8. Al-Anfaalالأنفال
The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs · 10 rukus · ڈاکٹر اسرار احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿1﴾
) (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے اموال غنیمت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں آپ کہیے کہ اموال غنیمت کل کے کل اللہ اور رسول ﷺ کے ہیں پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے آپس کے معاملات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اگر تم مؤمن ہواِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ﴿2﴾
حقیقی مؤمن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ﴿3﴾
) جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیںاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ﴿4﴾
یہی لوگ ہیں جو حقیقی مؤمن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس (اونچے) درجات اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے۔ یہاں سے اب غزوۂ بدر کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ﴿5﴾
جیسے کہ نکالا آپ کو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ اور یقیناً اہل ایمان میں سے کچھ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے تھےیُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ﴿6﴾
وہ لوگ آپ ﷺ سے جھگڑ رہے تھے حق کے بارے میں اس کے بعد کہ بات (ان پر) بالکل واضح ہوچکی تھی (وہ لوگ ایسے محسوس کر رہے تھے) جیسے انہیں موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہو اور وہ اسے دیکھ رہے ہوں۔وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ﴿7﴾
اور یاد کرو جبکہ اللہ وعدہ کر رہا تھا تم لوگوں سے کہ ان دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا اور (اے مسلمانو !) تم یہ چاہتے تھے کہ جو بغیر کانٹے کے ہے وہ تمہارے ہاتھ آئے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فیصلے کے ذریعے سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ﴿8﴾
تا کہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ﴿9﴾
یاد کرو جبکہ تم لوگ اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی تھی کہ میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ جو پے درپے آئیں گےوَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿10﴾
اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر (تمہارے لیے) بشارت اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ﴿11﴾
یاد کرو جبکہ اللہ تمہاری تسکین کے لیے تم پر نیند طاری کر رہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس سے تمہیں پاک کرے اور تاکہ دور کر دے تم سے شیطان کی (ڈالی ہوئی) نجاست کو اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جما دےاِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ﴿12﴾
یاد کریں جب آپ ﷺ کا رب وحی کر رہا تھا فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم (جاؤ اور) اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں پس مارو ان کی گردنوں کے اوپر اور مارو ان کی ایک ایک پور پر۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿13﴾
اور یہ (سزا ان کی) اس لیے ہے کہ انہوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ دشمنی کرے تو اللہ بھی سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ﴿14﴾
(لو) یہ تو چکھو اور یہ (بھی تمہیں معلوم رہے) کہ کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہےیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ﴿15﴾
اے اہل ایمان جب تمہارا مقابلہ ہوجائے کافروں سے میدان جنگ میں تو تم ان سے پیٹھ مت پھیرنا۔وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿16﴾
اور جو کوئی بھی ان سے اس دن اپنی پیٹھ پھیرے گا سوائے اس کے کہ وہ کوئی داؤ لگا رہا ہو جنگ کے لیے یا کسی (دوسری) جمعیت سے ملنا ہو تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہےفَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿17﴾
پس (اے مسلمانو !) تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور جب آپ ﷺ نے (ان پر کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ آپ ﷺ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں تاکہ اللہ اس سے اہل ایمان کے جوہر نکھارے خوب اچھی طرح سے یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہےذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ﴿18﴾
یہ تو ہوچکا اور (آئندہ کے لیے بھی سمجھ لو کہ) اللہ کفار کی تمام چالوں کو ناکام بنا دینے والا ہےاِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠﴿19﴾
اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو تمہارے پاس (اللہ کا) فیصلہ آچکا اور اگر اب بھی تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم پھر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کچھ دوبارہ کریں گے اور تمہاری یہ جمعیت تمہارے کسی کام نہیں آسکے گی خواہ کتنی ہی زیادہ ہو اور یہ کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہےیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖع﴿20﴾
اے اہل ایمان ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اس سے منہ نہ موڑو جبکہ تم سن رہے ہووَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿21﴾
اور ان لوگوں کی مانند مت ہوجاؤ جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور حقیقت میں وہ سنتے نہیں ہیںاِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿22﴾
