Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Dure-Mansoor - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ
: اور البتہ
فَتَنَّا
: ہم نے آزمائش کی
سُلَيْمٰنَ
: سلیمان
وَاَلْقَيْنَا
: اور ہم نے ڈالا
عَلٰي كُرْسِيِّهٖ
: اس کے تخت پر
جَسَدًا
: ایک دھڑ
ثُمَّ اَنَابَ
: پھر اس نے رجوع کیا
اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا پھر انہوں نے رجوع کیا
1:۔ فریابی (رح) و حکیم ترمذی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا “ (اور ہم نے سلیمان کی جانچ کی اور اس کی کرسی پر ایک ادھورا دھڑ ڈالا۔” جسدا “ سے مراد شیطان ہے جو آپ کے تخت پر تھا اور لوگوں کے درمیان چالیس دنوں تک فیصلے کرتا رہا۔ سلیمان (علیہ السلام) کی ایک بیوی تھی جس کو جرادہ کہا جاتا تھا اس کے خاندان اور ایک قوم کے درمیان کوئی جھگڑا تھا تو انہوں نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دیا مگر اس بات کو پسند کرتے تھے کہ حق اس کے گھروالوں کا ہو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ عنقریب تجھ پر کوئی آزمائش آئے گی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ مصیبت آسمان سے آئے گی یا زمین سے آئے گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی : 2:۔ نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے (قوی سند کے ساتھ) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کیا جرادہ کو اپنی انگوٹھی دی جرادہ ان کی بیوی تھی اور وہ ان کی بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی سلیمان (علیہ السلام) کی صورت میں شیطان آیا اور جرادہ سے کہا میری انگوتھی مجھے دیدو اس نے اس کو دیدی جب اس نے اس کو پہنا تو اس کے لئے جن انسان اور شیاطین ان کے مطیع ہوگئے، جب سلیمان بیت الخلاء سے نکلے اس سے کہا میری انگوٹھی لا اس نے کہا میں نے تو وہ انگوٹھی سلیمان کو دے دی سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا۔ سلیمان میں ہوں جرادہ نے کہا تو جھوٹ کہتا ہے تو سلیمان نہیں ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) جس کے بھی جاتے تھے تو اس سے کہتے کہ میں سلیمان ہوں تو وہ اس کو جھٹلا دیتا یہاں تک کہ بچوں نے پتھر پھینکنا شروع کئے۔ جب اس معاملہ کو دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ اللہ عزوجل کے حکم سے ہے اور شیطان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگا جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ سلیمان (علیہ السلام) کو ان کی بادشاہی واپس لوٹا دی جائے تو لوگوں کے دلوں میں اس شیطان کا انکار ڈال دیا ان لوگوں نے سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے کہا کیا سلیمان (علیہ السلام) کی کوئی چیز تمہارے پاس موجود ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں کہ وہ ہمارے پاس حیض کی حالت میں آتا ہے اور اس سے پہلے وہ ہمارے پاس (اس حال میں) نہیں آتا تھا۔ جب شیطان نے دیکھا کہ اس کی حقیقت کا علم ہوچکا ہے اور اس نے گمان کرلیا کہ اس کا معاملہ ختم ہوچکا ہے تو شیطانوں نے ایسی کتابیں لکھیں جس میں جادو اور مکر تھا اور انہوں نے اس کو سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے دفن کردیا۔ پھر انہوں نے ان کتابوں کو نکالا اور لوگوں کے سامنے پڑھا اور کہا کہ اس کے ذریعہ سلیمان (علیہ السلام) لوگوں پر غلبہ پاتے تھے تو لوگوں نے سلیمان (علیہ السلام) کا انکار کردیا۔ اور وہ برابر ان کا انکار کرتے رہے اس شیطان کو انگوٹھی کے ساتھ بھیجا گیا تو اس نے انگوٹھی کو سمندر میں پھینک دیا۔ ایک مچھلی نے اس انگوٹھی کو پایا اور اسے نگل گئی سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے بطور اجرت کے کام کرتے تھے ایک آدمی آیا اس نے مچھلیاں خریدیں اس میں وہ مچھلی بھی تھی جس کے پیٹ میں وہ انگوٹھی تھی سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بلایا اور فرمایا یہ مچھلی میرے لئے اٹھا کرلے چل پھر وہ آدمی ان کے گھر کی طرف چلا جب وہ آدمی ان کے گھر کے دروازے پر پہنچا ان کو وہ مچھلی دی جس کے پیٹ میں انگوٹھی تھی سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو لے لیا اس کے پیٹ کو چاک کیا تو اچانک وہ انگوٹھی اس کے پیٹ میں تھی۔ اس کو لے کر پہن لیا جب اس کو پہنا تو جنات، انسان اور شیاطین آپ کے مطیع ہوگئے اور آپ اپنی حالت پر لوٹ آئے اور شیطان بھاگ گیا یہاں تک کہ سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ پر جا پہنچا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تلاش میں کارندے بھیجے بڑے سرکش جن اس کو وہ تلاش کررہے تھے مگر وہ اس پر قادر نہ ہوئے یہاں تک کہ ایک دن اس کو نیند کرتے ہوئے پایا وہ اس کے پاس آئے اور اس پر ایک سکے کی عبارت بنادی وہ جاگا اور کو دا وہ اس گھر کی طرف جس سمت بھی جاتا تو سکہ اسے گھیر لیتا انہوں نے اس کو باندھ دیا اور اس کو سلیمان (علیہ السلام) کے پاس لے آیا انہوں نے حکم فرمایا اور اس کے لئے سنگ مرمر ایک سوراخ بنایا گیا پھر اس کے پیٹ میں اس کو داخل کردیا گیا اور اس کو تانبے سے بند کردیا گیا پھر اس کو سمندر میں پھینکنے کا حکم دیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ یعنی اس شیطان کے ذریعہ آزمایا گیا جو ان پر مسلط ہوگا تھا۔ 3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چار آیات ہیں اللہ کی کتاب میں سے جن کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ ان کا کیا معنی ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کے بارے میں کعب احبار سے پوچھا (ان میں سے پہلی آیت یہ ہے) قرآن میں سے (آیت ) ” قوم تبع “ اور تبع کا ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کون تھا تو انہوں نے کہا کہ تبع ایک بادشاہ تھا اور اس کی قوم کاہن تھی اور اس کی قوم میں کچھ لوگ اہل کتاب میں بھی تھے اور کاہن اہل کتاب پر حملہ کرتے تھے۔ اور ان کی تابعداری کرنے والے کو قتل کرتے تھے اہل کتاب نے تبع سے کہا کہ وہ لوگ ہم کو جھٹلاتے ہیں تو تبع نے کہا اگر تم سچے ہو تو ایک قربانی پیش کرو تم میں سے جو افضل ہوگا اس کی قربانی کو آگ کھاجائے گی اہل کتاب اور کاہنوں نے قربانی پیش کی آگ آسمان سے نازل ہوئی اہل کتاب کی قربانی کو کھاگئی تبع نے اہل کتاب کی تابعداری کی اور اسلام لے آیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو قوم کا قرآن مجید میں ذکر فرمایا اور تبع کا ذکر نہیں فرمایا ابن عباس ؓ نے پھر ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں سوال کیا (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ یعنی شیطان نے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کو لے لیا جس پر آپ کی بادشاہت تھی اور اس کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ انگوٹھی مچھلی کے پیٹ میں چلی گئی سلیمان چکر لگاتے رہے اچانک ان کو یہ مچھلی صدقہ کی گئی انہوں نے اس کو بھونا اور اس کو کھایا اچانک اس میں وہ انگوٹھی تھی تو پھر آپ کی بادشاہت لوٹ آئی۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ صخر جن نے آپ کی صورت بنالی اور آپ کے تخت پر بیٹھ گیا۔ بیت المقدس کی تعمیر : 5:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) بیت المقدس کے بنانے کا حکم فرمایا ان سے کہا گیا اس کو اسی طرح بناؤ کہ اس میں لوہے کی آواز سنائی نہ دے آپ نے اس کا ارادہ کیا مگر اس پر قادر نہ ہوئے ان سے کہا گیا کہ ایک طاقتور جن ہے جس کو صخر کہا جاتا ہے جو مادر کے مشابہ تھا انہوں نے اس کو طلب کیا سمندر میں اس کا ایک چشمہ تھا وہ ہر ساتویں دن ایک مرتبہ اس پر آتا تھا اس چشمہ کا پانی نکالا گیا تو اس میں شراب ڈال دی گئی ایک دن وہ اس چشمہ پر آیا تو وہاں شراب تھی جن نے کہا اچھا مشروب ہے تو حلیم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور زیادہ کردیتا ہے جاہل کو جہالت میں پھر وہ بھاگ گیا یہاں تک کہ شدید پیاسا ہوگیا پھر اس کے پس آیا اور اس کو پیا یہاں تک کہ شراب اس کی عقل پر غالب آگئی انگوٹھی لائی گئی اور اس کے کندھوں کے درمیان لگا دی گئی وہ مطیع ہوگیا اور سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اس کی انگوٹھی میں تھی اس جن کو سلیمان (علیہ السلام) کے پاس لایا گیا تو انہوں نے فرمایا ہم کو اس گھر کے بنانے کا حکم دیا گیا ہم کو کہا گیا کہ اس میں ہرگز لوہے کی آواز نہ سنی جائے ھد ھد کا انڈالایا گیا اس پر شیشہ کا خول بنادیا گیا ھدھد آیا اور اس کے اردگرد گھومنے لگا اس نے اپنے انڈے کو دیکھنا شروع کیا اور اس پر قادر ہوا ھد ھد گیا اور الماس کو شیشے پر رکھا اور اسے کاٹ دیا یہاں تک کہ وہ اپنے انڈے کی طرف پہنچ گیا (یہ دیکھ کر) لوگوں نے الماس کو لے لیا اور اس کے ذریعہ پتھر کو کاٹنا شروع کیا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) جب بیت الخلاء میں ہونے کا ارادہ کرتے تھے یا حمام میں تو انگوٹھی کے ساتھ داخل نہیں ہوتے تھے ایک دن وہ حمام کی طرف گئے اور یہ شیطان صخران کے ساتھ تھا وہ حمام میں داخل ہوئے اور اپنی انگوٹھی شیطان کو دیدی اس نے اس کو سمندر میں ڈال دیا اس کو ایک مچھلی نے نگل لیا اسی کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت ان سے چھین لی گئی اور شیطان کی صورت میں سلیمان (علیہ السلام) جیسی بنادی گئی۔ وہ آیا اور آپ کے تخت پر بیٹھ گیا اور سلیمان (علیہ السلام) کے سارے ملک پر مسلط ہوگیا سوائے ان کی عورتوں کے ان کے درمیان چالیس دنوں تک فیصلے کرتا رہا یہاں تک کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی کو مچھلی کے پیٹ میں پالیا۔ آپ آئے تو جو جن یا پرندہ آپ کے سامنے آتا وہ سجدہ کرتا یہاں تک کہ لوگوں کے پاس پہنچے (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ اس سے وہ صخر شیطان مراد ہے (آیت ) ” ثم اناب “ (پھر اللہ کی طرف رجوع کیا) یعنی توبہ کی پھر اپنے مالک کی طرف متوجہ ہوئے یعنی سلیمان (علیہ السلام) ۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ میں جسدا سے مراد وہ جن ہے جس کو آصف کہا جاتا تھا سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا تو کس طرح لوگوں کو فتنہ میں ڈالتا ہے ؟ اس نے کہا مجھے اپنی انگوٹھی دکھائیے میں آپ کو بتادوں گا جب اس کو انگوٹھی دی تو آصف نے اس کو سمندر میں پھینک دیا تو سلیمان شہروں میں گھومنے لگے اور ان کی بادشاہی جاتی وہی آصف ان کی کرسی میں بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں سے روک دیا کہ وہ ان کے قریب نہیں جاتا تھا اور نہ وہ اس کے قریب جاتی تھیں بیویوں نے بھی اس معاملہ کو عجیب جانا اور لوگوں نے بھی تعجب کیا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کھانا منگوایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کیا تم مجھے پہچانتے ہو کہ میں سلیمان ہوں وہ لوگ ان کو جھٹلاتے یہاں تک کہ ایک عورت نے ایک دن ان کو مچھلی دی اور اس کا پیٹ چاک کیا اپنی انگوٹھی کو اس کے پیٹ میں پایا آپ کی حکومت آپ کو واپس مل گئی شیطان بھاگ گیا اور بھاگ کر سمندر میں داخل ہوگیا۔ موت سے بچنے کی صورت نہیں : 7:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں وابن مردویہ (رح) نے (ضعیف سند کے ساتھ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلیمان (علیہ السلام) کا ایک لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے ہر طرح جن سے کہا اس کو موت سے چھپا دو انہوں نے کہا ہم اس کو مشرق کی جانب لے جائیں گے فرمایا : اس کو وہاں بھی موت پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا مغرب کی طرف لے جائیں گے۔ فرمایا : اسے وہاں بھی موت پہنچ جائے گی۔ کہا سمندروں کی طرف لے جائیں گے فرمایا اس کو وہاں بھی موت پہنچ جائے گی۔ کہا : ہم اس کو آسمان اور زمین کے درمیان رکھ دیں گے۔ ملک الموت اس پر نازل ہوا اور کہا کہ بلاشبہ مجھے اس لڑکے کی روح قبض کرنے کا حکم دیا گیا ہے میں نے اس کو سمندر میں تلاش کیا، اور میں نے اس کو زمین کے اطراف میں تلاش کیا مگر اس کو نہ پایا اس درمیان کہ میں آسمان کی طرف واپس آرہا تھا تو میں نے اس کو پالیا میں نے اس کی روح کو قبض کرلیا اور اس بچے کے جسم کو نیچے لایا یہاں تک کہ سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پر آپڑا اور وہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ ابن سعد نے فرمایا کہ ہم کو واقدی نے خبر دی ہم کو معشر نے مقبری سے روایت کیا کہ سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس رات اپنی سو عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا (یعنی ان سے جماع کروں گا) ان میں سے ہر ایک بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ اور انشاء اللہ نہ کہا اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو ایسا ہی ہوجاتا آپ سو بیویوں کے پاس گئے (یعنی جماع کیا) سوائے ایک بیوی کے کسی کو حمل نہ ہوا اور وہ بھی ایک نامکمل انسان کے ساتھ حاملہ ہوئی راوی نے کہا کہ کوئی چیز سلیمان (علیہ السلام) کو اس نامکمل بچے سے بڑھ کر محبوب نہ تھی۔ راوی نے کہا کہ ان کی اولاد مرجاتی تھی ملک الموت ایک آدمی کی صورت میں آیا سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو اس کی طاقت رکھتا ہے کہ میرے بیٹے کی آٹھ دن تک موت مؤخر کردے جب اس کا وقت آجائے ؟ اس نے کہا : نہیں ! لیکن میں اس کی موت سے تین دن پہلے آپ کو بتادوں گا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے پاس جنوں سے فرمایا : کون میرے اس بیٹے کو چھپائے گا ؟ ان میں سے ایک نے کہا : میں اس کو آپ کے لئے مشرق میں چھپا دوں گا۔ اس نے پوچھا : آپ اس کو کسی سے چھپا رہے ہیں ؟ فرمایا ملک الموت سے۔ جن نے کہا : وہ اس کو دیکھ لے گا۔ دوسرے نے کہا میں اس کو ایسے دو ساتھیوں کے درمیان چھپادوں گا کہ وہ اس کو نہیں دیکھ سکے گا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : اگر کوئی چیز مناسب ہے تو یہ ہے جب اس کی موت کا وقت آیا تو ملک الموت نے زمین میں دیکھا تو اس کو اس کے مشرق میں نہ پایا اور نہ مغرب میں پایا اور سمندروں میں بھی اسے کہیں نہیں پایا اور اس کو دو جڑے ہوئے ساتھیوں میں دیکھ لیا اس کے پاس آکر اس کو پکڑ لیا اور اس کی روح کو سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر قبض کرلیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن “ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ کا یہی معنی ہے۔ مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی کا ملنا : 8:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے بیٹے ہوئے تھے اور وہ انگوٹھی کو تلاش کررہے تھے جو اچانک ان سے سمندر میں گرگئی تھی اور آپ کی بادشاہت اسی انگوٹھی میں تھی آپ (گھر سے) چلے اور ایک بڑے جن کو اپنے گھر میں نائب بنا گئے آپ ایک بڑھیا کے پاس آئے وہاں پناہ لے لی اس بڑھیا نے آپ سے کہا اگر آپ چاہیں تو چلے جائیں اور انگوٹھی تلاش کریں اور میں گھر کے کام کے لئے کافی ہوں اور اگر آپ چاہیں تو آپ گھر کا کام کریں اور میں جا کر ڈھونڈتی ہوں حضرت سلیمان (علیہ السلام) انگوٹھی تلاش کرنے کے لئے چلے گئے آپ ایک قوم کے پاس آئے جو مچھلی کا شکار کررہی تھی اور ان کے پاس آکر بیٹھ گئے انہوں نے مچھلیاں پھینکیں آپ ان مچھلیوں کو لے اس بڑھیا کے پاس پہنچے بڑھیا نے ان کو لیا تاکہ ان کو کاٹ چھانٹ کرلے اس نے مچھلی کے پیٹ کو چیرا تو اچانک اس میں وہ انگوٹھی تھی اس نے اس کو اٹھایا اور سلیمان (علیہ السلام) سے کہا یہ کیا ہے ؟ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو لے لیا اور اس کو پہن لیا تو ان کی طرف شیاطین انسان اور جنات اور پرند اور وحشی جانور آگئے اور شیطان بھاگ گیا جس کو آپ نے اپنے اہل و عیال پر نائب بنایا تھا۔ وہ سمندر کے جزیرہ میں آیا سلیمان (علیہ السلام) نے طاقتور جن ان کی طرف بھیجے تو انہوں نے کہا ہم اس پر قادر نہیں ہوئے کیونکہ وہ سمندر کے جزیرے کے ایک چشمے میں سات دنوں سے ایک دن آتا ہے۔ ہم اس پر قادر نہیں ہوسکتے جب تک وہ نشہ میں نہ ہو۔ راوی نے کہا اس کے لئے اس چشمے میں شراب کو ڈالا گیا وہ آیا اس میں سے پیا اور اس کو نشہ ہوگیا لوگوں نے اسے انگوٹھی دکھائی اس نے سمعا وطاعۃ کہا سلیمان (علیہ السلام) نے اس شیطان کو باندھ دیا پھر اس کو پہاڑ کی طرف لوگوں نے کہا کہ وہ دھویں کا پہاڑ ہے اور وہ دھواں جس کو وہ دیکھتے تھے اس کی ذات سے نکلتا تھا دھویں کا پہاڑ ہے، ا وروہ جو پہاڑ سے نکلتا تھا وہ اس کا پیشاب تھا۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے شیطان مراد ہے سلیمان (علیہ السلام) حمام میں داخل ہوئے اور اپنی انگوٹھی کو اس بیوی کے پاس رکھی جس پر بھروسہ تھا اس کے پاس سلیمان (علیہ السلام) کی صورت بنا کر شیطان آیا، اس سے انگوٹھی لے لی، جب سلیمان (علیہ السلام) حمام سے نکلے تو اس بیوی کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ میری انگوٹھی واپس کر اس نے کہا میں نے آپ کو دیدی ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا تو نے ایسا نہیں کیا (یعنی تو نے انگوٹھی نہیں دی) سلیمان (علیہ السلام) بھاگ گئے اور شیطان ان کے تخت پر بیٹھ گیا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے زمین میں بھاگنا شروع کیا، اور درخت کے پتے تلاش کرتے رہے پچاس دن تک، بنواسرائیل نے شیطان کے معاملہ کو عجیب جانا ان کے بعض نے بعض سے کہا کیا