تفسیرِ بغوی

Tafseer-e-Baghwi · 4. An-Nisaa · Ayah 44

  1. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ﴿44﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
    2. اِلَىطرف
    3. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    4. اُوْتُوْادیا گیا
    5. نَصِيْبًاایک حصہ
    6. مِّنَسے
    7. الْكِتٰبِکتاب
    8. يَشْتَرُوْنَمول لیتے ہیں
    9. الضَّلٰلَةَگمراہی
    10. وَيُرِيْدُوْنَاور وہ چاہتے ہیں
    11. اَنْکہ
    12. تَضِلُّوابھٹک جاؤ
    13. السَّبِيْلَراستہ
Translation · Tafseer-e-Baghwi
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ
Tafseer · Tafseer-e-Baghwi
تفسیر) 44۔: (آیت)” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتاب “ ۔ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت رفاعہ بن زید مالک بن دخشم کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ آپ ﷺ سے بات کر رہے تھے کہ زبانوں کو گھماپھرا کر آپ ﷺ پر عیب لگاتے تھے۔ ” یشترون “ کہ وہ کلام کو تبدیل کر رہے تھے ” ضلالۃ “ ہدایت سے گمراہی (آیت)” ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ مؤمنین کے راستوں سے ہٹا دیں گے۔