38. Saadص
The letter Saad · Meccan · 88 ayahs · 5 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ﴿1﴾
ص۔ قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی۔بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ﴿2﴾
کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے اپنایا ہے کہ وہ بڑائی کے گھمنڈ اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ﴿3﴾
اور ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں کو ہلاک کیا، تو انہوں نے اس وقت آوازیں دیں جب چھٹکارے کا وقت رہا ہی نہیں تھا۔وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ﴿4﴾
اور ان (قریش کے) لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ ایک خبردار کرنے والا انہی میں سے آگیا۔ اور ان کافروں نے یہ کہہ دیا کہ : وہ جھوٹا جادوگر ہے۔اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ﴿5﴾
کیا اس نے سارے معبودوں کو ایک ہی معبود میں تبدیل کردیا ہے ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ﴿6﴾
اور ان میں کے سردار لوگ یہ کہہ کر چلتے بنے کہ : چلو اور اپنے خداؤں (کی عبادت) پر ڈٹے رہو یہ بات تو ایسی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی ارادے ہیں۔مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ﴿7﴾
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں کبھی نہیں سنی۔ اور کچھ نہیں، یہ من گھڑت بات ہے۔ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ﴿8﴾
کیا یہ نصیحت کی بات ہم سب کو چھوڑ کر اسی شخص پر نازل کی گئی ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ میری نصیحت کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ﴿9﴾
تمہارا رب جو بڑا داتا، بڑا صاحب اقتدار ہے، کیا اس کی رحمت کے سارے خزانے انہی کے پاس ہیں ؟اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ﴿10﴾
یا پھر آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کی بادشاہت ان کے قبضے میں ہے ؟ پھر تو انہیں چاہیے کہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ جائیں۔جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ﴿11﴾
(ان کی حقیقت تو یہ ہے کہ) یہ مخالف گروہوں کا ایک لشکر سا ہے جو یہیں پر شکست کھاجائے گا۔كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ﴿12﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم، قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ﴿13﴾
اور قوم ثمود، اور لوط کی قوم اور ایکہ والوں نے بھی۔ وہ تھے مخالف گروہ کے لوگ۔اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ع﴿14﴾
ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو، اس لیے میرا عذاب بجا طور پر نازل ہو کر رہا۔وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴿15﴾
اور (کہ) یہ لوگ (بھی) بس ایک ایسی چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ﴿16﴾
اور کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمار احصہ ہمیں روز حساب سے پہلے ہی جلدی دیدے۔اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴿17﴾
(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد ؑ کو یاد کرو جو بڑے طاقتور تھے۔ وہ بیشک اللہ سے بہت لو لگائے ہوئے تھے۔اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ﴿18﴾
ہم نے پہاڑوں کو اس کام پر لگا دیا تھا کہ وہ شام کے وقت اور سورج کے نکلتے وقت ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں۔وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ﴿19﴾
اور پرندوں کو بھی، جنہیں اکٹھا کرلیا جاتا تھا۔ یہ سب ان کے ساتھ ملکر اللہ کا خوب ذکر کرتے تھے۔وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ﴿20﴾
اور ہم نے ان کی سلطنت کو استحکام بخشا تھا، اور انہیں دانائی اور فیصلہ کن گفتگو کا سلیقہ عطا کیا تھا۔وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ﴿21﴾
اور کیا تمہیں ان مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پر چڑھ کر عبادت گاہ میں گھس آئے تھے ؟اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ﴿22﴾
جب وہ داؤد کے پاس پہنچے تو داؤد ان سے گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا ڈریے نہیں، ہم ایک جھگڑے کے دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اب آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیجیے اور زیادتی نہ کیجیے، اور ہمیں ٹھیک ٹھیک راستہ بتا دیجیے۔اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ﴿23﴾
یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں، اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کرو، اور اس نے زور بیان سے مجھے دبا لیا ہے۔قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩۩﴿24﴾
داؤد نے کہا : اس نے اپنی دنبیوں میں شامل کرنے کے لیے تمہاری دنبی کا جو مطالبہ کیا ہے اس میں یقینا تم پر ظلم کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ جن کے درمیان شرکت ہوتی ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اور وہ بہت کم ہیں۔ اور داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے دراصل ان کی آزمائش کی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگی، جھک کر سجدے میں گرگئے اور اللہ سے لو لگائی۔فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ﴿25﴾
چنانچہ ہم نے اس معاملہ میں انہیں معافی دے دی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے اور بہترین ٹھکانا۔یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ع﴿26﴾
اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو، اور نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا تھا۔وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ﴿27﴾
اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں ان کو فضول ہی پیدا نہیں کردیا۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، چنانچہ ان کافروں کے لیے دوزخ کی شکل میں بڑی تباہی ہے۔اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ﴿28﴾
جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں کیا ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر کردیں جو زمین میں فساد مچاتے ہیں ؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴿29﴾
(اے پیغمبر) یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تم پر اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں، اور تاکہ عقل رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ﴿30﴾
اور ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا کیا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ﴿31﴾
(وہ ایک یادگار وقت تھا) جب ان کے سامنے شام کے وقت اچھی نسل کے عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ﴿32﴾
تو انہوں نے کہا : میں نے اس دولت کی محبت اپنے پروردگار کی یاد ہی کی وجہ سے اختیار کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چھپ گئے۔رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ﴿33﴾
(اس پر انہوں نے کہا) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ، چنانچہ وہ (ان کی) پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ﴿34﴾
اور یہ بھی واقعہ ہے کہ ہم نے سلیمان کی ایک آزمائش کی تھی اور ان کی کرسی پر ایک دھڑ لا کر ڈال دیا تھا۔ پھر انہوں نے (اللہ سے) رجوع کیا۔قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ﴿35﴾
کہنے لگے کہ : میرے پروردگار ! میری بخشش فرما دے، اور مجھے ایسی سلطنت بخش دے جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ہی ذات وہ ہے جو اتنی سخی داتا ہے۔فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ﴿36﴾
چنانچہ ہم نے ہوا کو ان کے قابو میں کردیا جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے ہموار ہو کر چلا کرتی تھی۔وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ﴿37﴾
اور شریر جنات بھی ان کے قابو میں دے دیے تھے، جن میں ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور شامل تھے۔وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ﴿38﴾
اور کچھ وہ جنات جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿39﴾
(اور ان سے کہا تھا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے، اب تمہیں اختیار ہے کہ احسان کر کے کسی کو کچھ دو ، یا اپنے پاس رکھو، تم پر کسی حساب کی ذمہ داری نہیں ہے۔وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ع﴿40﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے، اور بہترین ٹھکانا۔وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ﴿41﴾
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا تھا کہ : شیطان مجھے دکھ اور آزار لگا گیا ہے۔اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ﴿42﴾
(ہم نے ان سے کہا) اپنا پاؤں زمین پر مارو، لو ! یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کے لیے بھی اور پینے کے لیے بھی۔وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ﴿43﴾
اور (اس طرح) ہم نے انہیں ان کے گھر والے بھی عطا کردیے۔ اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی۔ تاکہ ان پر ہماری رحمت ہو، اور عقل والوں کے لیے ایک یادگار نصیحت۔وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴿44﴾
اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو، اور اس سے مار دو ، اور اپنی قسم مت توڑو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے، واقعہ وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ﴿45﴾
اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو (نیک عمل کرنے والے) ہاتھ اور (دیکھنے والی) آنکھیں رکھتے تھے۔اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ﴿46﴾
ہم نے انہیں ایک خاص وصف کے لیے چن لیا تھا، جو (آخرت کے) حقیقی گھر کی یاد تھی۔وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ﴿47﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نزدیک وہ چنے ہوئے بہترین لوگوں میں سے تھے۔وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ﴿48﴾
اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو۔ اور یہ سب بہترین لوگوں میں سے تھے۔هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ﴿49﴾
یہ سب کچھ ایک نصیحت کا پیغام ہے، اور یقین جانو کہ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں، آخری ٹھکانے کی بہترین انہی کے حصے میں آئے گی۔جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ﴿50﴾
یعنی ہمیشہ بسے رہنے کے لیے جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے پوری طرح کھلے ہوں گے۔مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ﴿51﴾
جہاں وہ تکیہ لگائے ہوئے بہت سے میوے اور مشروبات منگوا رہے ہوں گے۔وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ﴿52﴾
اور ان کے پاس وہ ہم عمر خواتین ہوں گی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ﴿53﴾
یہ ہے وہ (نعمتوں سے بھر پور زندگی) جس کا تم سے ر وز حساب میں وعدہ کیا گیا ہے۔اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ﴿54﴾
بیشک یہ ہماری عطا ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ﴿55﴾
