Anwar-ul-Bayan - An-Nisaa : 42
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اٰمَنُوْا : ایمان لائے لَا تَقْرَبُوا : نہ نزدیک جاؤ الصَّلٰوةَ : نماز وَاَنْتُمْ : جبکہ تم سُكٰرٰى : نشہ حَتّٰى : یہاں تک کہ تَعْلَمُوْا : سمجھنے لگو مَا : جو تَقُوْلُوْنَ : تم کہتے ہو وَلَا : اور نہ جُنُبًا : غسل کی حالت میں اِلَّا : سوائے عَابِرِيْ سَبِيْلٍ : حالتِ سفر حَتّٰى : یہاں تک کہ تَغْتَسِلُوْا : تم غسل کرلو وَاِنْ : اور اگر كُنْتُمْ : تم ہو مَّرْضٰٓى : مریض اَوْ : یا عَلٰي : پر۔ میں سَفَرٍ : سفر اَوْ جَآءَ : یا آئے اَحَدٌ : کوئی مِّنْكُمْ : تم میں مِّنَ : سے الْغَآئِطِ : جائے حاجت اَوْ : یا لٰمَسْتُمُ : تم پاس گئے النِّسَآءَ : عورتیں فَلَمْ تَجِدُوْا : پھر تم نے نہ پایا مَآءً : پانی فَتَيَمَّمُوْا : تو تیمم کرو صَعِيْدًا : مٹی طَيِّبًا : پاک فَامْسَحُوْا : مسح کرلو بِوُجُوْهِكُمْ : اپنے منہ وَاَيْدِيْكُمْ : اور اپنے ہاتھ اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ كَانَ : ہے عَفُوًّا : معاف کرنیوالا غَفُوْرًا : بخشنے والا
جس دن وہ لوگ آرزو کریں گے جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کہ کاش ! ان پر زمین برابر کردی جاتی اور یہ لوگ اللہ سے کوئی بات بھی نہ چھپائیں گے۔
قیامت کے دن کافروں کی آرزو کہ کاش زمین کا پیوند ہو جاتے گزشتہ آیت میں جس دن کی گواہی کا ذکر ہے اس دن کی مصیبت اور شدت اور بد حالی اس آیت میں بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ جس دن یہ گواہیاں ہوں گی اس دن کفار اور وہ لوگ جنہوں نے رسولوں کی نافرمانی کی (علی ارادۃ الجنس) اس بات کی تمنا کریں گے کہ ہائے کاش ! ہم آج کے دن دفن کردیے جاتے اور زمین کا پیوند بنا دیے جاتے اور جس عذاب اور مصیبت میں مبتلا ہیں اس سے رہائی ہوجاتی۔ اور اس دن اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے خود اپنے اقرار اور اپنے اعضا وجوارح کے اقرار سے دوزخ میں داخل ہوں گے اس دن حالات مختلف ہوں گے کبھی تو پوشیدہ رکھیں گے اور کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین (کہ قسم ہے اللہ کی جو ہمارے رب ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے) لیکن پھر اعضاء اور جوارح کی گواہیوں کے بعد اپنی نافرمانیوں کا اقرار کرلیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ ہائے کاش ! ہم زمین کا پیوند بنا دیے جاتے۔ (من روح المعانی صفحہ 35: ج 5)
Top