تم بھی مملکت کے کاموں میں کوئی عجیب چیزیں دیکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! پھر اس نے کہا تم لوگ ہلاک ہوگئے اور تمہارا ملک بھی تباہ ہوگیا انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! اس خبر کی حقیقت کا علم ہوسکتا ہے کیونکہ ان کی بیویاں تمہارے پاس ہیں ان سے پوچھو اگر وہ بھی کچھ عجیب چیزیں دیکھتی ہیں جو ہم دیکھتے ہیں تو یقینی بات ہے کہ ہم کسی آزمائش میں ڈالے گئے ان سے سوال کرو (ان سے سوال کیا گیا) توا نہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! ہم بھی عجیب صورتحال دیکھتی ہیں۔ جب وہ مدت پوری ہوگئی تو سلیمان (علیہ السلام) چلے یہاں تک کہ سمندر کے ساحل پر آئے تو مچھلی بعض مچھلیاں ان کی طاقت سے زیادہ تھیں انہوں نے مچھلیاں پھینک دیں۔ سلیمان (علیہ السلام) ان کے پاس آئے اور ان سے کھانا مانگا شکاریوں نے وہ مچھلیاں دے دیں فرمایا نہیں بلکہ مجھے اس میں سے کھلاؤ انہوں نے انکار کردیا۔ فرمایا مجھے نکالتے ہو، میں سلیمان ہوں ان میں سے ایک لاٹھی کی طرف جلدی سے اٹھا اور غصہ سے ان کو لاٹھی سے مارا، آپ ان مچھلیوں کے پاس آئے جو انہوں نے پھینک دی تھیں ان میں سے دونوں مچھلیوں کو لیا ان کو لے کر سمندر کی طرف گئے ان کو دھویا ان میں سے ایک کے پیٹ کو چیرا اچانک اس میں سے انگوٹھی تھی آپ نے وہ انگوٹھی لے لی اور اس کو پہن لیا۔ ان کی بادشاہٹ لوٹ آئی، مچھلیاں بیچنے کے لئے وہ شکار کرنے والے ان کے پاس آئے آپ کو بلوایا اور ان سے فرمایا میں نے تم سے کھانا مانگا تھا تم نے مجھے کھانا نہ دیا اور میں نے تم پر ظلم نہیں کیا جب تم نے میری اہانت کی جب تم میری عزت کرو گے تو میں تمہاری تعریف نہیں کروں گا۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب سلیمان (علیہ السلام) بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اپنی عورتوں میں سے سب سے زیادہ محبوب بیوی کو دے دیتے تھے۔ اچانک جب وہ بیت الخلاء سے نکلے اور ان کے لئے وضو کا پانی رکھا گیا تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اپنی بیوی کو دے دی جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس بیت الخلاء میں رہے، اس بیویوں کے پاس شیطان سلیمان (علیہ السلام) کی صورت میں آیا بیون نے چابی اس کو دیدی وہ اس سے تنگ پڑگیا اور اس نے انگوٹھی کو سمندر میں پھینک دیا مچھلی نے اس کو نگل لیا، سلیمان (علیہ السلام) اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے انگوٹھی مانگی۔ اس نے کہا میں آپ کو دے چکی ہوں۔ سلیمان (علیہ السلام) جان گئے کہ ان کو آزمائش میں ڈال دیا گیا آپ نکلے اور اپنے ملک کو چھوڑ دیا اور سمندر پر رہنے لگے بھوک، پیاس برداشت کرنے لگے ایک دن وہ شکار کرنے والوں کے پاس آئے جنہوں نے گزشتہ روز مچھلیاں شکار تھیں، جن کو پھینک دیا تھا اور جو آج انہوں نے شکار کی تھیں وہ ان کے ہاتھوں میں تھی، سلیمان (علیہ السلام) ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا مجھے کھانا کھلاؤ، اور اللہ تم میں برکت دے میں مسافر ہوں، انہوں نے ان کی طرف توجہ نہیں کی پھر انہوں نے دوبارہ اسی طرح کہا ایک آدمی نے ان کی طرف اپنا سراٹھایا اور کہا ان مچھلیوں کے پاس جاؤ اور اس میں سے ایک مچھلی لے لو، سلیمان (علیہ السلام) ان مچھلیوں کے پاس آئے اور اس میں سے ایک مچھلی لے لی، جب اس کو لیا تو اچانک اس میں بدبو تھی، آپ سمندر پر آئے اور اس کو دھویا اور اس کا پیٹ چاک کیا اچانک وہ انگوٹھی (موجود) تھی۔ اس پر انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی اور اس کو لے کر پہن لیا، آپ کے اردگرد ہر چیز کے لشکر بول پڑے اور اس بات سے وہ شکار کرنے والے لوگ گھبرا گئے۔ وہ آپ کی طرف اٹھے مگر ان کے اور سلیمان (علیہ السلام) کے درمیان رکاوٹ قائم کردی گئی۔ اور وہ ان کی طرف نہ پہنچ سکے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا ملک واپس کردیا۔ 11:۔ عبدبن حمید والحکیم ترمذی (رح) نے علی بن زید کے طریق سے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) لوگوں سے تین دن تک چھپے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اے سلیمان ! تو لوگوں سے تین دن تک چھپا رہا تو نے لوگوں کے معاملات میں نگہداشت نہ کی اور نہ ظالم سے مظلوم کو انصاف دلایا۔ اور آپ کی بادشاہت آپ کی انگوٹھی میں تھی اور جب وہ حمام میں داخل ہوتے تو اس کو اپنے بچھونے کے نیچے رکھ دیتے شیطان آیا اور اس کو اٹھالیا۔ لوگ شیطان کی طرف متوجہ ہوگئے، سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : اے لوگو ! میں سلیمان اللہ کا نبی ہوں مگر انہوں نے آپ کو دھکے دیئے یہ زمین میں چالیس دن چلتے پھرتے رہے، آپ کشتی والوں کے پاس آئے اور انہوں نے آپ کو ایک مچھلی دی جب اس کا پیٹ چاک کیا تو اچانک وہ انگوٹھی اس میں موجود تھی انہوں نے اس کو پہن لیا پھر آپ آئے اور شیطان کی پیشانی کے بالوں کو پکڑ لیا اس وقت یہ دعا فرمائی : قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی : (اے میرے رب ! مجھ کو ایسی حکومت عطا کیجئے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو) اور سب سے پہلے سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں نے اس معاملہ میں اجنبیت کو پہچانا۔ بعض عورتوں نے بعض سے کہا کیا تم اس سے کوئی اجنبی چیز دیکھتی ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں کہ وہ ان کے پاس حیض کی حالت میں آتا ہے۔ علی بن زید نے کہا میں نے یہ بات حسن کو ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ان کی بیویوں پر اس (شیطان) کو مسلط کردیں۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عبدالرحمن بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلیمان (علیہ السلام) کے فتنہ کے بارے میں بیان فرمایا کہ ان کی قوم میں ایک آدمی تھا جیسے میری امت میں عمر بن خطاب ؓ ہیں جب اس نے اس جن کی حالت میں کچھ تغیر کو دیکھا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جگہ پر تھا تو اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں کی طرف سے پیغام بھیجا۔ کیا تم اپنے صاحب کے بارے میں کوئی عجیب بات دیکھتی ہو انہوں نے کہا ہاں ! ہو حیض کی حالت میں ہمارے پاس نہیں آئے تھے اور یہ ہمارے پاس حیض کی حالت میں آتا ہے (یہ سن کر) اس نے تلوار اٹھائی تاکہ اس کو قتل کردے تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) پر ان کی بادشاہت واپس کردی آپ آئے توا سے اپنی جگہ پایا تو اس آدمی نے اپنے ارادہ سے آپ کو آگاہ کردیا۔ 13:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے مراد وہ شیطان ہے جس کو سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی دی تھی اور اس نے سمندر میں پھینک دی تھی اور سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت ان کی انگوٹھی میں تھی اور اس جن کا نام صخر تھا۔ 14:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ یعنی الجسد سے مراد وہ شیطان ہے کہ جس کو سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی دی تھی اس کو آصف کہا جاتا تھا۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے مراد ہے کہ وہ شیطان ان کے تخت پر چالیس دن تک بیٹھا۔ سلیمان (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں۔ ان میں ایک بیوی تھی جس کو جرادہ کہا جاتا تھا اور یہ آپ کی بیویوں میں سے پسندیدہ اور اعتماد والی تھی اور یہ ان پر ایمان لاتی تھیں اور جب وہ جنبی ہوتے تھے یا اپنی حاجت کو آتے تھے تو اپنی انگوٹھی کو اتار لیتے اس بیوی کے علاوہ کوئی بھی آپ کے لئے اعتماد والا نہ تھا، وہ ایک دن ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بھائی اور فلاں کے درمیان جھگڑا ہے اور میں یہ بات پسند کرتی ہوں کہ اس کے حق میں فیصلہ فرمائیں جب وہ آپ کے پاس آئے۔ فرمایا : ہاں اور ایسا نہ کیا کہ آپ آزمائش میں ڈال دیئے گئے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے انگوٹھی اس کو دیدی، آپ بیت الخلا میں داخل ہوئے اور شیطان ان کی شکل میں باہر نکلا اور کہ مجھے انگوٹھی دیدے اس عورت نے اس کو دیدی وہ شیطان آیا اور سلیمان (علیہ السلام) کی جگہ پر بیٹھ گیا اور سلیمان (علیہ السلام) بعد میں نکلے اور اس سے فرمایا میری انگوٹھی مجھے واپس کردیاس نے کہا میں نے تم کو پہلے دیدی تھی۔ فرمایا نہیں۔ راوی نے کہا پھر آپ اپنے مکان میں سرگرداں نکلے اور چالیس دنوں تک شیطان لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا رہا لوگوں نے اس کے فیصلے کو عجیب جانا بنواسرائیل کے قراء اور ان کے علماء اکھٹے ہوئے وہ آئے اور ان کی بیویوں کے پاس گئے انہوں نے کہا ہم نے اس کے معاملات کو عجیب جانا وہ چلے یہاں تک کہ اس جن کے پاس آگئے اور اس کو گھیر لیا پھر انہوں نے تورات کو کھولا اور اس کو پڑھا وہ دن کے درمیان اڑ گیا یہاں تک کہ وہ محل کے کنگرے پر جا گرا اور انگوٹھی اس کے پاس تھی پھر اڑا یہاں تک کہ سمندر کی طرف چلا گیا اس سے انگوٹھی سمندر میں گر پڑی تو سمندر کی مچھلیوں میں سے ایک مچھلی نے اس کو نگل لیا۔ اپنی اسی حالت میں سلیمان (علیہ السلام) آئے یہاں تک کہ وہ سمندر کے شکار کرنے والوں تک پہنچے اور وہ بھوکے تھے انہوں نے ان شکاریوں سے کھانا مانگا۔ انہوں نے دو مچھلیاں دیں آپ سمندر کے کنارے کی طرف کھڑے ہوئے ان کے پیٹوں کو چاک کیا تو ان میں سے ایک کے پیٹ میں سے اپنی انگوٹھی کو پالیا اور اس کو لے کر پہن لیا اللہ تعالیٰ نے ان کی حکومت اور شان و شوکت کو لوٹا دیا آپ نے اس شیطان کو پکڑ بھیجا اس کو لایا گیا تو آپ نے حکم دیا تو اس کو لوہے کے ایک صندوق میں رکھ دیا گیا پھر اسے بند کردیا گیا اور اس پر تالہ لگایا اور اپنی مہر لگا دی پھر حکم دیا تو اس کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ وہ قیامت کے قائم ہونے تک اسی میں رہے گا اور اس کا نام حیقین تھا۔ 16:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اناب “ (پھر انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا) کہ سلیمان (علیہ السلام) ایک عورت کے پاس گئے جو مچھلیاں بیچتی تھی۔ اس سے ایک مچھلی خریدی اس کا پیٹ چاک کیا اور اپنی انگوٹھی کو پایا پھر آپ جس درخت سے یا کسی چیز سے گزرتے تھے تو وہ ان کو سجدہ کرتی تھی یہاں تک کہ آپ اپنے ملک اور اہل و عیال تک پہنچ گئے۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” ثم اناب “ یعنی پھر (اللہ کی طرف) رجوع فرمایا۔
Top