Madarik-ut-Tanzil - Saad : 35
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ لِيْ : مجھے بخش دے تو وَهَبْ لِيْ : اور عطا فرما دے مجھے مُلْكًا : ایسی سلطنت لَّا يَنْۢبَغِيْ : نہ سزادار ہو لِاَحَدٍ : کسی کو مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد اِنَّكَ : بیشک تو اَنْتَ : تو الْوَهَّابُ : عطا فرمانے والا
(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
35: قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا (کہا اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت دے) ملک کا عطیہ طلب کرنے سے پہلے استغفار لائے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کا طریقہ چلا آرہا ہے کہ وہ سوال سے پہلے استغفار کرتے ہیں۔ لَّا یَنْچبَغِیْ (جو میسر نہ ہو) جو نہ ہو لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ (کسی کو میرے بعد) میرے سوا۔ قراءت : مدنی اور ابوعمرو نے بَعدِیَ پڑھا ہے۔ آپ نے اس انداز کی سلطنت مانگی تاکہ وہ معجزۃًہو تاکہ کسی کو اس پر حسد نہ ہو۔ آپ سے پہلے ہوا و شیاطین کسی کیلئے مسخر نہ ہوئے تھے۔ جب آپ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کو ان کے لئے مسخر فرمادیا۔ اور بطورمعجزہ اور خرق عادت کے طور پر دیا گیا۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ (آپ بڑے دینے والے ہیں)
Top