Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
جو لوگ ڈرتے9 ہیں اپنے رب سے بن دیکھے ان کے لیے معافی ہے اور ثواب بڑا
9:۔ ” ان الذین یخشون “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں حالانکہ عذاب آنکھوں سے دیکھا بھی نہیں، ان کے لیے گناہوں کی معافی کے علاوہ بہت بڑا اجر وثواب تیار ہے۔ ” واسروا قولکم “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ ” انہ علیم بذات الصدور “ جملہ تعلیلیہ ہے، یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آہستہ پکارو یا اونچی آواز سے پکارو وہ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے قالہ الشیخ۔ یا یہ خطاب مشرکین سے مخصوص ہے جو کفر و عداوت کی باتیں کرتے اور آپس میں کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا رب سن کر اس کو اطلاع نہ دیدے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قال ابن عباس و سببہ ان بعض المشرکین قال لبعض اسروا قولکم لا یسمعکم الہ محمد (بحر ج 8 ص 300) ۔ ” الا یعلم من خلق “ بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ جانتا نہیں اور ساتھ ہی وہ ظاہر و باطن اور نہاں وعیاں کو جاننے والا بھی ہے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
Top