Tafseer-e-Majidi - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
دعا مانگی اے میرے پروردگار میرا قصور معاف کر اور مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو، بیشک تو بڑا ہی دینے والا ہے،36۔
36۔ حضرت کو احساس اس کا ہوا ہے کہ یہ جو یاد الہی میں غفلت کسی درجہ میں بھی واقع ہوئی، اس کا منشاء سامان جہاد وغیرہ میں انہماک تھا اور خود کثرت اولاد کی تمنا جو آپ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، اس کا منشاء بھی یہی خیال جہاد تھا۔ لیکن اگر کسی معاصر کے پاس زیادہ قوت واقتدار ہی نہ ہو، تو اس سے مقابلہ ومقاتلہ کے لئے بھی زیادہ سازوسامان کی ضرورت ہی باقی نہ رہے اور یہ سازوسامان خود میری نبوت پر ایک مستقل دلیل بن جائے۔ لیصیر اقتداری علیھا معجزہ تدل علی صحۃ نبوتی ورسالتی (کبیر) (آیت) ” من بعدی “۔ بعد ہمیشہ تاخر زمانی ہی کے لئے نہیں آتا ہے، علاوہ اور سوا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خود قرآن مجید ہی میں ہے۔ فمن یھدیہ من بعد اللہ۔ یہاں بعد صاف غیر کے معنی میں ہے۔ چناچہ یہاں بھی من بعد، من غیرہ کے مرادف ہے۔ اے سوائی (جلالین) اے لایصح لا حد غیری (روح) اے دونی (مدارک) (آیت) ” رب اغفرلی “۔ یہ عین سنت انبیاء ہے کہ رب العزت کے حضور میں کوئی حاجت عرض کرنے سے قبل استغفار بھی کرلیتے ہیں۔ دلت ھذہ الایۃ علی انہ یجب تقدیم مھم الدین علی مھم الدنیا لان سلیمان طلب المغفرۃ اولا ثم بعدہ طلب الملک (کبیر)
Top