یقیناً تمام چوپایوں میں اللہ کے نزدیک بد ترین وہ بہرے گونگے (انسان) ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿23﴾
اور اگر اللہ کے علم میں ہوتا کہ ان میں کوئی خیر ہے تو وہ انہیں سنوا دیتا اور اگر وہ انہیں (بھلائی کے بغیر) سنوا بھی دیتا تو وہ اعراض کرتے ہوئے پیٹھ پھیر جاتے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿24﴾
اے اہل ایمان ! لبیک کہا کرو اللہ اور رسول ﷺ کی پکار پر جب وہ تمہیں پکاریں اس شے کے لیے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے اور یہ کہ (بالآخر) تم سب کو یقیناً اسی کی طرف جمع کیا جانا ہےوَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿25﴾
اور ڈرو اس فتنے سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہےوَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿26﴾
اور یاد کرو جبکہ تم تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں دبا لیے گئے تھے تمہیں اندیشہ تھا کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے تو اللہ نے تمہیں پناہ کی جگہ دے دی اور تمہاری مدد کی اپنی خاص نصرت سے اور تمہیں بہترین پاکیزہ رزق عطا کیا تاکہ تم شکر ادا کرویٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿27﴾
اے اہل ایمان ! مت خیانت کرو اللہ سے اور رسول ﷺ سے اور نہ ہی اپنی (آپس کی) امانتوں میں خیانت کرو جانتے بوجھتےوَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ع﴿28﴾
اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور یہ کہ اللہ ہی کے پاس ہے بڑا اجریٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿29﴾
اے اہل ایمان ! اگر تم اللہ کے تقویٰ پر برقرار رہو گے تو وہ تمہارے لیے فرقان پیدا کر دے گا اور دور کر دے گا تم سے تمہاری برائیاں (کمزوریاں) اور تمہیں بخش دے گا۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہےوَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ﴿30﴾
اور یاد کیجیے جب کفار آپ ﷺ کے خلاف سازشیں کر رہے تھے وہ بھی چالیں چل رہے تھے اور اللہ بھی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اللہ بہترین منصوبہ بندی کرنے والا ہےوَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿31﴾
اور جب انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بہت سن لیا ہم نے (یہ کلام) اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام ہم بھی کہہ دیں یہ کچھ نہیں سوائے پچھلے لوگوں کی کہانیوں کےوَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿32﴾
اور جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری ہی طرف سے برحق ہے تو برسا دے ہم پر پتھر آسمان سے یابھیج دے ہم پر کوئی دردناک عذاب۔وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ﴿33﴾
اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان کو عذاب دیتا جبکہ (ابھی) آپ ﷺ ان کے درمیان موجود تھے اور اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں تھا جب کہ وہ استغفار بھی کر رہے تھےوَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿34﴾
اور کیا (رکاوٹ) ہے ان کے لیے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جب کہ وہ روک رہے ہیں مسجد حرام سے (لوگوں کو) درآنحالیکہ وہ اس کے متولی بھی نہیں ہیں۔ اس کے (اصل) متولی تو صرف متقی لوگ ہیں لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتیوَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ﴿35﴾
اور نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا تو اب چکھو مزہ عذاب کا اپنے کفر کی پاداش میںاِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ﴿36﴾
یقیناً کافر لوگ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں تاکہ (لوگوں کو) روکیں اللہ کے رستے سے تو وہ (اور بھی) خرچ کریں گے پھر یہ ان کے لیے ایک حسرت بن جائے گا پھر یہ مغلوب ہو کر رہیں گے اور جو کفر پر رہیں گے وہ جہنم کی طرف گھیر کرلے جائے جائیں گےلِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿37﴾
تا کہ اللہ پاک کو ناپاک سے (چھانٹ کر) علیحدہ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے سب کو ایک ڈھیر بنا دے پھر اس کو جہنم میں جھونک دے یقیناً یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والےقُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ﴿38﴾
(اے محمد ﷺ !) آپ اعلان کردیجیے ان کافروں کے سامنے کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو جو کچھ پہلے ہوچکا ہے وہ ان کے لیے معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ دوبارہ یہی کچھ کریں گے تو پچھلوں کے حق میں سنت الٰہی گزر چکی ہےوَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿39﴾
اور (اے مسلمانو !) ان سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ (کفر) باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ یقیناً اس کو دیکھ رہا ہےوَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ﴿40﴾
اور اگر وہ روگردانی کریں تو (اے مسلمانو !) تم یہ جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ (حمایتی) ہے۔ کیا ہی خوب ہے وہ مولیٰ اور کیا ہی خوب ہے وہ مددگار !وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿41﴾
اور جان لو کہ جو بھی غنیمت تمہیں حاصل ہوئی ہے اس کا خمس (پانچواں حصہ) تو اللہ کے لیے رسول ﷺ کے لیے اور (رسول ﷺ کے) قرابت داروں کے لیے ہے اور (اس میں حصہ ہوگا) یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے (بھی) اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس شے پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن جس دن دو فوجوں کا ٹکراؤ ہوا تھا اور اللہ ہر شے پر قادر ہےاِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿42﴾
