Anwar-ul-Bayan - Al-Qasas : 8
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ
فَالْتَقَطَهٗٓ : پھر اٹھا لیا اسے اٰلُ فِرْعَوْنَ : فرعون کے گھر والے لِيَكُوْنَ : تاکہ وہ ہو لَهُمْ : ان کے لیے عَدُوًّا : دشمن وَّحَزَنًا : اور غم کا باعث اِنَّ : بیشک فِرْعَوْنَ : فرعون وَهَامٰنَ : اور ہامان وَجُنُوْدَهُمَا : اور ان کے لشکر كَانُوْا : تھے خٰطِئِيْنَ : خطا کار (جمع)
تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ ان کا دشمن اور (انکے لئے موجب) غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر چوک گئے
(28:8) فالتقطہ :جملہ محذوف پر عطف ہے ای ففعلت ما امرت بہ من ارضاعہ والقائد فی الیم لما خافت علیہ۔ یعنی دودھ پلانے اور جان کے خوف کی صورت میں دریا میں ڈال دینے کے متعلق جو اسے کہا گیا تھا اس نے ایسا ہی کیا۔ التقط التقاط (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر گا ئب ہے جس کے معنی بلا قصد و طلب کسی چیز کو پانے اور اس کو اٹھا لینے کے ہیں۔ یہاں صیغہ واحد جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی ال فرعون (فرعون کے لوگوں نے) اسے اٹھالیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بطرف موسیٰ ۔ لیکون۔ میں لام عاقبت کا ہے ۔ یعنی انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا سے اس لئے نہیں نکالا تھا کہ وہ بڑا ہو کر ان کا دشمن بنے اور رنج و غم کا باعث بنے لیکن ان کے فعل کا انجام عاقبۃ یہی نکلا۔ لام عاقبت یا لام مآل کسی فعل پر مرتب ہونے والے نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ خواہ واقع میں اس نتیجہ کے حصول کے لئے وہ کام نہ کیا گیا ہو۔ اس کی مثال ربان انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک (10:88) فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور مال وزر اس واسطے نہیں دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو خدا کے راستے سے گمراہ کریں لیکن اس دادودہش پر جو نتیجہ مرتب ہوا وہ یہی تھا کہ وہ لوگوں کو راہ راست سے گمراہ کرتے رہے۔ اسی طرح آیت ہذا میں فرعون کے لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا سے اس واسطہ نہیں نکالا تھا کہ وہ ان کا دشمن بنے اور باعث حزن و الم ہو لیکن اس کا مال و انجام کار یہی ہوا۔ بعض نے اس کو لام علت ہی قرار دیا ہے اور چونکہ واقع میں لام کا مابعد لام کے ماقبل کے لئے علت نہیں ہے اس لئے اس کو لام تعلیل واقعی نہیں بلکہ تعلیل نما کہا جائے گا۔ یعنی فعل کا نتیجہ یہ نکلا خواہ کام اس نتیجہ کے لئے نہیں کیا گیا تھا۔ تو اس جملہ کا ترجمہ یہ ہوگا :۔ فرعون کے آدمیوں نے اس کو ٹھا لیا کہ (بمقضائے مشیت ایزدی) وہ (انجام کار) ان کا دشمن بنے اور ان کے لئے حزن و ملال کا باعث بنے۔ مفصل بحث کے لئے ملاحظہ ہو اضواء البیان تفسیر سورة القصص۔ کانوا خطئین۔ وہ خطا کار تھے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یعنی بوجہ ظلم و کفر کے وہ خطا کار تھے۔ اور ایسے ظالموں اور کافروں کو سزا ملنی ہی چاہیے تھی۔ (کہ خواد ان کے ہاتھوں ان کا دشمن پروان چڑھے) جو مال کار ان کی تباہی کا سبب ہو۔ (2) دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے اس محل میں بڑے خطاکار اور بڑے لغزش کھانے والے ثابت ہوئے۔ (3) تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کانوا خطئین : فی کل شیء فلیس خطؤہم فی تربیۃ عدوھم یبدع منھم۔ یعنی وہ تو ہر امر میں خطاکار رہے تھے۔ لہٰذا اپنے ہاتھوں اپنے دشمن کو ترتیب دینا ان کے لئے کوئی انوکھی بات نہ تھی۔
Top