Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 6

  1. لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ﴿6﴾

    1. لِتُنْذِرَتاکہ آپ ڈرائیں
    2. قَوْمًاوہ قوم
    3. مَّآ اُنْذِرَنہیں ڈرائے گئے
    4. اٰبَآؤُهُمْان کے باپ (دادا)
    5. فَهُمْپس وہ
    6. غٰفِلُوْنَغافل (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ تم ان لوگوں کو آگاہ کرو جن کے اگلوں کو آگاہ نہیں کیا گیا پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لتنذر قوما ما انذرا اباء ھم فھم غفلون (6) یہ قرآن کے اتارنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ نے اس کو اس اہتمام سے اس لئے اتارا ہے کہ جن کے اندر تم سے پہلے کسی رسول کی بعثت نہیں ہوئی تھی اور غفلت میں پڑے ہوئے تھے ان کو تم زندگی کے انجام سے اچھی طرح آگاہ کردو۔ یہ اشارہ بنی اسماعیل کی طرف ہے اور یہ اس عظیم احسان کا بیان ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کی دعا اور حضرت انبیاء (علیہم السلام) کی پشین گوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے امیوں پر کیا۔ اس میں ان کے لئے ترغیب کے ساتھ یہ ترہیب بھی ہے کہ اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو اپنے لئے سب سے بڑ سعادت کی جگہ سب سے بڑی شقاوت کا سامان کریں گے۔ یہی مضمون دوسرے مقامات میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ لتنذر قوما ما اشھم من نذیر یرمن قبلک (القصص : 46) (تاک تم ان لوگوں کو آگاہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا)۔