جب تم لوگ تھے قریب والے کنارے پر اور وہ لوگ تھے دور والے کنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور اگر تم لوگ آپس میں میعاد ٹھہرا کر نکلتے تو بھی وقت مقررہ (پر پہنچنے) میں تم ضرور مختلف ہوجاتے لیکن (یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ فیصلہ کردے اس کام کا جو ہونے ہی والا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ ہلاک ہو بات واضح ہوجانے کے بعد اور جسے زندہ رہنا ہے وہ زندہ رہے واضح دلیل کی بنا پر۔ یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہےاِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿43﴾
جب اللہ آپ کو دکھا رہا تھا (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں آپ کی نیند میں کم تعداد میں اور اگر آپ ﷺ کو دکھاتا کہ وہ کثیر تعداد میں ہیں (تو اے مسلمانو !) تم ضرور کمزوری دکھاتے اور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے سلامتی پیدا فرما دی۔ یقیناً وہ واقف ہے اس سے جو کچھ سینوں کے اندر ہےوَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ع﴿44﴾
اور جب تم آمنے سامنے ہوئے تو تمہاری نظروں میں انہیں (کفار کو) تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور ان کی نظروں میں تمہیں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ اللہ پورا کر دے اس معاملے کو جو ہونے والا ہی تھا۔ اور تمام معاملات (بالآخر تو) اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گےیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ﴿45﴾
اے اہل ایمان ! جب بھی تمہارا مقابلہ ہو کسی گروہ سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کرتے رہوکثرت کے ساتھ تاکہ تم فلاح پاؤوَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ﴿46﴾
اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ڈھیلے پڑجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور ثابت قدم رہو۔ یقیناً اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہےوَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ﴿47﴾
اور ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ اللہ کے راستے سے روک رہے تھے۔ اور جو کچھ وہ لوگ کر رہے تھے اللہ اس کا احاطہ کیے ہوئے تھا۔وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ع﴿48﴾
اور جب شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کردیا تھا اور اس نے (ان سے) کہا تھا کہ آج تم پر انسانوں میں سے کوئی غالب نہیں آسکتا اور میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں پھر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے پھر گیا اور کہنے لگا کہ میں تم سے لا تعلق ہوں میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو مجھے اللہ کا خوف ہے۔ اور اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿49﴾
جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا اِن (مسلمانوں) کو تو ان کے دین نے بالکل دھوکے میں ڈال دیا ہے اور (انہیں کیا پتا کہ) جو کوئی توکل کرتا ہے اللہ پر تو اللہ زبردست ہے حکمت والا ہےوَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ﴿50﴾
اور کاش تم دیکھ سکتے جب قبض کرتے ہیں فرشتے ان کافروں کی جانوں کو ضربیں لگاتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر اور (کہتے ہیں کہ اب) چکھو جلنے کا عذاب۔ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ﴿51﴾
یہ وہ کچھ ہے جو تمہارے اپنے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اللہ تو ہرگز اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہےكَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿52﴾
(ان کے ساتھ وہی معاملہ ہوا) جیسے کہ معاملہ ہوا آل فرعون کا اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے انہوں نے اللہ کی آیات کا کفر کیا تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا ان کے گناہوں کی پاداش میںذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿53﴾
یہ اس لیے کہ اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کوئی نعمت جو اس نے کسی قوم کو دی ہو اس میں تغیر کرے جب تک کہ وہ قوم اپنی اندرونی کیفیت کو متغیر نہ کر دے) اور یہ کہ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہےكَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ﴿54﴾
جیسا کہ معاملہ ہوا آل فرعون کا اور جو ان سے پہلے تھے انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا ان کے گناہوں کی پاداش میں اور آل فرعون کو ہم نے غرق کردیا اور یہ سب کے سب ظالم تھےاِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ﴿55﴾
یقیناً بدترین چوپائے اللہ کے نزدیک یہی لوگ ہیں جو کفر کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ﴿56﴾
وہ لوگ جن سے (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے معاہدہ کیا تھا پھر وہ ہر مرتبہ اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور وہ (اس بارے میں) ڈرتے نہیں ہیںفَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿57﴾
تو اگر آپ ﷺ انہیں جنگ میں پاجائیں تو ان کو ایسی سزا دیں کہ جو ان کے پیچھے ہیں ان کو بھی خوف زدہ کردیں تاکہ وہ عبرت حاصل کریںوَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ع﴿58﴾
