Tafseer-e-Baghwi - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
تفسیر 35۔ ، قال رب اغفرلی وھب ملکالا ینبغی لاحد من بعدی، مقاتل اور ابن کیسان نے ترجمہ کیا ہے میرے زمانے کے بعد۔ عطاء بن رباح کا قول ہے کہ ، ینبغی لا حد من بعدی ، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب تونے مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کودے دی، اسی طرح آخری عمر میں مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کونہ دے دینا۔ ، انک انت الوھاب، بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ سوال اس وجہ سے کیا تاکہ یہ آپ (علیہ السلام) کی نبوت کی نشانی اور دلالت رہے اور آپ کا یہ معجزہ ہمیشہ کے لے رہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایسے معجزہ کا سوال اس وجہ سے کیا تا کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ان کی توبہ قبول ہوچکی ہے۔ مقاتل بن حیان کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بادشاہ تھے اور، لا ینبغی لاحدمن بعدی، کہہ کرہوا، جنات اور پرندوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے بعد والا کلام اسی مفہوم پر دلالت کررہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاـــ: ایک دیو (شریر جن ) آج رات تھوک اڑاتا (بدبوپھیلاتا) ہوامیری نماز تڑاونے کے لیے آیا لیکن اللہ نے اس پر مجھے قابودے دیا اور میں نے اس کو پکڑ کرچاہا کہ مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب اس کو دیکھ سکو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعایادآئی کہ انہوں نے درخواست کی تھی ، رب ھب لی ملکالا ینبغی لا حد من بعدی ، تو میں نے اس کو لوٹادیا۔ (متفق علیہ)
Top