19. Maryamمريم
Mary · Meccan · 98 ayahs · 6 rukus · ڈاکٹر اسرار احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ﴿1﴾
كۗهٰيٰعۗصۗذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ﴿2﴾
یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کیاِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا﴿3﴾
جب اس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکےقَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا﴿4﴾
اس نے عرض کیا اے میرے پروردگار بلا شبہ میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میرا سر بھڑک اٹھا ہے بڑھاپے سے اور اے میرے پروردگار میں تجھے پکار کر کبھی بھی نامراد نہیں رہاوَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ﴿5﴾
اور مجھے اندیشہ ہے اپنے بھائی بندوں سے اپنے بعد اور میری بیوی بانجھ ہے تو تو مجھے خاص اپنے پاس سے ایک ولی عطا کریَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا﴿6﴾
جو وارث ہو میرا اور آل یعقوب کا اور اے میرے پروردگار ! اس کو بنائیو پسندیدہیٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا﴿7﴾
اے زکریا ؑ ! ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں ایک لڑکے کی جس کا نام یحییٰ ہوگا ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایاقَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا﴿8﴾
اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! میرے ہاں بیٹا کیسے ہوجائے گا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں پہنچ چکا ہوں بڑھاپے کے باعث سوکھ جانے کی حالت کوقَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا﴿9﴾
فرمایا : ایسے ہی ہوگا ! تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے اور تمہیں بھی تو میں نے پیدا کیا اس سے پہلے جبکہ تم کچھ بھی نہیں تھےقَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا﴿10﴾
عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرمادے فرمایا : تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم گفتگو نہیں کرسکو گے لوگوں سے تین راتیں متواترفَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿11﴾
پھر وہ حجرے سے نکل کر اپنی قوم کی طرف آیا اور انہیں اشارے سے کہا کہ تم لوگ تسبیح بیان کرو صبح وشامیٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ﴿12﴾
اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور ہم نے اس کو عطا کردی حکمت و دانائی بچپن ہی میںوَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ﴿13﴾
اور ہماری طرف سے سوزو گداز والی محبت اور پاکیزگی (اسے عطا ہوئی) اور وہ بہت متقی تھاوَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا﴿14﴾
اور وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا اور خود سر و نافرمان نہیں تھاوَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ع﴿15﴾
اور سلام اس پر جس دن اس کی ولادت ہوئی جس دن اسے موت آئے اور جس دن وہ اٹھایا جائے زندہ کر کےوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ﴿16﴾
اور (اب) ذکر کیجیے اس کتاب (قرآن) میں مریم کا جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر ایک شرقی گوشے میں جا بیٹھیفَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا﴿17﴾
تو اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کرلیا پس ہم نے بھیجا اس کی طرف اپنا ایک فرشتہ تو اس نے صورت اختیار کی اس (مریم) کے سامنے ایک مکمل انسان کیقَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا﴿18﴾
مریم نے کہا : میں رحمن کی پناہ مانگتی ہوں تم سے اگر تم کوئی متقی شخص ہوقَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا﴿19﴾
اس نے کہا : میں تو آپ کے رب کا فرستادہ ہوں تاکہ میں آپ کو ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںقَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا﴿20﴾
مریم نے کہا : میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں کوئی بدچلن عورت ہوںقَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا﴿21﴾
اس (فرشتے) نے کہا : ایسے ہی ہوگا آپ کا رب فرماتا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے تاکہ ہم اسے بنائیں ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور یہ ایک طے شدہ امر ہےفَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا﴿22﴾
تو اسے اس (بچے) کا حمل ٹھہر گیا چناچہ وہ اسے لے کر ایک دور جگہ پر چلی گئیفَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا﴿23﴾
پھر لے آیا اسے درد زہ ایک کھجور کے تنے کے پاس۔ (اس کیفیت میں) اس نے کہا : کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور ایک بھولی بسری چیز ہوچکی ہوتیفَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا﴿24﴾
تو اس نے پکارا اسے اس کے نیچے سے کہ آپ غمگین نہ ہوں (دیکھئے) آپ کے رب نے آپ کے (قدموں کے) نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہےوَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘﴿25﴾
اور آپ اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلایئے آپ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں جھڑ پڑیں گیفَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ﴿26﴾