اور اگر آپ ﷺ کو اندیشہ ہوجائے کسی قوم کی طرف سے بدعہدی کا تو پھینک دیجیے (ان کا معاہدہ) ان کی طرف کھلم کھلا یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتاوَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ﴿59﴾
اور نہ سمجھیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے کہ وہ بچ نکلے ہیں وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکیں گےوَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴿60﴾
اور تیار رکھو ان کے (مقابلے کے) لیے اپنی استطاعت کی حد تک طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے (تا کہ) تم اس سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرا سکو اور کچھ دوسروں کو (بھی) جو ان کے علاوہ ہیں تم انہیں نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب پورا پورا تمہیں دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں ہوگیوَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿61﴾
اور (اے نبی ﷺ !) اگر وہ اپنے بازو جھکا دیں امن کے لیے تو آپ بھی جھک جائیں اس کے لیے اور اللہ پر توکل کیجیے یقیناً وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿62﴾
اور اگر وہ ارادہ رکھتے ہوں آپ ﷺ کو دھوکہ دینے کا تب بھی (آپ ﷺ گھبرایئے نہیں) آپ ﷺ کے لیے اللہ کافی ہے اور وہی تو ہے (اللہ) جس نے آپ ﷺ کی مدد کی ہے اپنی نصرت سے اور اہل ایمان کے ذریعے سے۔وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿63﴾
اور اِن (اہل ایمان) کے دلوں میں اس نے الفت پیدا کردی۔ اگر آپ ﷺ زمین کی ساری دولت بھی خرچ کردیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہیں کرسکتے تھے لیکن یہ تو اللہ نے ان کے مابین (ایسی) الفت پیدا کردی یقیناً وہ زبر دست ہے حکمت والا ہےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿64﴾
اے نبی ﷺ آپ کے لیے کافی ہے اللہ اور وہ جو پیروی کر رہے ہیں آپ کی اہل ایمان میں سےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ﴿65﴾
اے نبی ﷺ ترغیب دلائیے اہل ایمان کو قتال کی اگر تم میں سے بیس افراد ہوں گے صبر کرنے والے اور اگر ہوں گے تم میں سے سو افراد تو وہ غالب آجائیں گے کفار کے ایک ہزار افراد پر (ثابت قدم) تو وہ دو سو افراد پر غالب آجائیں گے یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتےاَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴿66﴾
اب اللہ نے تم پر سے تخفیف کردی ہے اور اللہ کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری آگئی ہے پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے اور یقیناً اللہ صبر کرنے والوں (ثابت قدم رہنے والوں) کے ساتھ ہےمَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿67﴾
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی ہوں جب تک کہ وہ (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں خوب خونریزی نہ کر دے تم دنیا کا سازو سامان چاہتے ہو اور اللہ کے پیش نظر آخرت ہے۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہےلَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿68﴾
اگر اللہ کی طرف سے بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جو کچھ (فدیہ وغیرہ) تم نے لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا سخت عذاب آتافَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿69﴾
تو اب کھاؤ جو کچھ تمہیں ملا ہے غنیمت میں سے (کہ وہ تمہارے لیے) حلال اور طیب (ہے) اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿70﴾
اے نبی ﷺ کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو آپ کے قبضے میں قیدی ہیں اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لے لیا گیا ہے وہ اس سے بہتر تمہیں دے دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہےوَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿71﴾
اور اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے خیانت کرنا چاہیں تو اس سے پہلے یہ اللہ سے بھی خیانت کرتے رہے ہیں تو اللہ نے ان کو پکڑوا دیا۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہےاِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿72﴾
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنہوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی مدد کی یہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی تمہارا (اب) ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں حتیٰ کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر واجب ہے مگر کسی ایسی قوم کے خلاف (نہیں) کہ ان کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہےوَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ﴿73﴾
اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اگر تم یہ (اِن قواعد و ضوابط کی پابندی) نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بہت بڑا فساد برپا ہوجائے گاوَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ﴿74﴾
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں (یعنی مہاجرین) اور وہ لوگ (انصار مدینہ) جنہوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی نصرت کی یہی لوگ ہیں سچے مؤمن۔ ان کے لیے ہے مغفرت اور رزق کریموَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿75﴾
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو (اے مسلمانو !) وہ تم میں سے ہی ہیں اور رحمی رشتے دار اللہ کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں یقیناً اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے