تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 38. Saad · Ayah 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ﴿5﴾
- اَجَعَلَکیا اس نے بنادیا
- الْاٰلِهَةَ(جمع) معبود
- اِلٰهًامعبود
- وَّاحِدًا ښایک
- اِنَّ ھٰذَابیشک یہ
- لَشَيْءٌایک شے (بات)
- عُجَابٌبڑی عجیب
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک کردیا۔ یہ تو بڑی ہی عیب بات ہوئی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اجعل الا لھۃ الھا واجب ان ھذا بشیء عجاب (5)
قریش کا زہریلا پروپیگنڈا
آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت کے ساتھ دوسری چیز جس سے قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ تھی وہ آپ کی دعوت توحید تھی۔ اس کی آڑے کر وہ اپنے عوام کو آپ کے خلاف خوب بھڑکاتے چونکہ قبیلہ قبیلہ کے بت جدا جدا تھے اور ہر قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا اس وجہ سے وہ قبائل کی عصبیت بھڑکانے کے لئے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کر کے ایک معبود بنا ڈالا، اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے ! اس فقرے کے اندر غور کیجیے تو دو زہر چھپے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس شخص نے اس معبود کے سوا جس کو یہ خود معبود مانتا ہے دوسرے تمام معبودوں کی خدائی ختم کردی۔ دوسرا یہ کہ یہ اس نے ایسی حرکت کی ہے جو ایک نہایت انوکھی حرکت ہے جس کی کوئی مثال ہم اپنے آباء و اجداد کی تاریخ میں نہیں پاتے۔ لفظ عجاب کے اندر عجیب کے مقابل میں مبالغہ کا مفہم پایا جاتا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ پروپیگناڈا پوری قوم عرب کو آنحضرت ﷺ کے خلاف مشتعل کردینے کے لئے کافی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے اپنے پیغمبر کو محفوظ رکھا۔