Tafseer-e-Madani - Al-Hashr : 10
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
نیز (یہ مال) ان لوگوں کا (حق ہے) جو ان سب کے بعد آئے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لئے کسی قسم کا کوئی کھوٹ نہ رکھ اے ہمارے رب بلاشبہ تو بڑا ہی شفیق انتہائی مہربان ہے1
[ 30] متأخرین کیلئے صحیح رویے کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ متاخرین کیلئے صحیح رویہ متقدمین کیلئے دعا کرنا ہے۔ سو اس سے دو اہم باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ دعا صرف اپنے لئے ہی نہیں دوسروں کے لئے بھی کرنی چاہیے، خاص کر ان لوگوں کیلئے جو پہلے گزر چکے ہوں، اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اصل رشتہ جو درکار ہے اور جو دعا کا باعث اور محرک بن سکتا ہے، اور جس کی بنا پر دعاء نفع دے سکتی ہے وہ رشتہ ایمان کا رشتہ ہے، جو سب رشتوں سے بڑھ کر ہے، جو اس دار فانی کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی کام آئے گا، جب کہ اس کے علاوہ دوسرے تمام رشتے اور تعلقات کٹ جائینگے اور وہ سب کے سب اسی جہاں میں رہ جائیں گے، مگر افسوس کہ آج کتنے ہی مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے ایمان کے اس مقدس رشتے کو ثانوی حیثیت دے رکھی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس ارشاد میں متاخرین کیلئے اس صحیح روئیے کی نشاندہی فرما دی گئی جو ان کو متقدمین کیلئے رکھنا چاہئے، کہ انکا رویہ انکے لئے کسی حسد یا بدظنی کا نہیں، نیک نیتی اور خیر خواہی کا ہونا چاہئے، اس لیے ایسے لوگ اپنے ان پیش رو دینی بھائیوں کیلئے مخلصانہ دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بھی بخشش فرما دے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ایمان کے ساتھ ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، بیشک تو اے ہمارے رب بڑا ہی شفیق نہایت ہی مہربان ہے۔ [ 31] صحابہء کرام ؓ سے بغض رکھنے والے کافر۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور مستحقین " فئی " کی تیسری قسم کی صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کے بارے میں کوئی کھوٹ نہیں رکھنا۔ سو یہ تیسری قسم ہے ان حضرات کی جو مال فیئی کے حق دار ہیں، اور جو قیامت تک کے سب مسلمانوں کو شامل ہے، اسی لئے روایات میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے " روف رحیم " تک یہ آیت کریمہ پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ قیامت تک کے سب مسلمانوں کو شامل ہے، کیونکہ یہاں مہاجرین و انصار کے بعد ان سب مسلمانوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو قیامت تک آنے والے ہیں، اور اس تیسری قسم میں یہ وصف بطور خاص قابل ذکر ولحاظ ہے کہ وہ اپنے سے پہلے والوں کیلئے مغفرت و بخشش کی دعا کرتے ہیں، اور ہر قسم کے کھوٹ سے پناہ مانگتے ہیں، پس جو شخص صحابہء کرام ؓ سے بغض وعناد رکھے اور ان پر سب وشتم کرے وہ مسلمان نہیں کافر ہے۔ کہ وہ مسلمانوں کے ان تینوں گروہوں میں سے کسی ایک میں بھی داخل نہیں، اس لئے حضرت امام مالک (رح) اس آیت کریمہ سے یہی معنی و مفہوم استباط کرکے ارشاد فرماتے ہیں، کہ ایسا شخص مال غنیمت کا مستحق نہیں ہوسکتا [ ابن کثیر، روح المعانی، قرطبی، صفوۃ التفاسیر، حاشیہ زادہ علی البیضاوی التحریر والتنویر، مظہری اور احکام القرآن وغیرہ ] اور امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ روافض یہود و نصاری سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان لوگوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہاری امت میں سے سب افضل کون ہے ؟ تو یہودی کہتے ہیں اصحاب موسیٰ ، اور نصاری کہتے ہیں اصحاب عیسیٰ ، لیکن روا فض کے نزدیک اصحاب محمد ﷺ سب سے برے لوگ ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اللہ نے تو ان کیلئے رحمت و بخشش کی دعاء کی تعلیم و ہدایت فرمائی اور ان کو " رضی اللّٰہ عنہم " کی سند سے نواز دیا۔ مگر یہ لوگ ان پر سب وشتم اور تبرا بازی کرتے ہیں، پس ایسے لوگوں پر قیامت تک تلوار لٹکتی رہے گی، [ خازن، صفوۃ وغیرہ ] اسی آیت کریمہ سے حضرت امام مالک (رح) نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ روافض چونکہ ان تینوں گروہوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں، اس لئے ان کو مال غنیمت و فیئی سے حصہ لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، اور امام ابن کثیر اس کی تائید و تصویب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ما احسن ما استنبط۔ یعنی " کیا ہی خوب استنباط کیا ہے " [ قرطبی، مظہری اور صفوۃ وغیرہ ]
Top