Madarik-ut-Tanzil - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
سلیمان ( علیہ السلام) کا امتحان : 34: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ (ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا) وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ (اور ان کے تخت پر لا ڈالا) کرسی سے تخت مراد ہے۔ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ (ایک دھڑ پھر انہوں نے رجوع کیا) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ ایک قول : سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش بیس سال حکومت کرنے کے بعد کی گئی۔ اور اس آزمائش کے بیس سال بعد آپ نے حکومت کی۔ ان کی آزمائش یہ تھی کہ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ شیاطین نے کہا اگر یہ زندہ رہا تو ہم مسخر ہونے سے چھوٹ نہیں سکتے۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ ان کو قتل کردیں یا اس کو پاگل بنادیں۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم ہوگیا۔ آپ اس کو بادل میں دودھ پلواتے تاکہ شیاطین کی طرف سے نقصان نہ پہنچے۔ ایک دن انہوں نے بچے کو اپنے تخت پر مردہ پایا۔ پس آپ اپنی اس لغزش پر متنبہ ہوئے کہ اس میں اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے تو اچھا تھا۔ روایت ِبخاری : نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر ازواج کے ہاں جائوں گا۔ ہر ایک ان میں سے ایک شہسواررو مجاہد فی سبیل اللہ جنے گی۔ انشاء اللہ نہ کہا۔ آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے کسی عورت کو حمل نہ ہوا سوائے ایک بیوی کے اس کے ہاں بھی ادھورا دھڑ جنا گیا۔ اسی کو لاکر کرسی پر ڈال دیا گیا اور آپ کی گود میں رکھ دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر آپ انشاء اللہ فرما دیتے تو تمام مجاہد و شہسوار پیدا ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ ] رواہ البخاری : 3424[ تبصرہ برتذکرہ : جو انگوٹھی اور شیطان کی بات لوگ بیان کرتے اور سلیمان (علیہ السلام) کے گھر میں بت کی پوجا کا تذکرہ کرتے ہیں وہ اباطیل یہود میں سے ہے۔
Top