Tafheem-ul-Quran - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور اسماعیلؑ  اور اَلیَسیع 50 اور ذوالکِفل 51 کا ذکر کرو،  یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے
سورة صٓ 50 قرآن مجید میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام آیت 86 میں۔ دوسرے اس جگہ۔ اور دونوں مقامات پر کوئی تفصیل نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے کرام کے سلسلے میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے اکابر انبیاء میں سے تھے۔ دریائے اُردُن کے کنارے ایک مقام ایبل محولہ (Abel Meholah) کے رہنے والے تھے۔ یہودی اور عیسائی ان کو اِلِیشَع (elisha) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حضرت الیاس ؑ جس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں پناہ گزیں تھے، ان کو چند اہم کاموں کے لیے شام و فلسطین کی طرف واپس آنے کا حکم دیا گیا، جن میں سے ایک کام یہ تھا یہ حضرت الیسع کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔ اس فرمان کے مطابق جب حضرت الیاس ان کی بستی پر پہنچے تو دیکھا کہ یہ بارہ جوڑی بیل آگے لیے زمین جوت رہے ہیں اور خود بارہویں جوڑی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر اپنی چادر ڈال دی اور یہ کھیتی باڑی چھوڑ کر ساتھ ہولیے (سلاطین، باب 19، فقرات 15۔ تا۔ 21)۔ تقریباً دس بارہ سال یہ ان کے زیر تربیت رہے پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا تو یہ انکی جگہ مقرر ہوئے۔ (2 سلاطین، باب 2)۔ بائیبل کی کتاب 2 سلاطین میں باب 2 سے 13 تک ان کا تذکرہ بڑی تفصیل کے ساتھ درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی فلسطین کی اسرائیلی سلطنت جب شرک و بت پرستی اور اخلاقی نجاستوں میں غرق ہوتی چلی گئی تو آخر کار انہوں نے یا ہو بن یہوسفط بن نمسی کو اس خانوادہ شاہی کے خلاف کھڑا کیا جس کے کرتوتوں سے اسرائیل میں یہ برائیاں پھیلی تھیں، اور اس نے نہ صرف بعل پرستی کا خاتمہ کیا، بلکہ اس بدکردار خاندان کے بچے بچے کو قتل کردیا۔ لیکن اس اصلاحی انقلاب سے بھی وہ برائیاں پوری طرح نہ مٹ سکیں جو اسرائیل کی رگ رگ میں اتر چکی تھیں، اور حضرت الیسع کی وفات کے بعد تو انہوں نے طوفانی شکل اختیار کرلی، یہاں تک کہ سامریہ پر اشوریوں کے پے در پے حملے شروع ہوگئے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، ص 597۔ اور تفسیر سورة صافات، 70۔ 71) سورة صٓ 51 حضرت ذوالکفل کا ذکر بھی قرآن مجید میں دو ہی جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انبیاء۔ دوسرے یہ مقام۔ ان کے متعلق ہم اپنی تحقیق سورة انبیاء میں بیان کرچکے ہیں۔ (تفہیم القرآن جلد سوم، ص 181، 182)
Top