تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 44
هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ع﴿44﴾
- هُنَالِكَیہاں
- الْوَلَايَةُاختیار
- لِلّٰهِاللہ کے لیے
- الْحَقِّبرحق
- هُوَوہ
- خَيْرٌبہتر
- ثَوَابًاثواب دینے میں
- وَّخَيْرٌاور بہتر
- عُقْبًابدلہ دینے میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس وقت سارا اختیار صرف خدائے برحق ہی کا ہے اور وہ بہترین اجر اور بہترین انجام والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
هُنَالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا
بدوں پر عذاب نیکوں کی داد رسی ہے : ھنالک، کا اشارہ ساعت عذاب کے ظہور کی طرف ہے۔ یعنی جب وہ وقت آجائے گا تو پھر تمام اختیار خدائے برحق ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ کسی دوسرے کی کچھ پیش نہیں کی جائے گی، اور وہ اپنے صالح بندوں کو بہترین ثواب اور بہتر انجام سے نوازے گا۔ اوپر بدکاروں کے انجام کا ذکر ہوچکا تھا اس وجہ سے یہاں صرف خوب کاروں کے انجام کا ذکر ہوا۔ نیز یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عذاب دنیا ہو یا عذاب آخرت اس سے اصل مقصود نیکوں کی داد رسی ہے۔ بدوں کو سزا دینا اس کا اصل مقصد نہیں بلکہ لازمی نتیجہ ہے۔