Tafseer-e-Majidi - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان تخت پر ایک ادھورا جسم لا ڈالا پھر انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا،35۔
35۔ ہمارے بعض مفسرین نے (اللہ ان کی اجتہادی غلطیوں کو معاف فرمائے) اس مقام پر بعض عجیب عجیب قصے یہود کی کتابوں سے نقل کردیئے ہیں، جو کسی طرح بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے پیغمبر برحق کے شایان شان نہیں، لیکن محققین نے ان کے قبول کرنے سے قطعی انکار کردیا ہے۔ چناچہ امام المفسرین امام رازی (رح) لکھتے ہیں۔ اقول انا شدید التعجب من الناس کیف قبلوا ھذہ الوجوہ السخیفۃ مع ان العقل والنقل یردھا ولیس فی اثباتھا شبھۃ فضلا عن حجۃ (کبیر) مجھے بڑی حیرت ان لوگوں پر ہے کہ انہوں نے ایسی رکیک حکایات کو قبول ہی کیسے کرلیا، جبکہ عقل ونقل دونوں ان کی تردید کررہے ہیں، اور ان کی تائید میں کوئی دلیل تو کیا ہوتی، احتمالات تک بھی نہیں۔ اور مفسر ابوحیان نے لکھا ہے۔ نقل المفسرون فی ھذہ الفتنۃ والقاء الجسد اقوالا یجب براءۃ الانبیاء منھا یوقف علیھا فی کتبھم وھی منھا لایحل نقلھا وھی اما من اوضاع الیھود اوالزنادقۃ (بحر) مفسرین نے اس فتنہ اور القاء جسد کے سلسلہ میں ایسی باتیں نقل کردی ہیں، جن سے حضرات انبیاء کی تبری کرنا واجب ہے ان روایتوں کو ان کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے، یہاں نقل کرنا بھی جائز نہیں وہ یا تو یہود کی گڑھی ہوئی ہیں یا ملحدین کی۔ اور اس کی تائید صاحب روح المعانی نے بھی کی ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے محل میں 70 کی تعداد میں حرم تھے۔ اولاد کی خواہش خصوصا غزوہ جہاد کے اغراض سے دل میں پیدا ہونی قدرتی تھی، ایک روز آپ کے دل میں آیا کہ ایک شب میں اگر کل حرم حمل سے رہ جائیں، تو سوکڑیل جوان غزوہ جہاد کے لیے ہاتھ آسکتے ہیں۔.... یہ روایت جس صورت میں کہ بیان ہورہی ہے عقلا ذرا مستعبد ہے۔ لیکن اس پر کلی یا جزئی عمل ناممکن نہیں، بہرحال حسب روایت آپ نے ارادہ پر عمل بھی فرمایا لیکن نتیجہ حسب مرادنہ نکلا، صرف ایک خاتون کے حمل رہا اور ان سے بھی اولاد ناقص الخلقت پیدا ہوئی۔ جس کا جسم لاکر کرسی پر ڈال دیا گیا۔ (آیت) ” ثم اناب “۔ آپ کو اپنی اس غفلت پر، کہ حق تعالیٰ پر بھروسہ کے بجائے اپنی تدبیر پر اعتماد کیا، معا تنبہ ہوا، اور آپ نے فورا توبہ و استغفار کیا۔ یہ لغزش کوئی معصیت کے درجہ کی چیزہرگز نہ تھی، جیسا کہ ظاہر ہے۔ لیکن آپ کے مرتبہ نبوت سے اتنی غفلت بھی فروترتھی۔ بعض قصے اس سلسلہ میں سرتاسر مہمل، ہماری کتابوں میں بھی نقل ہوگئے ہیں، محققین انکے یکسر منکر ہیں۔ امام رازی (رح) نے فرمایا ہے۔ واعلم ان اھل التحقیق استبعدواھذا الکلام من وجوہ محققین نے اس کلام کو دلائل کے ساتھ رد کردیا ہے۔ اور ابن کثیر نے لکھا ہے :۔ وکلھا متلقاۃ من قصص اھل الکتاب۔ یہ روایت ساری کی ساری اہل کتاب کے ہاں سے آئی ہے۔ اور یہ اہل کتاب وہی ہیں۔ وفیھم طائفۃ لایعتقدون نبوۃ سلیمان (علیہ السلام) والظاھر انھم یکذبون علیہ۔ جن کا ایک گروہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نبوت ہی کا منکر ہے۔ اور یہ کھلی بات ہے کہ ان لوگوں نے آپ کے خلاف یہ گڑھ لیا ہے۔
Top