ایک طرف تو یہ ہے اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ہے، یقین جانو، ان کا آخری ٹھکانا بہت برا ہوگا۔جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ﴿56﴾
یعنی دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے۔ پھر وہ ان کا بدترین بستر بنے گی۔هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ﴿57﴾
یہ ہے کھولتا ہوا پانی اور پیپ، اب وہ اس کا مزہ چکھیں۔وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ﴿58﴾
اور ان طرح طرح کی چیزوں کا جو اسی جیسی (تکلیف دہ) ہوں گی۔هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴿59﴾
(جب وہ اپنے پیروکاروں کو آتا دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے کہیں گے) یہ ایک اور لشکر ہے جو تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، پھٹکار ہو ان پر، یہ سب آگ میں جلنے والے ہیں۔قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴿60﴾
وہ (آنے والے) کہیں گے : نہیں، بلکہ پھٹکار تم پر ہو، تم ہی تو یہ مصیبت ہمارے آگے لائے ہو، اب تو یہی بدترین جگہ ہے جس میں رہنا ہوگا۔قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ﴿61﴾
(پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ! جو شخص بھی یہ مصیبت ہمارے آگے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دیجیے۔وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ﴿62﴾
اور وہ (ایک دوسرے سے) کہیں گے : کیا بات ہے کہ ہمیں وہ لوگ (یہاں دوزخ میں) نظر نہیں آرہے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ﴿63﴾
کیا ہم نے ان کا (ناحق) مذاق اڑایا تھا، یا انہیں دیکھنے سے نگاہوں کی غلطی لگ رہی ہے ؟اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ع﴿64﴾
یقینا دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی یہ ساری باتیں بالکل سچی ہیں جو ہو کر رہیں گی۔قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ﴿65﴾
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : میں تو ایک خبردار کرنے والا ہوں، اور اس اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو ایک ہے، جو سب پر غالب ہے۔رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ﴿66﴾
جو تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک ہے، جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے، جو بہت بخشنے والا ہے۔قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ﴿67﴾
کہہ دو کہ : یہ ایک عظیم حقیقت کا اظہار ہے۔اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ﴿68﴾
جس سے تم منہ موڑے ہوئے ہو۔مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ﴿69﴾
مجھے عالم بالا کی باتوں کا کچھ علم نہیں تھا جب وہ (فرشتے) سوال و جواب کر رہے تھے۔اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿70﴾
میرے پاس وحی صرف اس لیے آتی ہے کہ میں صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ﴿71﴾
یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گارے سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں۔فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ﴿72﴾
چنانچہ جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ﴿73﴾
پھر ہوا یہ کہ سارے کے سارے فرشتوں نے تو سجدہ کیا۔اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿74﴾
البتہ ابلیس نے نہ کیا، اس نے تکبر سے کام لیا اور کافروں میں شامل ہوگیا۔قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ﴿75﴾
اللہ نے کہا : ابلیس ! جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا ہے ؟ کیا تو نے تکبر سے کام لیا ہے، یا تو کوئی بہت اونچی ہستیوں میں سے ہے ؟قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ﴿76﴾
کہنے لگا : میں اس (آدم) سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو گارے سے پیدا کیا ہے۔قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ﴿77﴾
اللہ نے فرمایا کہ اچھا تو نکل جا یہاں سے۔ کیونکہ تو مردود ہے۔وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ﴿78﴾
اور یقین جان قیامت کے دن تک تجھ پر میری پھٹکار رہے گی۔قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴿79﴾
اس نے کہا : میرے پروردگار ! پھر تو مجھے اس دن تک کے لیے (جینے کی) مہلت دیدے جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ﴿80﴾
اللہ نے فرمایا : چل تجھے ان لوگوں میں شامل کرلیا گیا ہے جنہیں مہلت دی جائے گی۔اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ﴿81﴾
(لیکن) ایک متعین وقت کے دن تک۔قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿82﴾
کہنے لگا : بس تو میں تیری عزت کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان سب کو بہکاؤں گا۔اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ﴿83﴾
سوائے تیرے برگزیدہ بندوں کے۔قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ﴿84﴾
اللہ نے فرمایا : تو پھر سچی بات یہ ہے اور میں سچی بات ہی کہا کرتا ہوں۔لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿85﴾
کہ میں تجھ سے اور ان سب سے جو ان میں سے تیرے پیچھے چلیں گے، جہنم کو بھر کر رہوں گا۔قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ﴿86﴾
(اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ : میں تم سے اس (اسلام کی دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں۔اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿87﴾
یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے بس ایک نصیحت ہے۔وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ع﴿88﴾
اور تھوڑے سے وقت کے بعد تمہیں اس کا حال معلوم ہوجائے گا۔