنَّـآ اَخْلَصْنٰـھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ ۔ وَاِنَّھُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ۔ (صٓ: 46، 47) (اور ہم نے انھیں امتیاز دیا ایک چنی ہوئی بات کا، اور وہ دارآخرت کی یاد تھی۔ اور وہ یقینا ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک بندوں میں سے ہیں۔ ) ان پیغمبروں کا خاص مشن پیشِ نظر آیت کریمہ میں متذکرہ انبیائے کرام کی ایک اور صفت کو بیان کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی برگزیدگی اور ان کے ممتاز ہونے کی اصل وجہ تھی کہ ان کی ساری فکروسعی کا محورومدار اور حاصل فکرِآخرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ آیت میں ذِکْرَی الدَّارِخالصتاً سے بدل واقع ہوا ہے اور دار سے مراد دارآخرت ہے۔ اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو یہ کہ وہ دنیا کو اپنا مقصدزندگی نہیں بلکہ اپنی ضرورت سمجھتے تھے۔ اور ضرورت بقدرضرورت اور بوقت ضرورت حاصل کی جاسکتی ہے۔ جسم و جان کی تمام توانائیاں اور قلب و دماغ کی تمام رعنائیاں اس کے لیے وقف نہیں کی جاسکتیں۔ زندگی کا مقصد ایسی چیز ہے جس سے زندگی میں کبھی فراغت نہیں ہوتی۔ یہ زندگی کا سفر بھی ہے اور زندگی کا ہدف بھی۔ کبھی زندگی کا سروسامان مقصد کے حصول کے لیے قربان ہوتا ہے۔ اور کبھی خود زندگی اس قربان گاہ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ یہ دونوں صورتیں انسان کی کامیابی کی ہیں۔ کیونکہ اگر وہ سب کچھ مقصد کی خاطر لٹانے میں کامیاب رہا تو تب بھی اس نے کامیابی پا لی۔ اور اگر زندگی مقصد کے کام آگئی تو تب بھی وہ اپنی کامیابی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسری بات جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آیت میں آخرت کے لیے صرف الدار کے لفظ کا استعمال یہ بتاتا ہے کہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہی نہیں بلکہ یہ ایک گزرگاہ ہے یا ایک مسافر خانہ ہے جس سے آدمی کو بہرحال رخصت ہوجانا ہے، اصل گھر وہی آخرت کا گھر ہے۔ دنیا آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کو اسی طرح ٹھہرنا ہے جس طرح ایک مسافر ایک مہمان خانے میں ٹھہرتا ہے۔ اس کا قیام وہاں مستقل نہیں ہوتا بلکہ اس کی نظر اپنے سفر اور اپنی منزل کی طرف رہتی ہے۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّـکَ غَرِیْبٌ اَوْعَابِرُسَبِیْلٍ ” دنیا میں اس طرح رہ جیسے ایک اجنبی رہتا ہے یا مسافر رہتا ہے۔ “ آنحضرت ﷺ کے گھر کی بےسروسامانی کو دیکھ کر جب حضرت عمرفاروق ( رض) نے تأسف کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دنیا کی دلچسپیوں سے کیا کام، میں تو ایک مسافر ہوں ذرا سستانے کے لیے ٹھہر گیا ہوں۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے ایک مومن کی فکر دنیا کو سنوارنے کی نہیں بلکہ آخرت کو سنوارنے کی ہے۔ وہ دنیا کو سنوارتا ہے لیکن ساتھ یہ احتیاط کرتا ہے کہ اس سے آخرت اجڑنے نہ پائے۔ لیکن آخرت کی قیمت پر دنیا کے سنوارنے میں نہ وقت برباد کرتا ہے نہ سرمایہ ضائع کرتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کی تعلیم دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔ دارِ فانی کی سجاوٹ پر نہ جا نیکیوں سے اپنا اصلی گھر سجا دوسری آیت میں فرمایا کہ یہی ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک لوگ ہیں جو دنیا میں رہ کر بھی ہماری یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔ وہ غذا حاصل کرتے ہیں تو دل میں غذا عطا کرنے والے کی یاد ہوتی ہے۔ وہ رزق کے حصول کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن دل رازق کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ وہ بڑے سے بڑے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی اس بات کو کبھی نہیں بھولتے کہ یہ منصب ایک امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس لیے دیا ہے تاکہ خلق خدا کے حقوق ادا کرو لیکن آخرت میں اس ذمہ داری کے حوالے سے جواب دہی کرنا ہوگی۔ انھیں تخت پر دیکھ کر بھی کوئی شخص یہ نہیں سمجھتا تھا کہ حکمرانی ان کے نفس اور ان کی ذات کو بالابلند کرنے کے لیے ہے۔ بلکہ انھیں دیکھ کر یہ تصور اور پختہ ہوجاتا تھا : ان کی حکومت سے ہے فاش، یہ رمز غریب سلطنتِ اہل دیں فقر ہے شاہی نہیں
Top