Tafseer-e-Usmani - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے جانچا سلیمان کو اور ڈال دیا اس کے تخت پر ایک دھڑ پھر وہ رجوع ہوا6 
6 حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی تمام عورتوں کے پاس جاؤں گا (جو تعداد میں ستر یا نوے یا سو کے قریب تھیں) اور ہر ایک عورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ فرشتہ نے القاء کیا کہ " انشاء اللہ " کہہ لیجئے۔ مگر (باوجود دل میں موجود ہونے کے) زبان سے نہ کہا خدا کا کرنا کہ اس مباشرت کے نتیجے میں ایک عورت نے بھی بچہ نہ جنا۔ صرف ایک عورت سے ادھورا بچہ ہوا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دایہ نے وہ ہی ادھورا بچہ ان کے تخت پر لا کر ڈال دیا۔ کہ لو ! یہ تمہاری قسم کا نتیجہ ہے (اسی کو یہاں " جسد " (دھڑ) سے تعبیر کیا ہے) یہ دیکھ کر حضرت سلیمان ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ اور " انشاء اللہ " نہ کہنے پر استغفار کیا۔ نزدیکاں رابیش بود حیرانی۔ حدیث میں ہے کہ اگر " انشاء اللہ " کہہ لیتے تو بیشک اللہ ویسا ہی کردیتا جو ان کی تمنا تھی۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر دوسری طرح کی ہے اور اس موقع پر بہت سے بےسروپا قصے سلیمان (علیہ السلام) کی انگشتری اور جنوں کے نقل کیے ہیں جسے دلچسپی ہو۔ کتب تفاسیر میں دیکھ لے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " ولقد رویت ہذہ القصتہ مطولۃ عن جماعۃ من السلف ؓ وکلہا متلقاہ من قصص اہل الکتاب۔ واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Top