Anwar-ul-Bayan - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
(38:35) ہب لی۔ ھب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ وھب وھبۃ (باب فتح) مصدر سے۔ تو عطا کر۔ لی مجھے۔ تو مجھے عطا کر۔ تو مجھے بخش دے۔ لا ینبغی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ انبغاء (انفعال) مصدر سے۔ زیبا نہیں ہے۔ میسر نہ ہو۔ لائق۔ یا مناسب نہیں ہے ۔ شایاں نہیں ہے۔ ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی۔ مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد (سوا) کسی کو شایاں نہ ہو۔ (یعنی میرے بعد (سوائ) ویسی سلطنت کسی کو میسر نہ ہو) ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ (36:69) ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ ہی وہ ان کو شایاں ہے۔ یعنی مادہ۔ الوھاب۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ ھبۃ مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت عطا کرنے والا۔ بہت بخشش کرنے والا
Top