Tafseer-e-Madani - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
عرض کیا اے میرے رب میری بخشش فرما دے اور عطا فرما دے مجھے (اپنے کرم سے) ایسی بادشاہی جو میرے بعد کسی کے بھی لائق نہ ہو بیشک تو ہی ہے (اے میرے مالک ! ) بخشنے والا سب کو اور سب کچھ
48 رب سے بخشش کی دعا و درخواست کا نمونہ : سو اس سے حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت وانابت کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ حضرت سلیمان نے فورا عرض کیا کہ اے میرے رب یہ میری بخشش فرما دے۔ سو اس سے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی شان عبدیت و اوابیت اور انابت ورجوع الی اللہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معصوم ہونے کے باوصف اور ہر طرح کے معاصی وذنوب سے پاک ہونے کے باوجود وہ اس طرح دعا مانگتے ہیں کہ مالک جو بھی کوئی چھوٹی موٹی کوتاہی اور لغزش ہم سے ہوگئی ہو اس کی بخشش فرما دے۔ جس طرح کہ حضرت خاتم الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ کا ارشاد ہے کہ میں ایک دن میں ستر مرتبہ اپنے رب سے استغفار کرتا ہوں۔ اور ستر کا عدد کوئی حصر و تعداد ہی کے لئے نہیں آتا بلکہ محاورے کی زبان میں یہ تکثیر اور بہتات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی میں کثرت کے ساتھ استغفار کرتا ہوں۔ حالانکہ آپ ﷺ نہ صرف معصوم بلکہ تمام انبیائے معصومین ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے امام اور پیشوا ہیں ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلَامہ علَیْہ ۔ بہرکیف اس سے حضرت سلیمان کی شان انابت و اوابیت و رجوع الی اللہ کا یہ نمونہ پیش فرمایا گیا ہے کہ جب آپ کو اپنی تقصیر کا علم ہوا تو آپ نے فورا اللہ پاک کے حضور بخشش کی دعا مانگی۔ سو اس سے بندے کے لیے اپنی تقصیر و کوتاہی پر صحیح رویے کی راہنمائی فرما دی گئی کہ اپنی غلطی اور قصور پر انسان کو اکڑنے کی بجائے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک جانا چاہیے۔ اور اس سے اپنی تقصیر و کوتاہی کی معافی مانگنی چاہیے اور سچی توبہ وانابت پر وہ بخشتا بھی ہے اور اپنی مزید عنایات سے نوازتا بھی ہے کہ اس کی تو شان ہی بخشنا اور نوازنا ہے ۔ سبحانہ وتعالی وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 49 رب کے حضور بادشاہی کی دعا و درخواست : سو اس سے حضرت سلیمان کی اپنے رب کے حضور بادشاہی کی دعا و درخواست کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت سلیمان نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا " اور عطا فرما دے مجھے ایسی بادشاہی جو میرے بعد کسی کے بھی لائق نہ ہو "۔ یعنی یہ حکومت کچھ ایسی امتیازی شان کی ہو کہ میرے بعد کسی اور کو نصیب بھی نہ ہو سکے۔ اور اس طرح یہ میرے لئے ایک معجزہ اور نشانی بھی بن جائے اور عظیم الشان انعام و احسان بھی۔ تاکہ اس پر میں آپ کا شکر ادا کروں۔ حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) چونکہ نبی اور شہزادے بھی تھے۔ اس لئے معجزہ بھی مانگا تو ایسا جو کہ ان کی اسی صفت کا مظہر و عکاس ہے۔ چناچہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے آپ (علیہ السلام) کو ایسی عظیم الشان اور بےمثل حکومت و سلطنت سے نوازا کہ ایسی حکومت نہ آپ (علیہ السلام) سے پہلے کسی کو ملی اور نہ ہی آپ (علیہ السلام) کے بعد کہ جن و انس کے علاوہ چرند و پرند اور ہوا بھی آپ کے تابع فرمان تھے۔ اور اس موقع پر اس دعا کا اصل مقصد یہ تھا کہ اگرچہ میں اپنی تقصیر اور کوتاہی کی بنا پر ایسی کسی حکومت اور بادشاہی کا اہل نہیں رہ گیا تاہم تو اے میرے مالک ! محض اپنے فضل و کرم سے مجھے ایسی حکومت اور بادشاہی سے سرفراز فرما دے جو میرے بعد کسی کے بھی لائق نہ ہو۔ چناچہ بعض اہل علم نے آیت کریمہ کا مطلب اوپر والے اس مطلب کے برعکس یہ بیان کیا کہ اگرچہ میں اپنے گناہ کے سبب سے کسی حکومت کا اہل نہیں رہ گیا لیکن اس کے باوجود تو اپنے فضل و کرم سے مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما دے جس کا سزاوار نہ میں ہوں اور نہ ہی میرے بعد کوئی اور ہوگا۔ یعنی اس دعا میں اصل زور بادشاہی کی عظمت و شوکت پر نہیں بلکہ بلا استحقاق بادشاہی دیے جانے پر ہے کہ مجھے میرے گناہوں کے باوجود بادشاہی سے نواز دے جبکہ میرے بعد کوئی اور اس کا اہل نہیں ٹھہرے گا۔ سو یہ حضرت سلیمان کی انتہائی خشیت وانابت کی دلیل ہے۔ اور یہی خاصہ اور امتیاز ہوتا ہے خدا ترس حکمرانوں کا کہ وہ اپنے ملک میں اور اپنے دور میں آنے والی ہر آفت کو اپنی ہی کوتاہیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عمر کے بارے میں روایات میں وارد ہے کہ آپ کے دور حکومت میں جب ایک مرتبہ قحط پڑگیا جو " عام الرمادہ " کے نام سے مشہور و معروف ہے تو قحط کے اس پورے زمانے میں حضرت عمر کا حال یہ رہا کہ آپ شب کی نمازوں میں روتے روتے اپنی داڑھی تر کرلیتے کہ اے میرے رب امت محمدیہ میرے ہاتھوں تباہ نہ ہو۔ 50 سب کچھ دینے بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو حضرت سلیمان نے اپنی دعا میں عرض کیا اور حصر و تاکید کے کلمات کے ساتھ عرض کیا کہ بیشک تو ہی ہے ۔ اے میرے مالک ! ۔ بخشنے والا "۔ جس کو جو کچھ ملا یا ملتا ہے وہ صرف تیری ہی عطا و بخشش کے فیض سے ہے۔ انبیاء و رسل تک سب تیرے ہی محتاج اور تیرے ہی در کے سوالی ہیں۔ وہاب کا صیغہ چونکہ مبالغے کا صیغہ ہے اس لئے یہ ایسے سب ہی معانی کو عام اور شامل ہے۔ اور اسی سے نسبت والے کو وہابی کہا جاتا ہے جس کے معنیٰ ہیں " اللہ والا " جو کہ ایک بہت بڑا شرف اور اعزاز ہے۔ مگر کچھ اہل زیغ و ضلال اپنے خبث باطن کی بنا پر اس عظیم الشان نسبت والے اس کلمہ کریمہ یعنی " وہابی " کو اہل حق کے خلاف طعن وتشنیع کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اس طرح ایسے لوگ خود اپنی عاقبت خراب کرنے کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت سلیمان نے عرض کیا کہ مالک ! چونکہ سب کچھ دینا اور ہر کسی کو نوازنا اے میرے مالک تیری ہی شان ہے اس لیے تو مجھے میری تقصیر و کوتاہی کے باوجود ایسی بادشاہی سے نواز دے۔ سو اس ارشاد سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح فرما دی گئی کہ سب کچھ دینا اور ہر کسی کو اور ہر حال میں دینا اللہ وحدہ لا شریک ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ سب کے سب یہاں تک کہ حضرات انبیائے کرام بھی اسی کے محتاج ہیں ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Top