Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Open Surah Introduction
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafheem-ul-Quran - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ
: اس نے کہا
رَبِّ
: اے میرے رب
اغْفِرْ لِيْ
: مجھے بخش دے تو
وَهَبْ لِيْ
: اور عطا فرما دے مجھے
مُلْكًا
: ایسی سلطنت
لَّا يَنْۢبَغِيْ
: نہ سزادار ہو
لِاَحَدٍ
: کسی کو
مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ
: میرے بعد
اِنَّكَ
: بیشک تو
اَنْتَ
: تو
الْوَهَّابُ
: عطا فرمانے والا
اور کہا کہ”اے میرے ربّ ، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بے شک تُو ہی اصل داتا ہے۔“
36
سورة صٓ
36
سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس جگہ اصل مقصد یہی واقعہ بیان کرنا ہے اور پچھلی آیات اسی کے لیے بطور تمہید ارشاد ہوئی ہیں۔ جس طرح پہلے حضرت داؤد کی تعریف کی گئی، پھر اس واقعہ کا ذکر کیا گیا جس میں وہ مبتلائے فتنہ ہوگئے تھے، پھر بتایا گیا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے ایسے محبوب بندے کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہ چھوڑا، پھر ان کی یہ شان دکھائی گئی کہ فتنے پر متنبہ ہوتے ہی وہ تائب ہوگئے اور اللہ کے آگے جھک کر انہوں نے اپنے اس فعل سے رجوع کرلیا، اسی طرح یہاں بھی ترتیب کلام یہ ہے کہ پہلے حضرت سلیمان ؑ کے مرتبہ بلند اور شان بندگی کا ذکر کیا گیا ہے، پھر بتایا گیا ہے کہ ان کو بھی آزمائش میں ڈالا گیا پھر ان کی یہ شان بندگی دکھائی گئی ہے کہ جب ان کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا گیا تو وہ فوراً ہی اپنی لغزش پر متنبہ ہوگئے اور اپنے رب سے معافی مانگ کر انہوں نے اپنی اس بات سے رجوع کرلیا جس کی وجہ سے وہ فتنے میں پڑے تھے۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ ان دونوں قصوں سے بیک وقت دو باتیں ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کے بےلاگ محاسبے سے انبیا تک نہیں بچ سکے ہیں، تابدیگراں چہ رسد۔ دوسرے یہ کہ بندے کے لیے صحیح رویہ قصور کر کے اکڑنا نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ جس وقت بھی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اسی وقت وہ عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے۔ اسی رویہ کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں کی لغزشوں کو محض معاف ہی نہیں کیا بلکہ ان کو اور زیادہ الطاف و عنایات سے نوازا۔ یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے وہ فتنہ کیا تھا جس میں حضرت سلیمان ؑ پڑگئے تھے ؟ اور ان کی کرسی پر ایک جَسَد لا کر ڈال دینے کا کیا مطلب ہے ؟ اور اس جَسَد کا لا کر ڈالا جانا ان کے لیے کس نوعیت کی تنبیہ تھی جس پر انہوں نے توبہ کی ؟ اس کے جواب میں مفسرین نے چار مختلف مسلک اختیار کیے ہیں۔ ایک گروہ نے ایک لمبا چوڑا افسانہ بیان کیا ہے جس کی تفصیلات میں ان کے درمیان بہت کچھ اختلافات ہیں۔ مگر سب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے یا تو یہ قصور ہوا تھا کہ ان کے محل میں ایک بیگم چالیس دن تک بت پرستی کرتی رہی اور وہ اس سے بیخبر رہے، یا یہ کہ وہ چند روز تک گھر میں بیٹھے رہے اور کسی مظلوم کی داد رسی نہ کی۔ اس پر ان کو یہ سزا ملی کہ ایک شیطان کسی نہ کسی طرح ان کی وہ انگوٹھی اڑا لے گیا جس کی بدولت وہ جن و انس اور ہواؤں پر حکومت کرتے تھے۔ انگوٹھی ہاتھ سے جاتے ہی حضرت سلیمان ؑ کا سارا اقتدار چھن گیا اور وہ چالیس دن تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرے۔ اور اس دوران میں وہ شیطان سلیمان ؑ بنا ہوا حکمرانی کرتا رہا۔ سلیمان ؑ کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دینے سے مراد یہی شیطان ہے جو کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ بعض حضرات یہاں تک بھی کہہ گزرتے ہیں کہ اس زمانے میں اس شیطان سے حرم سلیمانی کی خواتین تک کی عصمت محفوظ نہ رہی۔ آخر کار سلطنت کے اعیان و اکابر اور علماء کو اس کی کاروائیاں دیکھ کر شک ہوگیا کہ یہ سلیمان نہیں ہے۔ چناچہ انہوں نے اس کے سامنے توراۃ کھولی اور وہ ڈر کر بھاگ نکلا۔ راستے میں انگوٹھی اس کے ہاتھ سے سمندر میں گر گئی، یا خود اسی نے پھینک دی، اور اسے ایک مچھلی نے نگل لیا۔ پھر اتفاق سے وہ مچھلی سلیمان کو مل گئی۔ اسے پکانے کے لیے انہوں نے اس کا پیٹ جو چاک کیا تو انگوٹھی نکل آئی اور اس کا ہاتھ آنا تھا کہ جن و انس سب سلام کرتے ہوئے ان کے سامنے حاضر ہوگئے ـــــــــــ یہ پورا افسانہ از سر تاپا خرافات پر مشتمل ہے جنہیں نو مسلم اہل کتاب نے تلمود اور دوسرے اسرائیلی روایات سے اخذ کر کے مسلمانوں میں پھیلا دیا تھا اور حیرت ہے کہ ہمارے ہاں کے بڑے بڑے لوگوں نے ان کو قرآن کے مجملات کی تفصیلات سمجھ کر اپنی زبان سے نقل کردیا۔ حالانکہ نہ انگشتری سلیمانی کی کوئی حقیقت ہے، نہ حضرت سلیمان کے کمالات کسی انگشتری کے کرشمے تھے، نہ شیاطین کو اللہ نے یہ قدرت دی ہے کہ انبیاء کی شکل بنا کر آئیں اور خلق خدا کو گمراہ کریں، اور نہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ کسی نبی کے قصور کی سزا ایسی فتنہ انگیز شکل میں دے جس سے شیطان نبی بن یر ایک پوری امت کا ستیاناس کر دے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن خود اس تفسیر کی تردید کر رہا ہے۔ آگے آیات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب یہ آزمائش حضرت سلیمان کو پیش آئی اور انہوں نے ہم سے معافی مانگ لی تب ہم نے ہوا اور شیاطین کو ان کے لیے مسخر کردیا۔ لیکن یہ تفسیر اس کے برعکس یہ بتارہی ہے کہ شیاطین پہلے ہی انگشتری کے طفیل حضرت سلمان کے تابع فرمان تھے۔ تعجب ہے کہ جن بزرگوں نے یہ تفسیر بیان کی ہے انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ بعد کی آیات کیا کہہ رہی ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے ہاں
20
سال کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوا۔ شیاطین کو خطرہ ہوا کہ اگر سلیمان ؑ کے بعد یہ بادشاہ ہوگیا تو ہم پھر اسی غلامی میں مبتلا رہیں گے، اس لیے انہوں نے اسے قتل کردینے کی ٹھانی۔ حضرت سلیمان ؑ کو اس کا علم ہوگیا اور انہوں نے اس لڑکے کو بادلوں میں چھپا دیا تاکہ وہیں اس کی پرورش ہوتی رہے۔ یہی وہ فتنہ تھا جس میں حضرت مبتلا ہوئے تھے کہ انہوں نے اللہ پر توکل کرنے کے بجائے بادلوں کی حفاظت پر اعتماد کیا۔ اس کی سزا ان کو دی گئی کہ وہ بچہ مر کر ان کی کرسی پر آ گرا ــــــــــــ یہ افسانہ بھی بالکل بےسرو پا اور صریح قرآن کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں بھی یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ہوائیں اور شیاطین پہلے سے حضرت سلیمان ؑ کے لیے مسخر تھے، حالانکہ قرآن صاف الفاظ میں ان کی تسخیر کو اس فتنے کے بعد کا واقعہ بتارہا ہے۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک سے ایک مجاہد فی سبیل اللہ پیدا ہوگا، مگر یہ بات کہتے ہوئے انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان سے بھی ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا جسے دائی نے لا کر حضرت سلیمان ؑ کی کرسی پر ڈال دیا۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے اور اسے بخاری و مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے۔ خود بخاری میں مختلف مقامات پر یہ روایت جن طریقوں سے نقل کی گئی ہے ان میں سے کسی میں بیویوں کی تعداد
60
بیان کی گئی ہے، کسی میں
70
، کسی میں
90
، کسی میں
99
، اور کسی میں
100
۔ جہاں تک اسناد کا تعلق ہے، ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے، اور با عتبار روایت اسکی صحت میں کلام نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بات نبی ﷺ نے اس طرح ہرگز نہ فرمائی ہوگی جس طرح وہ نقل ہوئی ہے۔ بلکہ آپ نے غالباً یہود کی یا وہ گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی موقع پر اسے بطور مثال بیان فرمایا ہوگا، اور سامع کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ اس بات کو حضور ﷺ خود بطور واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔ ایسی روایات کو محض صحت سند کے زور پر لوگوں کے حلق سے اتروانے کی کوشش کرنا دین کو مضحکہ بنانا ہے۔ ہر شخص خود حساب لگا کر دیکھ سکتا ہے کہ جاڑے کی طویل ترین رات میں بھی عشا اور فجر کے درمیان دس گیارہ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ اگر بیویوں کی کم سے کم تعداد
