Dure-Mansoor - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
عرض کیا اے میرے رب میری مغفرت فرما اور مجھے ایسا ملک عطا کیجئے جو میرے بعد کسی دوسرے کو میسر نہ ہو، بلاشبہ آپ بڑے دینے والے ہیں
1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) اپنی سند میں طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی دعا نہیں سنی مگر آپ اس کو ” سبحان ربی الاعلی الوھاب “ سے شروع فرماتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ (فرمایا اے میرے رب ! میرے قصور معاف کردیجئے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو) یعنی اس سے ملک نہ چھینا جائے، آپ نے مجھ سے چھین لیا تھا (جیسے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی گم ہوجانے پر حکومت چھین لیا گئی۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ یعنی آپ اس کو نہ چھین لیجئے جیسے آپ نے اس کو چھین لیا تھا۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج رات میری نماز پڑھنے کی جگہ میں شیطان آیا گویا کہ وہ تمہاری یہ بلی ہے میں نے ارادہ کیا کہ اس کو صبح تک باندھ دوں۔ پھر میں نے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا کو یاد کیا (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) ومسلم و نسائی (رح) والحکیم (رح) ترمذی (رح) فی نوادر الاصول وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیو (بڑاجن) گزشتہ رات باربار میرے پاس آیا تاکہ میری نماز کو تڑوادے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابودے دیا میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ کر مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب اس کو دیکھ سکو پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آگئی جو انہوں نے کی تھی (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کرکے لوٹادیا۔ شیطان کا گلا دبانا : 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ شیطان سامنے آگیا میں نے اس کے گلے سے پکڑ لیا میں نے اس کے گلے کو دبایا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے انگوٹھے پر پایا۔ اللہ تعالیٰ سلیمان (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر اس کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کو باندھا ہوتا جس کو تم دیکھتے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں صبح کی نماز کے لئے نکلا تو شیطان مجھے مسجد کے دروازے میں ملا یعنی مسجد کے دروازہ اس نے مجھے دبایا یہاں تک کہ میں نے اس کے بالوں کو چھونے کو پایا۔ میں نے اس کو قابو کرلیا اور میں نے اس کا گلا گھوٹا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے ہاتھ پر پایا اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو تم صبح کو اس کو مقتول دیکھتے۔ 8:۔ احمد نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے (اس میں) قرأت کی تو آپ پر قرأت مشتبہ ہوگئی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے فرمایا کاش تم لوگ مجھے اور ابلیس کو دیکھ لیتے میں نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا میں برابر اس کا گلا گھونٹتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس کی لعاب کی ٹھنڈک کو اپنی ان دوانگلیوں کے درمیان پایا۔ انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی، اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ 9:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر شیطان گزرا میں نے اس کو پکڑا اور میں نے اس کا گلا دبایا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے ہاتھ پر پایا شیطان نے کہا آپ نے مجھے سخت تکلیف دی، آپ نے مجھے سخت تکلیف دی۔ اگر سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ 10:۔ طبرانی (رح) نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان نے میرے آگے سے گزرنے کا ارادہ کیا میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے ہاتھ پر پایا اللہ کی قسم اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا پہلے نہ ہوتی تو میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیتا۔ اور اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ 11:۔ حاکم (رح) نے مستدرک میں عمر بن علی بن حسین (رح) سے روایت کیا کہ میں اپنے چچا اور اپنے بھائی جعفر کے ساتھ چلا میں نے کہا کہ لوگوں نے گمان کیا کہ سلیمان نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اسے ملک عطا فرمائیے اور کہا کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی بادشاہ کسی نبی کی امت میں نہیں رہے گا جتنی عمر حضور ﷺ اپنی امت میں رہے۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کے سامنے سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت اور اس کے ملک کی عظمت کا ذکر کیا گیا کہ آپ کے اصطبل میں بارہ ہزار اصل گھوڑے تھے آپ کے دوپہر کے کھانے پر ہر دن ستر بیل ذبح کئے جاتے تھے یہ مینڈھوں پرندوں اور شکار کے علاوہ تھے وھب سے پوچھا گیا کیا ان کے مال میں اس کی گنجائش تھی ؟ فرمایا جب وہ بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے تو آپ نے یہ شرط لگائی کہ وہ سب ان کے علاوہ ہوں گے اور ان کے مال بھی آپ کی ملکیت ہوں گے جو چاہے اس میں سے لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا سفر : 13:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوخالد بجلی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) ایک اپنی سواری پر سوار ہوئے ان کا تخت رکھا گیا اور وہ اس پر بیٹھ گئے دائیں اور بائیں کرسیاں بچھا دی گئیں۔ ان پر لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، اور جنات ان کے پیچھے تھے اور سرکش جنات اور شیاطین جنات کے پیچھے تھے۔ پرندوں کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے اپنے پروں کے ساتھ ان پر سایہ کردیا اور ہوا سے فرمایا ہم کو اٹھا لے وہ اپنے بعض سفر کا ارادہ کررہے تھے، ہوا نے ان کو اٹھا لیا اور وہ اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ اپنے کرسیوں پر تھے وہ ان لوگوں سے باتیں کررہے تھے اور وہ لوگ ان سے باتیں کررہے تھے کرسی اوپر ہوتی نہ نیچے ہوتی اور پرندے ان پر سایہ کررہے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی سواری کی آواز دور جگہ سے سنائی دیتی تھی بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی اپنی کھیتی میں بیلچے کو لئے ہوئے کھڑا کام کررہا تھا اچانک اس نے آواز سنی اور کہا یہ آواز نہیں ہے مگر سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشکروں کی کہ اسی لمحہ سلیمان (علیہ السلام) کی توجہ ہوئی اور جبکہ آپ اپنے تخت پر تھے اچانک ایک آدمی تیزی سے راستہ کی طرف دوڑا (اس کو دیکھ کر) سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کہا کہ یہ شخص مظلوم ہے، یا کسی حاجت کا طالب ہے ہوا سے فرمایا جب میں وہاں پہنچوں تو ٹھہر جانا ہوا نے آپ کو اور لشکروں کو روک دیا یہاں تک کہ اس آدمی کے پاس پہنچے اور وہ ہانپ رہا تھا سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ کہ اس کا ہانپنا ختم ہوگیا۔ پھر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ : یا تیری کوئی حاجت ہے اور ساری مخلوق اس پر ٹھہر چکی ہے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایک حاجت تیرے پاس لے آئی ہے میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا ملک عطا فرمایا ہے جو اس نے کسی بادشاہ کو عطا نہیں فرمایا اور میرا خیال ہے کہ آپ کے بعد بھی کسی اور کو عطا نہیں فرمائے گا اس کے بارے میں تو کیا پاتا ہے جو تیری بادشاہت گزر چکی ہے فرمایا میں تجھے اس بارے میں خبردیتا ہوں میں سورة اتھا میں نے خواب میں دیکھ پھر میں نیند سے بیدار ہوا۔ پھر میں نے اس کی تعبیر دی اس نے کہا یہ کچھ نہیں مگر یہی پھر اس نے کہا مجھے اس کے بارے میں بتا کہ تو اس وقت کیا پاتا ہے جو چیز تیری بادشاہت میں باقی رہ گئی سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا تو نے مجھ سے سوال کیا ایسی چیز کے بارے میں جس کو میں نے نہیں دیکھا اس نے کہا وہ یہی وقت ہے پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ سلیمان (علیہ السلام) اس کی گرمی کو دیکھنے لگے اور ان باتوں میں سوچنے لگے جو اس نے کہا تھا پھر ہوا سے فرمایا ہم کو لے چل وہ لے چلی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” رخآء حیث اصاب “ میں رخاع سے مراد ہے ایسی ہوا جو جو نہ بہت تیز ہو اور نہ بہت ہلکی ہو یعنی درمیانی رفتار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” غدوھا شھر ورواحھا شھر “ (سباء آیت 12) (اس کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ کا تھا) یعنی وہ بہت تیز نہیں تھی کہ جو ان کو تکلیف دے اور نہ اتنی نرم تھی جو ان پر بھاری ہوجائے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) سلیمان بن عامر شیبانی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم سلیمان (علیہ السلام) اور اس کی بادشاہت کو جانتے ہو انہوں نے تواضع کی وجہ سے اپنی نظر کو آسمان کی طرف نہیں اٹھایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو قبض کرلیا۔ 15:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی نظر کو آسمان کی طرف نہیں اٹھایا عاجزی اختیار کرتے ہوئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا اور جو کچھ عطا فرمایا۔ 16:۔ احمد نے الزھد میں عطا (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے ٹوکری بناتے تھے اور جو کی روٹی کھاتے تھے اور بنی اسرائیل میں سے حواریوں کو بھی کھلاتے تھے۔ 17:۔ حکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں ابن المنذر وابن عساکر صالح بن سمار (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب داؤد (علیہ السلام) وفات پاگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی اپنی حاجت کو مجھ سے طلب کرو، عرض کیا میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے دل کو اپنی ذات سے ڈرنے والا بنا دے جیسے میری ماں کا دل تھا اور میرے دل کو اسی طرح بنا دے کہ وہ تجھ سے محبت کرے جیسے میرے باپ کا دل تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے بندے کو پیغام بھیجا کہ میں اس سے اس کی حاجت کا سوال کروں اور اس کی حاجت یہ تھی کہ اس کے دل کو ایسا بنادوں کہ وہ مجھ سے ڈرے اور اس کے علاوہ دل ایسا بنا دوں کہ وہ مجھ سے محبت کرے میں اس کو ضرور ایسا ملک عطا کروں گا جو اسکے بعد کسی کو زیبا نہیں ہوگا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخآء حیث اصاب “ (اور ہم نے ان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے چلتی تھی جہاں وہ پہنچنا چاہتے) اور اس کے بعد اور چیزوں میں سے عطا فرمایا اور آخرت میں آپ سے اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔ 18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” فسخرنا لہ الریح “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ نے دعا کی تھی اس وقت ہوا اور شیاطین آپ کی بادشاہت میں نہ تھے۔ 19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جب سلیمان (علیہ السلام) نے گھوڑوں کے پاؤں کو کاٹ دیئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر چیز عطا فرمادی اور ہوا کو حکم دیا کہ وہ آپ کے حکم کے مطابق چلے جہاں آپ چاہتے ” رخآء “ (نرمی کے ساتھ) یعنی نہ بہت تیز اور نہ ہی بہت آہستہ بلکہ اس کے درمیان ہوتی۔ 20:۔ ابن المنذر (رح) نے حسن (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے روایت کیا کہ اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تجری بامرہ رخآء “ یعنی وہ ہوا آپ کے تابع تھی جہاں آپ کا ارادہ ہوتا اسی کے مطابق چلتی۔ 21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رخآء حیث اصاب “ (نرمی کے ساتھ چلتی تھی جہاں وہ جانا چاہتے تھے) یعنی جیسے وہ چاہتے (ویسی ہی رفتار سے ہوا چلتی تھی) 22:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رخآء “ سے مراد ہے (آیت) ” حیث اصاب “ یعنی جہاں وہ ارادہ فرماتے (آیت ) ” والشیاطین کل بناء “ (اور جنات عمارتیں بنانے والے) فرمایا شیاطین آپ کے لئے عبادت گاہیں اور مجسمے بناتے (آیت ) ” وغواص “ (اور غوطہ لگانے والے) کہ وہ ان کے لئے سمندر سے زبوں نکالتے تھے (آیت ) ” واخرین مقرنین فی الاصفاد “ (اور دوسرے جنات جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے) یعنی سرکش شیاطین بیڑیوں پر جکڑے ہوئے تھے۔ 23:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رخآء “ پاکیزہ (آیت ) ” والشیاطین کل بناؤغواص “ (اور شیاطین عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے) یعنی وہ غوطہ لگاتے تھے زبور نکالنے کے لئے ” وبناء “ یعنی انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے پانی پر محل بنایا اور سلیمان (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ ان کو گرا دو اور تمہارے ہاتھ بھی نہ لگیں اس پر مناجیق (یعنی توپوں) کے ذریعہ پتھر پھینکے یہاں تک کہ اس کو گرا دیا سو باقی رہی اس کی منفعت ہمارے لئے بعد میں اور جنات کے عمل میں سے تھا اور ہمارے لئے باقی رہی کوڑوں کی منفعت جنات کو لکڑی سے مارا جاتا تھا تو ان کے ہاتھوں اور پاؤں توڑدیئے انہوں نے عرض کیا آپ کے لئے یہ چیز پسندیدہ ہے کہ آپ ہم کو تکلیف تو دیں مگر ہمارے اعظاء توڑیں فرمایا ہاں پھر انہوں نے ان کی رہنمائی کی کوڑوں پر اور ملمع سازی جنات کا کام ہے انہوں نے ملمع سازی کی تو آپ نے حکم دیا تو آپ نے بلقیس کے عرش کے ساتھ پائیوں کے نیچے ستونوں پر اسے ڈالا اور شیشے کا کام بھی جنوں کا ہے جب امور نے سمندروں کو باہر نکلا جب آپ نے ارادہ کیا بیت المقدس کے بنانے کا امور نے کہا میرے لئے ہدہد کا ایک انڈھا تلاش کرو پھر کہا اس پر شیشے کا غلاف بنا دو ہدہد آیا اس نے انڈے کو دیکھنا شروع کیا مگر اس انڈے پر نہ پہنچ پاتا اور اس نے چکر لگانا شروع کیا وہ کیا اور اسی کی مقدار میں ہیرا لے آیا اس کو شیشہ کی بوتل پر رکھا۔ وہ بوتل پھٹ گئی اور بیت المقدس بھی اس ہیرے اور کو پھیا سے گرایا گیا اور سمندر میں خزانہ تھا شیاطین نے سلیمان (علیہ السلام) کو بتایا ان کا یہ گمان ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) جنت میں داخل ہوں گے چالیس سال کے بعد دوسرے انبیائے کے بعد اس وجہ سے کہ ان کو دنیا کی بادشاہی عطاکی گئی۔ 24:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عطآؤنا “ (یہ ہماری عطا ہے) اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا انگوٹھی واپس کرنے کے بعد۔ 25:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فامنن “ (سو تم جس کو چاہودو) یعنی جس جن کو چاہو آزاد کر دو (آیت ) ” اوامسک “ ان میں سے جو کو چاہو روک لو۔ 26:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عطآؤنا “ کے بارے میں حسن (رح) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو ملک ہم نے آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے جس کو چاہو دے دو اور جس سے چاہو روک لو اس معاملہ میں آپ پر کوئی بوجھ نہیں اور نہ آپ پر اس بارے میں کو حساب ہے۔ 27:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عطآؤنا فامنن اوامسک بغیر حساب “ یعنی اس میں آپ پر کوئی حرج نہیں آپ چاہیں تو روک لیں اور اگر چاہیں تو عطا کردیں۔ 28:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو کچھ آپ عطا کریں یا جو آپ چاہیں روک لیں آپ پر کوئی حساب نہیں۔ 29:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی نعمت ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی بندے پر کی ہے مگر اس بارے میں اس سے شکر کا مطالبہ کیا مگر سلیمان (علیہ السلام) سے مطالبہ نہیں کیا گیا) بلکہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) سے فرمایا (آیت ) ” فامنن اوامسک “ یعنی چاہو تو یہ کسی پر احسان کرو چاہو تو روک لو کوئی حساب نہیں۔ 30:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو بڑا خوشگوار (یعنی مبارک) ملک عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ھذا عطآؤنا فامنن اوامسک بغیر حساب “۔ یعنی اگر عطا کرے گا تو اجر ہوگا اور اگر کسی کو نہیں دے گا تو اس پر (تیرے اوپر) کوئی ذمہ داری نہیں۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ (اور اس کے لئے ہمارے یہاں خاص قرب بھی اور انجام بھی) یعنی اچھا ٹھکانہ۔ 32:۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ سے مراد ہے القرب یعنی نزدیکی (آیت ) ” وحسن ماب “ یعنی لوٹنے کی جگہ۔
Top