Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 36. Yaseen · Ayah 52

Tafseer
  1. قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ﴿52﴾

    1. قَالُوْاوہ کہیں گے
    2. يٰوَيْلَنَااے وائے ہم پر
    3. مَنْۢ بَعَثَنَاکس نے اٹھا دیا ہمیں
    4. مِنْسے
    5. مَّرْقَدِنَا ۆہماری قبریں
    6. ھٰذَایہ
    7. مَا وَعَدَجو وعدہ کیا
    8. الرَّحْمٰنُرحمن۔ اللہ
    9. وَصَدَقَاور سچ کہا تھا
    10. الْمُرْسَلُوْنَرسولوں
Translation · Tafheem-ul-Quran
گھبرا کر کہیں گے”ارے ، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے اُٹھا کھڑا کیا؟“ 48۔۔۔۔ ”یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسُولوں کی بات سچی تھی۔“ 49
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یٰسٓ 48 یعنی اس وقت انہیں یہ احساس نہ ہوگا کہ وہ مر چکے تھے اور اب ایک مدت دراز کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گئے ہیں، بلکہ وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم سوئے پڑے تھے، اب یکایک کسی خوفناک حادثہ کی وجہ سے ہم جاگ اٹھے ہیں اور بھاگے جا رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 123۔ 199۔ 200۔) سورة یٰسٓ 49 یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ جواب دینے والا کون ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر بعد خود انہی لوگوں کی سمجھ میں معاملہ کی اصل حقیقت آجائے اور وہ آپ ہی اپنے دلوں میں کہیں کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ تو وہی چیز ہے جس کی خبر خدا کے رسول ہمیں دیتے تھے اور ہم اسے جھٹلایا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل ایمان ان کی غلط فہمی رفع کریں اور ان کو بتائیں کہ یہ خواب سے بیداری نہیں بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جواب قیامت کا پورا ماحول ان کو دے رہا ہو، یا فرشتے ان کو حقیقت حال سے مطلع کریں۔
Tafheem-ul-Quran - 36 : 52