Tadabbur-e-Quran - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک کردیا۔ یہ تو بڑی ہی عیب بات ہوئی !
اجعل الا لھۃ الھا واجب ان ھذا بشیء عجاب (5) قریش کا زہریلا پروپیگنڈا آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت کے ساتھ دوسری چیز جس سے قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ تھی وہ آپ کی دعوت توحید تھی۔ اس کی آڑے کر وہ اپنے عوام کو آپ کے خلاف خوب بھڑکاتے چونکہ قبیلہ قبیلہ کے بت جدا جدا تھے اور ہر قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا اس وجہ سے وہ قبائل کی عصبیت بھڑکانے کے لئے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کر کے ایک معبود بنا ڈالا، اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے ! اس فقرے کے اندر غور کیجیے تو دو زہر چھپے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس شخص نے اس معبود کے سوا جس کو یہ خود معبود مانتا ہے دوسرے تمام معبودوں کی خدائی ختم کردی۔ دوسرا یہ کہ یہ اس نے ایسی حرکت کی ہے جو ایک نہایت انوکھی حرکت ہے جس کی کوئی مثال ہم اپنے آباء و اجداد کی تاریخ میں نہیں پاتے۔ لفظ عجاب کے اندر عجیب کے مقابل میں مبالغہ کا مفہم پایا جاتا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ پروپیگناڈا پوری قوم عرب کو آنحضرت ﷺ کے خلاف مشتعل کردینے کے لئے کافی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے اپنے پیغمبر کو محفوظ رکھا۔
Top