60
ہی مان لی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ اس رات بغیر دم لیے فی گھنٹہ
6
بیویوں کے حساب سے مسلسل دس گھنٹے یا گیارہ گھنٹے مباشرت کرتے چلے گئے۔ کیا یہ عملاً ممکن بھی ہے ؟ اور کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ حضور ﷺ نے یہ بات واقعے کے طور پر بیان کی ہوگی ؟ پھر حدیث میں یہ بات کہیں نہیں بیان کی گئی ہے کہ قرآن مجید میں حضرت سلیمان کی کرسی پر جس جسد کے ڈالے جانے کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہی ادھورا بچہ ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ حضور ﷺ نے یہ واقعہ اس آیت کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا تھا۔ علاوہ بریں اس بچے کی پیدائش پر حضرت سلیمان ؑ کا استغفار کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انہوں نے استغفار کے ساتھ یہ دعا کیوں مانگی کہ " مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وار نہ ہو۔ " ایک اور تفسیر جس کو امام رازی ترجیح دیتے ہیں یہ ہے کہ حضرت سلیمان کسی سخت مرض میں مبتلا ہوگئے تھے، یا کسی خطرے کی وجہ سے اس قدر متفکر تھے کہ گھلتے گھلتے وہ بس ہڈی اور چمڑا رہ گئے تھے۔ لیکن یہ تفسیر قرآن کے الفاظ کا ساتھ نہیں دیتی۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ " ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا، پھر اس نے رجوع کیا۔ " ان الفاظ کو پڑھ کر کوئی شخص بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس جسد سے مراد خود حضرت سلیمان ہیں۔ ان سے تو صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش میں ڈالے جانے سے مراد کوئی قصور ہے جو آنجناب سے صادر ہوا تھا۔ اس قصور پر آپ کو تنبیہ اس شکل میں فرمائی گئی کہ آپ کی کرسی پر ایک جسد لا ڈالا گیا، اور اس پر جب آپ کو اپنے قصور کا احساس ہوا تو آپ نے رجوع فرما لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہے اور حتمی طور پر اس کی کوئی تفسیر بیان کرنے کے لیے ہمیں کوئی یقینی بنیاد نہیں ملتی۔ لیکن حضرت سلیمان کی دعا کے یہ الفاظ کہ " اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھ کو وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو "، اگر تاریخ بنی اسرائیل کی روشنی میں پڑھے جائیں تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں غالباً یہ خواہش تھی کہ ان کے بعد ان کا بیٹا جانشین ہو اور حکومت و فرمانروائی آئندہ انہی کی نسل میں باقی رہے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں " فتنہ " قرار دیا اور اس پر وہ اس وقت متنبہ ہوئے جب ان کا ولی عہد رَجُبعام ایک ایسا نالائق نوجوان بن کر اٹھا جس کے لچھن صاف بتا رہے تھے کہ وہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی سلطنت چار دن بھی نہ سنبھال سکے گا۔ ان کی کرسی پر ایک جَسَد لا کر ڈالے جانے کا مطلب غالباً یہی ہے کہ جس بیٹے کو وہ اپنی کرسی پر بٹھانا چاہتے تھے وہ ایک کندہ ناتراش تھا۔ تب انہوں نے اپنی اس خواہش سے رجوع کیا، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر درخواست کی کہ بس یہ بادشاہی مجھی پر ختم ہوجائے، میں اپنے بعد اپنی نسل میں بادشاہی جاری رہنے کی تمنا سے باز آیا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اپنے بعد کسی کے لیے بھی جانشینی کی نہ وصیت کی اور نہ کسی کی اطاعت کے لیے لوگوں کو پابند کیا۔ بعد میں ان کے اعیان سلطنت نے رجبعام کو تخت پر بٹھایا، مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ بنی اسرائیل کے دس قبیلے شمالی فلسطین کا علاقہ لے کر الگ ہوگئے اور صرف یہوداہ کا قبیلہ بیت المقدس کے تخت سے وابستہ رہ گیا۔
Top