پس آپ کھایئے اور پیجئے اور (اپنی) آنکھیں ٹھنڈی کیجیے اور اگر آپ دیکھیں کسی آدمی کو (اور وہ آپ سے پوچھے) تو اس سے (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے نذر مانی ہے رحمن کے لیے روزے کی لہٰذا میں بات نہیں کروں گی آج کسی انسان سےفَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا﴿27﴾
پھر وہ لے آئی اس کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لوگوں نے کہا : اے مریم ! یقیناً تم ایک طوفان گھڑ لائی ہویٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ﴿28﴾
اے ہارون کی بہن ! نہ تو تمہارا والد برا آدمی تھا اور نہ ہی تمہاری والدہ بدکار تھیفَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا﴿29﴾
تو اس نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گود میں پڑابچہ ہےقَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ﴿30﴾
اس (بچے) نے کہا : میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہےوَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ﴿31﴾
اور مجھے بابرکت بنایا ہے جہاں کہیں بھی میں ہوں گا اور مجھے اس نے تاکید کی ہے نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں زندہ رہوںوَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا﴿32﴾
اور (اس نے مجھے بنایا) بھلائی کرنے والا اپنی والدہ کے ساتھ اور اس نے مجھے ُ تند خو بدبخت نہیں بنایاوَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا﴿33﴾
اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں جنا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن مجھے اٹھایا جائے گا زندہ کر کےذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ﴿34﴾
یہ ہیں عیسیٰ ؑ ٰ ابن مریم ! یہ ہے حق کی بات جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے ہیںمَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ﴿35﴾
اللہ کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ (اس سے) پاک ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہےوَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿36﴾
اور یقیناً اللہ ہی ہے میرا رب بھی اور تمہارا رب بھی تو تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہےفَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿37﴾
پھر اختلافات پیدا کرلیے (مختلف) گروہوں نے آپس میں۔ تو بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس بڑے دن کی پیشی سےاَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾
کیا ہی اچھا وہ سن رہے ہوں گے اور کیا ہی اچھا وہ دیکھ رہے ہوں گے جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیںوَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿39﴾
اور (اے نبی ﷺ !) آپ انہیں خبر دار کردیجیے اس یوم حسرت سے جب ہر معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ البتہ (اب) یہ لوگ غفلت میں مبتلا ہیں لہٰذا یہ ایمان نہیں لائیں گےاِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠﴿40﴾
یقیناً ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کوئی اس پر موجود ہے (اس کے بھی) اور یہ سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گےوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاع﴿41﴾
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا۔ یقیناً وہ صدیقّ نبی تھےاِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا﴿42﴾
یاد کیجئے جب ابراہیم نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! آپ کیوں بندگی کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سن سکتی ہیں اور نہ دیکھ سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کے کچھ کام آسکتی ہیںیٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا﴿43﴾
ابا جان ! یقیناً میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا پس آپ میری پیروی کیجیے میں آپ کو دکھاؤں گا سیدھاراستہیٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا﴿44﴾
ابا جان ! آپ شیطان کی بندگی نہ کیجیے شیطان یقیناً رحمن کا نافرمان تھایٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا﴿45﴾
اباجان ! مجھے اندیشہ ہے کہ رحمن کی طرف سے کوئی عذاب آپ کو آپکڑے اور پھر آپ شیطان ہی کے ساتھی بن کر رہ جائیںقَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا﴿46﴾
اس نے کہا : اے ابراہیم ! کیا تم کنارہ کشی کر رہے ہو میرے معبودوں سے اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا اور تم مجھے چھوڑ (کر چلے) جاؤ ایک مدت تکقَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا﴿47﴾
ابراہیم ؑ نے کہا : آپ پر سلام ! میں اپنے رب سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا وہ مجھ پر بڑا مہربان ہےوَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا﴿48﴾
اور میں کنارہ کشی کرتا ہوں آپ سے بھی اور ان (تمام معبودوں) سے بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا مجھے یقین ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہیں رہوں گافَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا﴿49﴾
