Urwatul-Wusqaa - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان (علیہ السلام) (جیسا بیٹا) دیا وہ نہایت ہی خوب بندہ تھا اور بلاشبہ وہ (ہماری طرف) رجوع کرنے والا تھا
دائود (علیہ السلام) کا بیٹا سلیمان بھی ایک بہت ہی اچھا آدمی تھا 30۔ گزشتہ آیات میں دائود (علیہ السلام) پر جو انعامات کیے گئے ہیں ان کا بیان تھا اور بلاشبہ انہی انعامت میں سے ایک انعام سلیمان (علیہ السلام) جیسا بٹاج بھی تھا۔ گزشتہ واقعات میں ایک اور یاہ کی بیوی کا بیان بھی تھا جس کا ذکر مفسرین نے کیا ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مفسرین نے اس بیوی کو سلیمان (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ٹھہریا ہے جس کا نام ” بت سبع “ لیا جاتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر بھی پیچھے سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے اور آپ کی سرگزشت بھی عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الانبیاء ص 161 پر درج کی جا چکی ہے۔ زیر نظر آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کو ( نعم العبد) کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا بتایا گیا ہے گویا سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد دائود (علیہ السلام) کا صحیح وارث اور جانشین ثابت ہوا۔
Top