Tafseer-e-Usmani - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
بولا اے رب میرے معاف کر مجھ کو اور بخش مجھ کو وہ بادشاہی کہ مناسب نہ ہو کسی کے میرے پیچھے بیشک تو ہے سب کچھ بخشنے والاف 7
7  یعنی ایسی عظیم الشان سلطنت عنایت فرما جو میرے سوا کسی کو نہ ملے، نہ کوئی دوسرا اس کا اہل ثابت ہو یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو حوصلہ نہ ہو کہ مجھ سے چھین سکے۔ (تنبیہ) احادیث میں ہے کہ ہر نبی کی ایک دعاء جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اجابت کا وعدہ فرما لیا ہے یعنی وہ دعا ضرور ہی قبول کریں گے۔ شاید حضرت سلیمان کی یہ وہ ہی دعا ہو۔ آخر نبی زادے اور بادشاہ زادے تھے۔ دعا میں بھی یہ رنگ رہا کہ بادشاہت ملے اور اعجازی رنگ کی ملے۔ وہ زمانہ ملوک اور جبارین کا تھا، اس حیثیت سے بھی یہ دعا مذاق زمانہ کے موافق تھی اور ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا مقصد ملک حاصل کرنے سے اپنی شوکت و حشمت کا مظاہرہ کرنا نہیں۔ بلکہ اس دین کا ظاہر و غالب کرنا اور قانون سماوی کا پھیلانا ہوتا ہے جس کے وہ حامل بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ لہذا اس کو دنیاداروں کی دعا پر قیاس نہ کیا جائے۔
Top