Al-Quran-al-Kareem - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا ؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔
اَجَعَلَ الْاٰلِـهَةَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا : یعنی کیا ایک ”اللہ“ ہی ساری کائنات کا نظام چلا رہا ہے اور وہ ایک ہی عبادت کا مستحق ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس نے تو وہ سارے دیوتا اور داتا و دستگیر ہی ختم کردیے جنھیں دنیا مانتی چلی آئی ہے۔ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ :”عُجَابٌ“ عجیب کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ زیادہ ہے، جیسا کہ لمبے آدمی کو ”طویل“ کہتے ہیں اور زیادہ ہی لمبا ہو تو اسے ”طُوال“ کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دینا ان کی نظر میں حد سے زیادہ عجیب بات تھی، کیونکہ ان کے نزدیک اپنے آباء سے سنی ہوئی بات کے خلاف کوئی بات انتہائی عجیب بات تھی، جیسا کہ ان کی زبانی آگے آ رہا ہے۔ ان لوگوں کو عقیدۂ توحید عجیب معلوم ہو رہا تھا، حالانکہ تعجب کی چیز عقیدۂ شرک ہے، جس پر نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی۔
Top