پھر جب ابراہیم ؑ نے ان سب سے کنارہ کشی کرلی اور ان سے بھی جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے تو ہم نے آپ ؑ کو عطا کیا اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) اور ہر ایک کو نبی بنایاوَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ع﴿50﴾
اور ہم نے ان سب کو اپنی خصوصی رحمت سے حصہ عطا فرمایا اور ان کو اعلیٰ درجے کی سچی شہرت عطا فرمائیوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا﴿51﴾
اور کتاب میں تذکرہ کیجیے موسیٰ ؑ کا یقیناً وہ تھے خاص کیے گئے اور وہ تھے رسول نبیوَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا﴿52﴾
اور ہم نے انہیں پکارا طور کی دائیں جانب سے اور انہیں اپنے قریب کیا سرگوشی کے لیےوَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا﴿53﴾
اور ہم نے انہیں عطا کیا اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کروَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ﴿54﴾
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا (بھی) یقیناً وہ وعدے کے سچے تھے اور وہ (بھی) رسول نبی تھےوَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا﴿55﴾
اور وہ حکم دیتے تھے اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھےوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ﴿56﴾
اور تذکرہ کیجیے کتاب میں ادریس ؑ کا (بھی) یقیناً وہ صدیقّ نبی تھےوَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا﴿57﴾
اور ہم نے انہیں اٹھایا بلند مقام پراُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩۩﴿58﴾
یہ ہیں وہ لوگ جن پر انعام فرمایا اللہ نے انبیاء میں سے اولادِآدم ؑ میں سے اور ان لوگوں (کی نسل) میں سے جنہیں سوار کرایا ہم نے (کشتی میں) نوح ؑ کے ساتھ اور ابراہیم ؑ اور یعقوب ؑ کی نسل میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت دی اور جنہیں ہم نے ُ چن لیا جب تلاوت کی جاتیں ان پر رحمن کی آیات تو وہ گرپڑتے تھے (اللہ کی جناب میں) سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئےفَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ﴿59﴾
پھر جانشین ہوئے ان کے بعد نا خلف لوگ انہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خواہشات کی پیروی کی تو عنقریب وہ ملیں گے گمراہی سےاِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ﴿60﴾
سوائے ان کے جنہوں نے توبہ کی اور وہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر قطعاً کوئی ظلم نہیں کیا جائے گاجَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا﴿61﴾
(انہیں ملیں گے) عیش دوام کے باغات جن کا وعدہ کیا تھا رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں یقیناً اس کا وعدہ تو پورا ہونے والا ہی ہےلَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿62﴾
وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغوبات مگر صرف سلام اور ان کے لیے ان کا رزق ہوگا اس میں صبح اور شامتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا﴿63﴾
یہ ہے وہّ جنت جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں میں سے ان کو جو متقی ہوں گےوَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ﴿64﴾
اور (اے نبی ﷺ !) ہم (فرشتے) نہیں نازل ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے اسی کے اختیار میں ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ ﷺ کا رب بھولنے والا نہیں ہےرَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ع﴿65﴾
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اس کا جو ان دونوں کے مابین ہے پس آپ ﷺ اسی کی عبادت کریں اور جمے رہیں اس کی عبادت پر۔ کیا آپ جانتے ہیں کوئی اس کا ہم ناموَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا﴿66﴾
اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو پھر مجھے زندہ کر کے نکال لیا جائے گااَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا﴿67﴾
کیا انسان یہ بات یاد نہیں کرتا کہ ہم نے ہی اسے پیدا کیا تھا اس سے پہلے جبکہ وہ کچھ بھی نہیں تھافَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ﴿68﴾
تو آپ ﷺ کے رب کی قسم ! ہم ضرور جمع کریں گے انہیں اور تمام شیطانوں کو بھی پھر ہم ضرور حاضر کریں گے انہیں جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئےثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ﴿69﴾
پھر ہم ضرور چھانٹ کر نکال لیں گے ہر گروہ میں سے ہر اس شخص کو جو ان میں سب سے زیادہ سخت تھا رحمن کے خلاف سرکشی میںثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا﴿70﴾
پھر ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو اس میں پہلے داخل ہونے کے لائق ہوں گےوَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ﴿71﴾
اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس پر وارد نہ ہو۔ یہ آپ کے رب کا حتمی فیصلہ ہےثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا﴿72﴾
پھر ہم بچا لے جائیں گے انہیں جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی اور چھوڑ دیں گے ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئےوَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا﴿73﴾
اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو یہ کافر اہل ایمان سے کہتے ہیں کہ (دیکھو !) دونوں گروہوں میں سے کس کا مقام بہتر ہے اور کس کی مجلس اچھی ہےوَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا﴿74﴾
اور ہم کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے کہیں بڑھ کر تھیں سازوسامان اور شان و شوکت میںقُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا﴿75﴾
(اے نبی ﷺ !) آپ ان کو بتا دیجیے کہ جو کوئی گمراہی میں پڑجاتا ہے تو رحمن اسے بہت زیادہ ڈھیل دے دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے جس کی انہیں وعید دی جا رہی ہے خواہ عذاب ہو یا قیامت تب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے مقام و مرتبہ میں بد تر اور (کون ہے) لاؤ لشکر کے اعتبار سے کمزور تروَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا﴿76﴾
اور اللہ بڑھاتا ہے ان لوگوں کو ہدایت میں جنہوں نے ہدایت اختیار کی اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں آپ ﷺ کے رب کے نزدیک بدلے کے اعتبار سے بھی اور بہتر ہیں انجام کے اعتبار سے بھیاَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ﴿77﴾
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے (آخرت میں بھی) مال اور اولاد سے لازماً نوازا جائے گااَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ﴿78﴾
کیا وہ غیب پر مطلعّ ہوچکا ہے ؟ یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہےكَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ﴿79﴾
ہر گز نہیں ! ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اور اس کے لیے عذاب کو ہم بڑھاتے چلے جائیں گےوَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا﴿80﴾
اور ہم وارث ہوں گے اس سب کچھ کے جس کا وہ ذکر کر رہا ہے اور وہ آئے گا ہمارے پاس اکیلاہیوَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ﴿81﴾
اور انہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے سوا دوسرے معبود تاکہ وہ ان کے لیے مددگار بنیںكَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ع﴿82﴾
ہر گز نہیں ! وہ تو ان لوگوں کی عبادت کا انکار کردیں گے اور (وہاں) وہ ان لوگوں کے مخالف ہوجائیں گےاَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ﴿83﴾
کیا آپ ﷺ نے دیکھا نہیں کہ ہم کافروں پر شیاطین کو بھیجتے رہتے ہیں اور وہ انہیں خوب خوب اکساتے ہیںفَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ﴿84﴾
تو آپ ﷺ ان کے خلاف (فیصلے کے لیے) جلدی نہ کیجیے ہم ان کی پوری پوری گنتی کر رہے ہیںیَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ﴿85﴾
(ذرا تصور کریں اس دن کا) جس دن اہل تقویٰ کو ہم جمع کر کے لائیں گے رحمن کی طرف وفود کی صورت میںوَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ﴿86﴾
اور مجرموں کو ہم ہانک کرلے جائیں گے جہنم کی طرف پیاسےلَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ﴿87﴾
اس دن کسی کو شفاعت کا اختیار نہیں ہوگا سوائے اس کے جس نے رحمن سے کوئی عہد حاصل کرلیا ہووَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ﴿88﴾
اور وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے (اپنے لیے) اولاد اختیار کی ہےلَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ﴿89﴾
(دیکھو !) تم یہ ایک بہت بھاری بات لائے ہوتَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ﴿90﴾
قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گرپڑیںاَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ﴿91﴾
کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد قرار دیوَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ﴿92﴾
اور یہ بات رحمن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو اپنی) اولاد بنائےاِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ﴿93﴾
نہیں ہے کوئی آسمانوں اور زمین میں مگر وہ آئے گا رحمن کے حضور بندے کی حیثیت سےلَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ﴿94﴾
اس نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور پوری پوری گنتی کر رکھی ہےوَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا﴿95﴾
اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اس کے پاس اکیلے اکیلےاِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴿96﴾
یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے عنقریب ان کے لیے رحمن (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گافَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا﴿97﴾
تو ہم نے آسان کردیا ہے اس (قرآن) کو آپ ﷺ کی زبان میں تاکہ آپ ﷺ بشارت دیں اس کے ساتھ متقین کو اور خبردار کریں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کووَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ع﴿98﴾
اور ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا۔ کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی یا آپ ﷺ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی