Tafseer-e-Mazhari - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
(اور) دعا کی کہ اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بےشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی سلیمان نے کہا : اے میرے رب ! میرے قصور معاف کر دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا (میرے زمانے میں) کسی کو میسر نہ ہو۔ انک انت الوھاب بلاشتہ تو ہی بڑا دینے والا ہے۔ انبیاء اور صالحین کا طریقہ ہے کہ پہلے استغفار کرتے ہیں ‘ پھر اللہ سے کچھ مانگتے ہیں۔ حضرت سلیمان نے بھی ایسا ہی کیا ‘ پہلے درخواست مغفرت کی ‘ پھر حکومت کا سوال کیا۔ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ حضرت سلیمان پر جو یہ مصیبت پڑی ‘ وہ محض اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا تاکہ دنیا اور آخرت میں آپ کا مرتبہ اونچا کیا جائے ‘ جس طرح کہ حضرت ایوب پر وقوع بلا ترقی درجات کیلئے ہوا۔ حضرت سلیمان نے نہ کسی گناہ کا ارتکاب کیا تھا نہ آپ سے کوئی لغزش ہوئی تھی ‘ ورنہ ندامت و استغفار بہت ہی زاری کے ساتھ گڑگڑا کر کرتے اور درخواست مغفرت و توبہ کے علاوہ کوئی لفظ زبان پر بھی نہ لاتے (حکومت مانگنے کا تو ذکر ہی کیا ہے) اور جس طرح اللہ نے حضرت داؤد کے متعلق فرمایا تھا ‘ ویسے ہی آپ کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا : فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ ۔ مقاتل اور ابن کیسان نے ترجمہ کیا ہے : میرے زمانہ کے بعد۔ بعض علماء نے کہا : مِنْم بَعْدِیْ کا مطلب یہ ہے کہ میرے سوا میرے زمانہ میں ایسی حکومت کسی کو میسر نہ ہو ‘ جیسے اللہ نے ایک آیت میں فرمایا ہے : فَمَنْ یَّھْدِیْہِ مِنْم بَعْدِ اللّٰہِ اللہ کے سوا اس کو ہدایت کون دے۔ عطاء بن رباح نے کہا کہ یَنْببَغِیْم لِاَحَدٍ مِنْم بَعْدِیْ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب تو نے مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کو دے دی ‘ اسی طرح آخری عمر میں مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کو نہ دے دینا۔ ایسی درخواست حضرت سلیمان نے کیوں کی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ اپنی نبوت کی خاص نشانی اور خاص معجزہ کے خواستگار تھے (طلبگار دنیا نہ تھے) ۔ مقاتل نے کہا : حضرت سلیمان بادشاہ تھے اور لاَ یَنْببَغِیْم لِاَحَدٍ مِنْم بَعْدِیْ کہہ کر ہوا ‘ جنات اور پرندوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے ‘ بعد والا کلام اسی مفہوم پر دلالت کر رہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک دیو (شریر جن) آج رات تھوک اڑاتا (بدبو پھیلاتا) ہوا میری نماز تڑوانے کیلئے آیا ‘ لیکن اللہ نے اس پر مجھے قابو دے دیا اور میں نے اس کو پکڑ کر چاہا کہ مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب اس کو دیکھ سکو ‘ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آئی کہ انہوں نے درخواست کی تھی : رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلْکًا لاَ یَنْببَغِیْم لِاَحَدٍ مِنْم بَعْدِیْ تو میں نے اس کو لوٹا دیا (متفق علیہ) ۔ میں کہتا ہوں : اس جملہ کی یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ جو شخص مرتبہ میں میرے بعد ہے ‘ اس کو وہ حکومت میسر نہ ہو ‘ ایسی حکومت مجھے عطا فرما۔ حضرت سلیمان نے یہ درخواست لوگوں کی بھلائی اور ان کی ہمدردی کیلئے کی تھی۔ مطلب یہ کہ میری طرح جس کی مشغولیت دنیا سے نہ ہو اور ہر وقت اللہ سے ہی لَو لگی ہوئی ہو ‘ اس کو تو کوئی چیز ضرر نہیں پہنچا سکتی ‘ نہ اللہ سے کوئی شے غافل بنا سکتی ہے ‘ اس کیلئے دنیا کا حصول نیکیاں حاصل کرنے کا مزید ذریعہ ہوتا ہے ‘ لیکن جو ایسا نہ ہو اس کو دنیا خدا سے غافل بنا دیتی ہے اور ایسے آدمی کیلئے دنیا سم قاتل کا حکم رکھتی ہے۔ ایک شبہ : ایک حدیث کا مضمون آپ کے بیان کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ حضرت سلیمان کے مرتبے سے زائد تھا ‘ اس کے باوجود حضور ﷺ کو حضرت سلیمان جیسی حکومت نہیں دی گئی اور اسی لئے آپ نے اس دیو کو ستون سے نہیں باندھا۔ ازالہ : بیشک رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ حضرت سلیمان کے مرتبہ سے اعلیٰ تھا ‘ لیکن یہ بات قابل تسلیم نہیں کہ حضرت سلیمان کی دعا کی وجہ سے حضور ﷺ کو حکومت عطا نہیں کی گئی۔ اللہ نے تو آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ نبوت کے ساتھ چاہیں تو بادشاہ بھی بن جائیں یا غریب بندہ رہنا چاہیں تو ایسے ہی رہیں (اور آپ کو یہی چھوڑ دیا جائے) آپ نے نبوت کے ساتھ (غریب) بندہ رہنا پسند کیا ‘ کیونکہ آپ کے نزدیک بادشاہت سے فقیری افضل تھی۔ رہی دیو کو ستون سے باندھے والی حدیث تو خود اس میں صراحت ہے کہ دیو کو اللہ نے آپ کے قابو میں کردیا تھا اور آپ اس کو ستون سے باندھ سکتے تھے ‘ لیکن حضرت سلیمان کی دعا کا لحاظ کرتے ہوئے خود ہی نہیں باندھا۔ رسول اللہ ﷺ کا حکم تو جن و انس ‘ سب پر چلتا تھا۔ تاتی بدعوتہ الاشجار ساجدۃ تمشی الیہ علی ساق بلا قدم آپ کے بلانے سے تو درخت سجدہ کرتے ہوئے ‘ بغیر قدموں کے ‘ صرف تنا کے سہارے سے چلتے ہوئے آپ کے پاس آجاتے تھے۔ فقراء کی زندگی اور ان کا لباس آپ کو محبوب تھا۔ خلفاء راشدین کی بھی یہی حالت تھی کہ خلافت کے ساتھ فقر ان کو پسند تھا اور دونوں گروہوں کے فضائل انہوں نے جمع کر لئے تھے۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّاب یعنی تو جس کو جتنا چاہتا ہے ‘ دیتا ہے۔ تیرے دینے کو کوئی روکنے والا نہیں اور نہ دے تو کوئی دینے والا نہیں۔
Top